سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. بَابُ
حیض سے متعلقہ احکام کا بیان
ترقیم العلمیہ : 825 ترقیم الرسالہ : -- 837
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ الإِسْكَافِيُّ ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ ، بِهَذَا نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 837]
ترقیم العلمیہ: 825
تخریج الحدیث: «إسناده حسن صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 619، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 287، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 128، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 622، 627، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1632، 1633، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 834، 835، 836، 837، 838، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27788»
«قال أحمدبن حنبل: حسن صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (1 / 432)»
«قال أحمدبن حنبل: حسن صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (1 / 432)»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن صحيح
ترقیم العلمیہ : 826 ترقیم الرسالہ : -- 838
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أنا الشَّافِعِيُّ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 838]
ترقیم العلمیہ: 826
تخریج الحدیث: «إسناده حسن صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 619، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 287، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 128، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 622، 627، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1632، 1633، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 834، 835، 836، 837، 838، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27788»
«قال أحمدبن حنبل: حسن صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (1 / 432)»
«قال أحمدبن حنبل: حسن صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (1 / 432)»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن صحيح
ترقیم العلمیہ : 827 ترقیم الرسالہ : -- 839
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ أَبُو بِشْرٍ ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ فَلْتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ"، فَجَلَسَتْ فِيهِ حَتَّى رَأَتِ الصُّفْرَةَ فَوْقَ الْمَاءِ، فَقَالَ:" تَغْتَسِلُ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلا وَاحِدًا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلا وَاحِدًا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ غُسْلا وَاحِدًا، ثُمَّ تَتَوَضَّأُ بَيْنَ ذَلِكَ" .
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! فاطمہ بنت ابوحبیش کو اتنے عرصے سے استحاضہ کی شکایت ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے! یہ شیطان کی طرف سے ہے۔ اسے کسی بڑے برتن میں بیٹھنا چاہیے۔“ وہ خاتون اس پر بیٹھی تو اس کے حیض کی زردی غالب آ گئی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ ظہر اور عصر کے لیے ایک مرتبہ غسل کرے اور مغرب اور عشاء کے لیے ایک مرتبہ غسل کرے۔ پھر فجر کے لیے الگ سے غسل کرے اور اس کے درمیان میں وضو کر لیا کرے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 839]
ترقیم العلمیہ: 827
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 623، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 296، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1687، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 839، 840، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 632، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 2730، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 370»
ترقیم العلمیہ : 828 ترقیم الرسالہ : -- 840
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ مُسْلِمٍ الصَّيْرَفِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لَمْ تُصَلِّ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَذَكَرَ كَلِمَةً بَعْدَهَا أَيَّامُ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي وَتُؤَخِّرُ مِنَ الظُّهْرِ وَتُعَجِّلُ مِنَ الْعَصْرِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلا وَاحِدًا، وَتُؤَخِّرُ مِنَ الْمَغْرِبِ وَتُعَجِّلُ مِنَ الْعِشَاءِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلا وَتُصَلِّي" .
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! فاطمہ بنت ابوحبیش نے اتنے عرصے سے نماز ادا نہیں کی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! یہ کسی اور رگ کا خون ہے۔“ پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض کے ایام کے بارے میں کوئی بات ارشاد فرمائی۔ پھر فرمایا: ”وہ ظہر کو موخر کرے، عصر کو جلدی کرے، پھر ان کے لیے غسل کر کے دونوں کو ایک ساتھ نماز ادا کرے۔ مغرب کو موخر کرے، عشاء کو جلدی کرے اور ان دونوں کے لیے ایک مرتبہ غسل کر کے نماز ادا کرے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 840]
ترقیم العلمیہ: 828
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 623، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 296، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1687، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 839، 840، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 632، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 2730، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 370»
ترقیم العلمیہ : 829 ترقیم الرسالہ : -- 841
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ ، قَالا: نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ، فَلَبِثَتْ زَمَانًا لا تُصَلِّي، فَأَتَتْ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ خَافَتْ أَنْ تَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَلا تَكُونُ لَهَا فِي الإِسْلامِ حَظٌّ أَلْبَثُ زَمَانًا لا أَقْدِرُ عَلَى صَلاةٍ مِنَ الدَّمِ، فَقَالَتْ لَهَا: امْكُثِي حَتَّى يَدْخُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْأَلِينَهُ عَمَّا سَأَلْتِنِي عَنْهُ، فَدَخَلَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ، ذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ وَتَلْبَثُ الزَّمَانَ لا تَقْدِرُ عَلَى الصَّلاةِ، وَتَخَافُ أَنْ تَكُونَ قَدْ كَفَرَتْ أَوْ لَيْسَ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ فِي الإِسْلامِ حَظٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولِي لِفَاطِمَةَ تُمْسِكُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ عَنِ الصَّلاةِ عَدَدَ قُرْئِهَا، فَإِذَا مَضَتْ تِلْكَ الأَيَّامُ فَلْتَغْتَسِلْ غَسْلَةً وَاحِدَةً، تَسْتَدْخِلُ وَتُنَظِّفُ وَتَسْتَثْفِرُ، ثُمَّ الطَّهُورِ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ وَتُصَلِّي فَإِنَّ الَّذِي أَصَابَهَا رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ أَوْ دَاءٌ عَرَضَ لَهَا" . قَالَ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ: فَسَأَلْنَا هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ ، فَأَخْبَرَنِي بِنَحْوِهِ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَقَالَ أَبُو الأَشْعَثِ فِي الإِسْنَادِ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ خَالَتُهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ.
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں: سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کی شکایت ہوئی۔ انہوں نے اتنے عرصے سے نماز ادا نہیں کی۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بولیں: ”اے ام المؤمنین! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں جہنمی نہ ہو جاؤں اور ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہ رہے۔ ایک بڑا عرصہ گزر چکا ہے جس میں میں نے نماز نہیں پڑھی۔ مجھے استحاضہ کا خون خارج ہوتا ہے۔“ سیدہ عائشہ نے کہا: ”تم ٹھہر جاؤ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو آپ سے اس طرح دریافت کرنا جس طرح مجھ سے ذکر کیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ فاطمہ بنت ابوحبیش ہے۔ اس نے مجھ سے ذکر کیا ہے کہ اس کو استحاضہ کی شکایت ہے اور یہ کافی عرصے سے نماز ادا کرنے پر قادر نہیں ہو سکی۔ اسے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں یہ کافر نہ ہو جائے یا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسلام میں اس کا کوئی حصہ نہ رہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم فاطمہ سے کہو کہ وہ ہر مہینے میں اپنے حیض کے مخصوص ایام کے دوران نماز کو ترک کر دے۔ جب وہ مخصوص ایام گزر جائیں تو وہ ایک مرتبہ غسل کر کے اپنی شرمگاہ پر روئی رکھ کر اس پر ایک چوڑی پٹی باندھ لے تاکہ (خون باہر نہ نکلے)۔ پھر ہر نماز کے لیے وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرے۔ اسے جو چیز لاحق ہوئی ہے وہ شیطان کا ٹھونگا ہے یا کوئی رگ ہے جو منقطع ہو گئی ہے یا کوئی بیماری ہے جو اسے لاحق ہو گئی ہے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 841]
ترقیم العلمیہ: 829
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 228، 306، 320، 325، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 333، 333، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 198، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1348، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 622،، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 201، 3555، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 280، 281، 282، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 125، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 801، 806، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 620، 621، 624، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 841، 842، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 193، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 230، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24779»
ترقیم العلمیہ : 830 ترقیم الرسالہ : -- 842
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَاتِبُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْقُرَشِيُّ ، ثنا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: جَاءَتْ خَالَتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَقَعَ فِي النَّارِ إِنِّي أَدَعُ الصَّلاةَ سَنَتَيْنِ أَوْ سِنِينَ لا أُصَلِّي، فَقَالَتِ: انْتَظِرِي حَتَّى يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ، فَقَالَتْ: هَذِهِ فَاطِمَةُ، تَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولِي لَهَا فَلْتَدَعِ الصَّلاةَ فِي كُلِّ شَهْرٍ أَيَّامَ قُرْئِهَا ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ فِي كُلِّ يَوْمٍ غُسْلا وَاحِدًا ثُمَّ الطَّهُورُ بَعْدُ لِكُلِّ صَلاةٍ، وَلْتُنَظِّفْ وَلْتَحْتَشِيَ فَإِنَّمَا هُوَ دَاءٌ عَرَضَ أَوْ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ" .
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں: میری خالہ سیدہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بولیں: ”مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں جہنم میں نہ چلی جاؤں کیونکہ میں نے دو برس سے (راوی کو شک ہے اس میں یہ الفاظ ہیں) کئی برس سے نماز ادا نہیں کی۔“ سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”تم انتظار کرو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو (ان سے دریافت کرنا)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو سیدہ عائشہ نے بتایا: ”یہ فاطمہ ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”حیض کے مخصوص ایام کے دوران نماز کو ترک کر دیا کرو۔ پھر روزانہ ایک مرتبہ غسل کر لیا کرو۔ اس کے بعد ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کرو، اور اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ کر رکھو، کیونکہ یہ ایک بیماری ہے جو لاحق ہوئی ہے یا یہ شیطان کا ٹھونگا ہے یا کوئی رگ ہے جو منقطع ہو گئی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 842]
ترقیم العلمیہ: 830
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 228، 306، 320، 325، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 333، 333، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 198، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1348، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 622،، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 201، 3555، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 280، 281، 282، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 125، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 801، 806، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 620، 621، 624، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 841، 842، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 193، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 230، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24779»
ترقیم العلمیہ : 831 ترقیم الرسالہ : -- 843
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالا: نا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاةَ؟ فَقَالَ:" لا، وَلَكِنْ دَعِي قَدْرَ الأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي وَصَلِّي" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”میں استحاضہ کا شکار ہوں۔ میں پاک نہیں ہوتی۔ کیا میں نماز پڑھنا ترک کر دوں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم ان مخصوص ایام میں نماز پڑھنا ترک کرو جن میں تمہیں حیض آتا تھا۔ پھر اس کے بعد تم غسل کرو اور کپڑا باندھ لو اور نماز پڑھا کرو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 843]
ترقیم العلمیہ: 831
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 199، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 6976، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 208، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 274، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 623، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1604، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 793، 794، 795، 796، 843، 844، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27153، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 304، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 6894، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 1182، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1355»
«قال البیھقی: هذا حديث مشهور أودعه مالك في الموطأ إلا أن سليمان لم يسمعه من أم سلمة، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 92)»
«قال البیھقی: هذا حديث مشهور أودعه مالك في الموطأ إلا أن سليمان لم يسمعه من أم سلمة، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 92)»
الحكم على الحديث:
أخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 199
ترقیم العلمیہ : 832 ترقیم الرسالہ : -- 844
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أنَّهُ حَدَّثَهُ رَجُلٌ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ دَمًا لا يَفْتُرُ عَنْهَا، فَسَأَلَتْ أُمُّ سَلَمَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لِتَنْظُرْ عَدَدَ الأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ قَبْلَ ذَلِكَ وَعَدَّدَهُنَّ فَلْتَتْرُكِ الصَّلاةَ قَدْرَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَلْتَغْتَسِلْ وَتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ وَتُصَلِّي" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خاتون کا خون بہت بہتا تھا، وہ رکتا نہیں تھا۔ سیدہ ام سلمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ عورت مخصوص ایام کا جائزہ لے گی جس میں پہلے اسے حیض آتا تھا۔ وہ اتنے دن تک نماز ترک کرے گی۔ پھر جب نماز کا وقت ہو گا تو وہ وضو کر کے کپڑا باندھ کر نماز ادا کر لے گی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 844]
ترقیم العلمیہ: 832
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 199، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 6976، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 208، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 274، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 623، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1604، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 793، 794، 795، 796، 843، 844، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27153، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 304، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 6894، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 1182، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1355»
«قال البیھقی: هذا حديث مشهور أودعه مالك في الموطأ إلا أن سليمان لم يسمعه من أم سلمة، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 92)»
«قال البیھقی: هذا حديث مشهور أودعه مالك في الموطأ إلا أن سليمان لم يسمعه من أم سلمة، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 92)»
الحكم على الحديث:
أخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 199
ترقیم العلمیہ : 833 ترقیم الرسالہ : -- 845
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ الْوَاسِطِيُّ ، نا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْمَانِيُّ ، أنا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَكْحُولا ، يَقُولُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يَكُونُ الْحَيْضُ لِلْجَارِيَةِ وَالثَّيِّبِ الَّتِي قَدْ أَيِسَتْ مِنَ الْحَيْضِ أَقَلَّ مِنْ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ وَلا أَكْثَرَ مِنْ عَشَرَةِ أَيَّامٍ، فَإِذَا رَأَتِ الدَّمَ فَوْقَ عَشَرَةِ أَيَّامٍ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ فَمَا زَادَ عَلَى أَيَّامِ أَقْرَائِهَا قَضَتْ، وَدَمُ الْحَيْضِ أَسْوَدُ خَاثِرٌ تَعْلُوهُ حُمْرَةٌ، وَدَمُ الْمُسْتَحَاضَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ فَإِنْ غَلَبَهَا فَلْتَحْتَشِي كُرْسُفًا، فَإِنْ غَلَبَهَا فَلْتُعْلِيهَا بِأُخْرَى، فَإِنْ غَلَبَهَا فِي الصَّلاةِ فَلا تَقْطَعِ الصَّلاةَ وَإِنْ قَطَرَ" . لا يُثْبَتُ عَبْدُ الْمَلِكِ، وَالْعَلاءُ ضَعِيفَانِ، وَمَكْحُولٌ لا يُثْبَتُ سَمَاعُهُ.
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کم سن لڑکی اور وہ عورت جو حیض سے مایوس ہو چکی ہو اس کا حیض تین دن سے کم نہیں ہو گا، اور دس دن سے زیادہ نہیں ہو گا۔ اگر دس دن کے بعد بھی اسے خون نظر آئے تو وہ عورت مستحاضہ شمار ہو گی۔ اس کے ایام مخصوص سے زیادہ جو دن ہوں گے ان کی (نمازوں کی وہ) قضاء کرے گی۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:) ”حیض کا خون سیاہ اور گاڑا ہوتا ہے جس میں سرخی غالب ہوتی ہے جبکہ استحاضہ کا خون زرد اور پتلا ہوتا ہے۔ اگر زیادہ خون خارج ہو رہا ہو تو وہ روئی رکھ لیا کرے۔ اگر اور زیادہ ہو تو کوئی پٹی وغیرہ رکھ لے۔ اگر وہ نماز کے دوران بھی خارج ہو رہا ہو تو وہ عورت نماز نہ چھوڑے اگرچہ اس سے قطرے ٹپک رہے ہوں۔“ یہ روایت ثابت نہیں ہے۔ اس کے دو راوی عبدالملک اور علاء دونوں ضعیف ہیں جبکہ مکحول نامی راوی کا سماع ثابت نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 845]
ترقیم العلمیہ: 833
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1582، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 845، 846، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 7586، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 599»
«قال الدارقطني: عبد الملك مجهول والعلاء بن كثير ضعيف الحديث ومكحول لم يسمع من أبي أمامة، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 191)»
«قال الدارقطني: عبد الملك مجهول والعلاء بن كثير ضعيف الحديث ومكحول لم يسمع من أبي أمامة، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 191)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 834 ترقیم الرسالہ : -- 846
حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْمَانِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ ، سَمِعْتُ الْعَلاءَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَكْحُولا ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقَلُّ مَا يَكُونُ مِنَ الْمَحِيضِ لِلْجَارِيَةِ الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ ثَلاثٌ، وَأَكْثَرُ مَا يَكُونُ مِنَ الْمَحِيضِ عَشَرَةُ أَيَّامٍ، فَإِذَا رَأَتِ الدَّمَ أَكْثَرَ مِنْ عَشَرَةِ أَيَّامٍ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ تَقْضِي مَا زَادَ عَلَى أَيَّامِ أَقْرَائِهَا، وَدَمُ الْحَيْضِ لا يَكُونُ إِلا دَمًا أَسْوَدَ عَبِيطًا تَعْلُوهُ حُمْرَةٌ، وَدَمُ الْمُسْتَحَاضَةِ رَقِيقٌ تَعْلُوهُ صُفْرَةٌ، فَإِنْ كَثُرَ عَلَيْهَا فِي الصَّلاةِ فَلْتَحْتَشِي كُرْسُفًا فَإِنْ ظَهْرَ الدَّمُ عَلَتْهَا بِأُخْرَى، فَإِنْ هُوَ غَلَبَهَا فِي الصَّلاةِ فَلا تَقْطَعِ الصَّلاةَ وَإِنْ قَطَرَ، وَيَأْتِيهَا زَوْجُهَا وَتَصُومُ" . وَعَبْدُ الْمَلِكِ هَذَا رَجُلٌ مَجْهُولٌ، وَالْعَلاءُ هُوَ ابْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ، وَمَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي أُمَامَةَ شَيْئًا.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”کنواری لڑکی یا ثیبہ کی حیض کی مقدار کم از کم تین دن ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔ اگر وہ دس دن کے بعد بھی خون دیکھتی ہے تو وہ عورت مستحاضہ شمار ہو گی۔ وہ اپنے حیض کے مخصوص ایام سے زیادہ دنوں کی قضاء کرے گی۔ حیض کا خون صرف سیاہ ہوتا ہے اور گاڑھا ہوتا ہے اور اس پر سرخی غالب ہوتی ہے جبکہ مستحاضہ عورت کا خون پتلا ہوتا ہے جس پر زردی غالب ہوتی ہے۔ اگر نماز کے دوران خون بکثرت خارج ہو تو وہ روئی رکھ لے۔ اگر پھر بھی خون باہر نکل رہا ہو تو کوئی دوسرا کپڑا یا پٹی رکھ لے۔ اگر اس پر نماز کے دوران غالب ہو تو نماز نہ چھوڑے اگرچہ اس سے قطرے ٹپک رہے ہوں۔ مرد اس سے صحبت بھی کر سکتا ہے اور وہ عورت روزے بھی رکھے گی۔“ اس روایت کا راوی عبدالملک مجہول ہے جبکہ علاء نامی راوی علاء بن کثیر ہے اور یہ حدیث میں ضعیف ہے جبکہ مکحول نامی راوی نے سیدنا ابوامامہ سے کوئی بھی حدیث نہیں سنی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَيْضِ/حدیث: 846]
ترقیم العلمیہ: 834
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1582، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 845، 846، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 7586، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 599»
«قال الدارقطني: عبد الملك مجهول والعلاء بن كثير ضعيف الحديث ومكحول لم يسمع من أبي أمامة، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 191)»
«قال الدارقطني: عبد الملك مجهول والعلاء بن كثير ضعيف الحديث ومكحول لم يسمع من أبي أمامة، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 191)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف