سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
82. باب ذكر نيابة الإمام عن قراءة المأمومين
باب: امام کی قرات کرنا مقتدیوں کی جگہ کافی ہوتا ہے
ترقیم العلمیہ : 1488 ترقیم الرسالہ : -- 1505
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، يَقُولُ:" سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفِي كُلِّ صَلاةٍ قِرَاءَةٌ؟ قَالَ: نَعَمْ" . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ: وَجَبَتْ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ، وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِنْهُ، فَقَالَ: يَا كَثِيرُ، مَا أَرَى الإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلا وَقَدْ كَفَاهُمْ.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا ہر نماز میں قراءت کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: یہ واجب ہو گئی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابودرداء نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیونکہ میں حاضرین میں ان کے سب سے زیادہ قریب بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے فرمایا: ”اے کثیر! میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہو، تو اس کا قراءت کرنا ان لوگوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1505]
ترقیم العلمیہ: 1488
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 922، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 997، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 842، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2955،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1505، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22134»
الرواة الحديث:
كثير بن مرة الحضرمي ← عويمر بن مالك الأنصاري