🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

82. بَابُ ذِكْرِ نِيَابِةِ الْإِمَامِ عَنْ قِرَاءَةِ الْمَأْمُومِينَ
باب: امام کی قرات کرنا مقتدیوں کی جگہ کافی ہوتا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1484 ترقیم الرسالہ : -- 1501
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، قَالا: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا سَهْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ التِّرْمِذِيُّ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى خَلْفَ الإِمَامِ فَقِرَاءَةُ الإِمَامُ لَهُ قِرَاءَةٌ" . هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، وَسَهْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ مَتْرُوكٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص امام کی اقتداء میں نماز ادا کرے، تو امام کی قراءت اس کی قراءت شمار ہو گی۔“ یہ روایت منکر ہے، اس کا راوی سہل بن عباس متروک ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1501]
ترقیم العلمیہ: 1484
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 850، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2940، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1501، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14869»
«قال الدارقطني: لا يصح رفعه، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (13 / 341)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1485 ترقیم الرسالہ : -- 1502
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَلْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا عَبْدَانَ ، عَنْ خَارِجَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى خَلْفَ الإِمَامِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ الإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ" . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: رَفْعُهُ وَهْمٌ، وَالصَّوَابُ عَنْ أَيُّوبَ، وَعَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ أَيْضًا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص امام کی اقتداء میں نماز ادا کر رہا ہو، تو امام کا قراءت کرنا اس کا قراءت کرنا شمار ہو گا۔“ ابوالحسن نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے اور یہ وہم ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1502]
ترقیم العلمیہ: 1485
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 283، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2945، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1502، 1503، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2814»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1486 ترقیم الرسالہ : -- 1503
مَا ثنا بِهِ مَا ثنا بِهِ مُحَمَّدُ ظبْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، وَأَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَّهُمَا حُدِّثَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ:" تَكْفِيكَ قِرَاءَةُ الإِمَامِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما امام کی اقتداء میں قراءت کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں: ”تمہارے لیے امام کا قراءت کر لینا کافی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1503]
ترقیم العلمیہ: 1486
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 283، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2945، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1502، 1503، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2814»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1487 ترقیم الرسالہ : -- 1504
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الرَّازِيُّ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ" . لا يَصِحُّ هَذَا عَنْ سُهَيْلٍ، تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الرَّازِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کا امام موجود ہو، تو امام کی قراءت اس کی قراءت شمار ہو گی۔“ یہ روایت مستند نہیں ہے، اسے نقل کرنے میں محمد بن عباد رازی راوی منفرد ہیں اور یہ ضعیف ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1504]
ترقیم العلمیہ: 1487
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1264، 1504، وقال الدارقطني: لا يصح هذا عن سهيل تفرد به محمد بن عباد الرازي، سنن الدارقطني:، 1504»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1488 ترقیم الرسالہ : -- 1505
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، يَقُولُ:" سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفِي كُلِّ صَلاةٍ قِرَاءَةٌ؟ قَالَ: نَعَمْ" . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ: وَجَبَتْ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ، وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِنْهُ، فَقَالَ: يَا كَثِيرُ، مَا أَرَى الإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلا وَقَدْ كَفَاهُمْ.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا ہر نماز میں قراءت کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: یہ واجب ہو گئی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابودرداء نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیونکہ میں حاضرین میں ان کے سب سے زیادہ قریب بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے فرمایا: ”اے کثیر! میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہو، تو اس کا قراءت کرنا ان لوگوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1505]
ترقیم العلمیہ: 1488
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 922، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 997، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 842، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2955،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1505، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22134»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں