سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
10. بَابُ صَلَاةِ الْمَرِيضِ وَمَنْ رَعَفَ فِي صَلَاتِهِ كَيْفَ يَسْتَخْلِفُ
باب بیمار شخص کی نماز ‘ جس شخص کی نماز کے دوران نکسیرپھوٹ پڑے ‘ وہ اپنانائب کس کو کس طرح مقررکرے؟
ترقیم العلمیہ : 1688 ترقیم الرسالہ : -- 1706
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ بَطْحَا ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْحَكَمِ الْجَبْرِيُّ ، ثنا حَسَنُ بْنُ حُسَيْنٍ الْعُرَنِيُّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُصَلِّي الْمَرِيضُ قَائِمًا إِنِ اسْتَطَاعَ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ صَلَّى قَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَسْجُدَ أَوْمَأَ وَجَعَلَ سُجُودَهُ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ قَاعِدًا صَلَّى عَلَى جَنْبِهِ الأَيْمَنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى جَنْبِهِ الأَيْمَنِ صَلَّى مُسْتَلْقِيًا وَرِجْلاهُ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ".
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام باقر رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے امام زین العابدین رحمہ اللہ کے حوالے سے امام حسین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیمار شخص اگر کھڑے ہو کر نماز ادا کر سکتا ہو، تو کھڑے ہو کر ادا کرے، ورنہ بیٹھ کر ادا کرے، اگر وہ سجدہ کرنے کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو، تو وہ سجدہ اشارے کے ذریعے کرے اور اس کا سجدہ اس کے رکوع سے زیادہ پست ہو، اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو کہ بیٹھ کر نماز ادا کرے، تو پھر وہ اپنے دائیں پہلو کو قبلہ کی طرف کر کے نماز ادا کرے، اگر وہ دائیں پہلو کے بل بھی نماز ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، تو وہ سیدھا لیٹ کر نماز ادا کرے اور اس کے دونوں پاؤں قبلہ کی سمت ہونے چاہئیں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْوِتْرِ/حدیث: 1706]
ترقیم العلمیہ: 1688
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1706، وقال ابن حجر: وفي إسناده حسين بن زيد ضعفه ابن المديني والحسن بن الحسين العرني وهو متروك، التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 410/1»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 1689 ترقیم الرسالہ : -- 1707
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" يُصَلِّي الْمَرِيضُ مُسْتَلْقِيًا عَلَى قَفَاهُ تَلِي قَدَمَاهُ الْقِبْلَةَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بیمار شخص چت لیٹ کر اپنے پاؤں قبلہ کے رخ کرے، نماز ادا کرے گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْوِتْرِ/حدیث: 1707]
ترقیم العلمیہ: 1689
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3741، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1707، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 4130»
ترقیم العلمیہ : 1690 ترقیم الرسالہ : -- 1708
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الْقَارِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، نا أَبُو سَعِيدٍ سُفْيَانُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَدِّبُ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَطَّامِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَرَعَفَ أَوْ قَاءَ، فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ وَيَنْظُرْ رَجُلا مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يَسْبِقْ بِشَيْءٍ فَيُقَدِّمُهُ، وَيَذْهَبُ فَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَجِيءُ فَيَبْنِي عَلَى صَلاتِهِ مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ فَإِنْ تَكَلَّمَ اسْتَأْنَفَ الصَّلاةَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو اور اس کی نکسیر پھوٹ پڑے، اسے قے آ جائے، تو وہ اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھے اور حاضرین میں سے کسی ایسے شخص کا جائزہ لے جو سب سے بہتر ہو اور اسے آگے کر دے، پھر وہ جا کر وضو کرے اور واپس آ کر اپنی نماز وہیں سے پڑھنا شروع کر دے جہاں چھوڑ کر گیا تھا، یہ اس وقت ہے جب اس نے درمیان میں کلام نہ کیا ہو، اگر درمیان میں کلام کر لیا ہو، تو وہ نئے سرے سے نماز پڑھے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْوِتْرِ/حدیث: 1708]
ترقیم العلمیہ: 1690
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1708، انفرد به المصنف من هذا الطريق»