سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
25. بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ
باب: امامت کا زیادہ حق دار کون ہے؟
ترقیم العلمیہ : 1070 ترقیم الرسالہ : -- 1085
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ الأَنْصَارِيُّ ، نا الْحَجَّاجُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَؤُمُّ النَّاسَ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، وَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَفْقَهُهُمْ فِي الدِّينِ، وَإِنْ كَانُوا فِي الدِّينِ سَوَاءً فَأَقْرَؤُهُمْ لِلْقُرْآنِ، وَلا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ وَلا يُقْعَدُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلا بِإِذْنِهِ"، وَكَانَ يُسَوِّي مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلاةِ، وَيَقُولُ:" لا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَلْيَلِيَنِي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ" .
سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”لوگوں کی امامت وہ کرے جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو، اگر وہ سب ہجرت میں برابر ہوں تو وہ امامت کرے جسے دین کی سمجھ حاصل ہو اگر وہ دین کی معلومات کے لحاظ سے برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جو قرآن کو زیادہ اچھی طرح پڑھ سکتا ہو (یا جسے قرآن کی زیادہ آیات یاد ہوں) کوئی شخص کسی دوسرے کی بادشاہی میں، یعنی اس کے گھر میں جہاں وہ بڑا ہو اس کی امامت نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھے البتہ اس کی اجازت کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں): نماز کے آغاز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کندھے سیدھے کروایا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے: ”تم آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف آ جائے گا اور تم میں سے میرے نزدیک زیادہ سمجھ دار اور تجربہ کار لوگ کھڑے ہوں، پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ (سمجھدار اور تجربہ کار) لوگ کھڑے ہوں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1085]
ترقیم العلمیہ: 1070
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 432، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1542، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2172، 2178، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 801، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 806، برقم: 811، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 674، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1302، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 976، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5243، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1085، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17377،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 461، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 647»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1071 ترقیم الرسالہ : -- 1086
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نا أَبُو الزِّنْبَاعِ ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، نا اللَّيْثُ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَكْثَرُهُمْ قُرْآنًا، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقُرْآنِ وَاحِدًا فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ وَاحِدًا فَأَفْقَهُهُمْ فِقْهًا، فَإِنْ كَانَ الْفِقْهُ وَاحِدًا فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو قرآن زیادہ جانتا ہو اگر وہ قرآن کے علم کے حوالے سے برابر ہوں تو وہ شخص کرے، جس نے پہلے ہجرت کی ہو اگر وہ ہجرت کے حساب سے برابر ہوں تو وہ شخص ان کی امامت کرے جس کو دین کی زیادہ معلومات ہوں اور اگر وہ دین کے علم کے حساب سے برابر ہوں تو پھر وہ شخص امامت کرے جس کی عمر زیادہ ہو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1086]
ترقیم العلمیہ: 1071
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 673، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1507، 1516، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2127، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 893، 894، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 779، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 582، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 235، 2772، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 980، الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1086، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17337، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 462، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 3808»
«قال ابن حجر: ومداره على إسماعيل بن رجاء عن أوس بن ضمعج عنه وليسا جميعا من شرط البخاري وقد نقل ابن أبي حاتم في العلل عن أبيه أن شعبة كان يتوقف في صحة هذا الحديث ولكن هو ف
«قال ابن حجر: ومداره على إسماعيل بن رجاء عن أوس بن ضمعج عنه وليسا جميعا من شرط البخاري وقد نقل ابن أبي حاتم في العلل عن أبيه أن شعبة كان يتوقف في صحة هذا الحديث ولكن هو ف