سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
2. بَابُ الصُّلْحِ
باب: صلح کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2902 ترقیم الرسالہ : -- 2938
ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا أَبِي ، نَا يَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى وَ، هِشَامٍ ابْنِي عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ اخْتَصَمَا فِي أَرْضٍ غَرَسَ أَحَدُهُمَا فِيهَا نَخْلا وَالأَرْضُ لِلآخَرِ،" فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءَ لِصَاحِبِهَا، وَأَمَرَ صَاحِبَ النَّخْلِ أَنْ يُخْرِجَ نَخْلَهُ، وَقَالَ: مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لِمَنْ أَحْيَاهَا، وَلَيْسَ لِعَرَقِ ظَالِمٍ حَقٌّ" ، قَالَ: فَلَقَدْ أَخْبَرَنِي الَّذِي حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ رَأَى النَّخْلَ وَهِيَ عَمٌّ، تُقْلَعُ أُصُولُهَا بِالْفُؤُوسِ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: الْعَمُّ: الشَّبَابُ، وَلَيْسَ لِعَرَقِ ظَالِمٍ حَقٌّ، قَالَ:" أَنْ تَأْتِيَ أَرْضَ غَيْرِكَ فَتَزْرَعَ فِيهَا".
عروہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں کے درمیان ایک زمین کے بارے میں جھگڑا ہوا، ان دونوں میں سے ایک نے وہاں کھجور کا درخت لگایا تھا اور زمین دوسرے کی ملکیت تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ زمین اس کے مالک کو مل جائے گی، آپ نے کھجور لگانے والے سے کہا کہ تم اپنے درخت کو وہاں سے نکال لو، آپ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی بے آباد جگہ کو آباد کرتا ہے، وہ اس آباد کرنے والے کو مل جاتی ہے، لیکن کوئی شخص کسی دوسرے کی زمین پر (زبردستی) کچھ نہیں لگا سکتا۔“ راوی کہتے ہیں: جن صاحب نے مجھے یہ روایت سنائی، انہوں نے یہ بتایا کہ انہوں نے اس کھجور کے درخت کو دیکھا ہے کہ بہت اونچا لمبا تھا، جس کی جڑیں کلہاڑی کے ذریعے کاٹی گئی تھیں۔ روایت کے یہ الفاظ کسی ظالم کے لیے نہیں ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ تم کسی دوسرے کی زمین میں جاؤ اور وہاں کاشت شروع کر دو (یعنی اس کی مرضی کے بغیر ایسا کرو)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2938]
ترقیم العلمیہ: 2902
تخریج الحدیث: «صحيح مرسل، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2335، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1355، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3073،برقم: 3076،والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1378،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2938، 4506، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25523»
«قال الدارقطني: والمرسل عن عروة أصح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (4 / 414)»
«قال الدارقطني: والمرسل عن عروة أصح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (4 / 414)»
الحكم على الحديث: صحيح مرسل
ترقیم العلمیہ : 2903 ترقیم الرسالہ : -- 2939
وثنا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، وَقَالَ: إِنَّمَا تُزْرَعُ ثَلاثَةٌ، رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا، أَوْ رَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُهَا، أَوْ رَجُلٌ اكْتَرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ" .
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کاشت کاری تین طرح کی ہوتی ہے: ایک یہ کہ کسی شخص کی زمین ہو اور وہ اس میں کاشت کرے، ایک وہ شخص جسے عطیے کے طور پر کوئی زمین دی گئی ہو اور وہ اس میں کاشت کرے اور ایک وہ شخص جو سونے اور چاندی کے عوض میں زمین کرائے پر حاصل کرے (تو وہ اس میں کاشت کر سکتا ہے)۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2939]
ترقیم العلمیہ: 2903
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2191، 2383، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1540،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5002، 5198، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3874، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3363، 3400، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1303، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2267، 2449، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2939، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16057»
ترقیم العلمیہ : 2904 ترقیم الرسالہ : -- 2940
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ ، نَا مَالِكٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ " عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ، فَقَالَ لَهُ أَبَى: الذَّهَبَ وَالْوَرِقَ؟، فَقَالَ: أَمَّا الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ فَلا بَأْسَ بِهِ" .
حنظلہ بن قیس زرقی یہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج سے زمین کرائے پر لینے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع کیا ہے، تو حنظلہ نے ان سے دریافت کیا: ”کیا سونے اور چاندی کے عوض میں بھی؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”سونے اور چاندی کے عوض میں دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2940]
ترقیم العلمیہ: 2904
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2286، 2327، 2332، 2339، 2343، 2345، 2346، 2722، 4012، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1536،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1317، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3389، 3392، 3393، 3394،والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1384، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2450، 2453، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2940، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2117، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 409، 410»
ترقیم العلمیہ : 2905 ترقیم الرسالہ : -- 2941
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ، إِلا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع کیا ہے، البتہ سونے اور چاندی کے عوض میں (زمین کرائے پر دی جا سکتی ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2941]
ترقیم العلمیہ: 2905
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1487، 2189، 2196، 2381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1534،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4957، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3370، 3373، 3374، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1290، 1313، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2659، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2216، 2218، 2266، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2912، 2914، 2941، 2990، 2991، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14542،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1316، 1317، 1318، 1319، 1329»
ترقیم العلمیہ : 2906 ترقیم الرسالہ : -- 2942
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ الضَّبِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" خَرَجَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَإِذَا هُوَ بِزَرْعٍ تَهْتَزُّ، فَقَالَ: لِمَنْ هَذَا الزَّرْعُ؟، قَالُوا: لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ وَكَانَ أَخَذَ الأَرْضَ بِالنِّصْفِ أَوْ بِالثُّلُثِ، فَقَالَ: انْظُرْ نَفَقَتَكَ فِي هَذِهِ الأَرْضِ فَخُذْهَا مِنْ صَاحِبِ الأَرْضِ، وَادْفَعْ إِلَيْهِ أَرْضَهُ وَزَرْعَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر پر جا رہے تھے کہ آپ نے ایک کھیت کو دیکھا، جو لہلہا رہا تھا، آپ نے دریافت کیا: ”یہ کھیت کس کا ہے؟“ تو لوگوں نے بتایا: یہ کھیت سیدنا رافع بن خدیج کا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا، وہ نصف یا ایک تہائی پیداوار کے عوض میں زمین (کرائے پر) لیتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس زمین میں جو خرچ کیا ہے، اس کا حساب لگاؤ اور پھر زمین کے مالک سے اسے لے لو اور اس شخص کی زمین اور اس کا کھیت اس کے سپرد کر دو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2942]
ترقیم العلمیہ: 2906
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2942، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 2907 ترقیم الرسالہ : -- 2943
ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" دَفَعَ خَيْبَرَ أَرْضَهَا وَنَخْلَهَا إِلَى الْيَهُودِ مُقَاسَمَةً عَلَى النِّصْفِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین اور وہاں کے کھجوروں کے باغات یہودیوں کو دے دیے تھے کہ وہ (مسلمانوں کو) نصف ادائیگی کر دیا کریں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2943]
ترقیم العلمیہ: 2907
تخریج الحدیث: «إسناده حسن صحيح، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3410، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1820، 2468، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11742، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2943، 2949، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2291، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 2341، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 12062، 15001»
«قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3410»
«قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3410»
الحكم على الحديث: إسناده حسن صحيح
ترقیم العلمیہ : 2908 ترقیم الرسالہ : -- 2944
ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالا: نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَفَعَ خَيْبَرَ إِلَى أَهْلِهَا عَلَى الشَّطْرِ مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر وہاں کے رہنے والوں کو دے دیا تھا، اس شرط پر کہ وہ وہاں کی پیداوار میں سے، خواہ وہ پھل ہوں یا زراعت ہو، نصف (مسلمانوں کو) ادا کر دیا کریں گے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2944]
ترقیم العلمیہ: 2908
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2285، 2328، 2329، 2331، 2338، 2499، 2720، 2730، 3152، 4248، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1551،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5199، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3942، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3006، 3007، 3008، 3408، 3409، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1383، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2656، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2467،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2944، 2945، 2947، 2948، 2950، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 91»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2909 ترقیم الرسالہ : -- 2945
ثنا ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا، وَقَالَ: " عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ" .
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ طے کیا تھا کہ وہاں کی جو پیداوار ہو گی، خواہ وہ پھل ہوں یا زراعت ہو (اس کا نصف حصہ وہ لوگ مسلمانوں کو ادا کریں گے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2945]
ترقیم العلمیہ: 2909
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2285، 2328، 2329، 2331، 2338، 2499، 2720، 2730، 3152، 4248، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1551،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5199، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3942، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3006، 3007، 3008، 3408، 3409، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1383، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2656، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2467،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2944، 2945، 2947، 2948، 2950، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 91»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2910 ترقیم الرسالہ : -- 2946
ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ السَّلامِ أَبُو رَوَّادٍ بِمِصْرَ، نَا وَهْبُ بْنُ رَاشِدٍ أَبُو زُرْعَةَ الْحَجْرِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، كَانَ يَقُولُ:" كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ، فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ قَالَ الْمُبْتَاعُ: إِنَّهُ قَدْ أَصَابَ التَّمْرُ مُرَاقٌّ وَأَصَابَهُ قُشَامٌ، عَاهَاتٌ كَانُوا يَحْتَجُّونَ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الْخُصُومَةُ فِي ذَلِكَ: أَمَا لا فَلا تَبْتَاعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُ الثَّمَرِ، كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ" .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے، جب فصل کاٹنے کا وقت ہوتا، تو قرض وصولی کرنے والا آ جاتا، تو جس نے ادائیگی کرنی ہوتی، وہ یہ کہتا تھا: اس دفعہ پیداوار کو فلاں آفت لاحق ہو گئی ہے، اس میں یہ خرابی آ گئی ہے، مختلف طرح کی آفات کا تذکرہ کرتے، جن کی وجہ سے لوگوں کے درمیان مقدمات ہونے لگے، جب یہ مقدمات زیادہ ہو گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم اس وقت تک سودا نہ کرو، جب تک پھل پک کر تیار نہیں ہو جاتا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورے کے طور پر یہ بات کی تھی، کیونکہ اس بارے میں لوگوں کے درمیان بہت زیادہ اختلاف ہونے لگا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2946]
ترقیم العلمیہ: 2910
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3372، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10715، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2833، 2946، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22016، 22064، 22065، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5570، 5588، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4788، 4810، 4820، 4826، 4845، 4846، 4847، 4861، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8122»
ترقیم العلمیہ : 2911 ترقیم الرسالہ : -- 2947
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، وَشُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: نَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنَ النَّخْلِ وَالزَّرْعِ" ، وَقَالَ يُوسُفُ: مِنَ النَّخْلِ وَالشَّجَرِ، قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: وَهِمَ فِي ذِكْرِ الشَّجَرِ، وَلَمْ يَقُلْهُ غَيْرُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے رہنے والوں کے ساتھ یہ طے کیا تھا کہ وہاں پیدا ہونے والی کھجوروں اور زراعت میں سے نصف پیداوار کو وہ لوگ مسلمانوں کو ادا کیا کریں گے۔ روایت کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2947]
ترقیم العلمیہ: 2911
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2285، 2328، 2329، 2331، 2338، 2499، 2720، 2730، 3152، 4248، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1551،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5199، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3942، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3006، 3007، 3008، 3408، 3409، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1383، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2656، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2467،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2944، 2945، 2947، 2948، 2950، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 91»
الحكم على الحديث: صحيح