سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. بَابُ الْعَارِيَّةِ
باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2915 ترقیم الرسالہ : -- 2951
ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عِيسَى الْخَوَّاصُ ، نَا صَالِحُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ بُكَيْرٍ الْعَبْدِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَعَارَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ أَدْرَاعًا وَسِلاحًا فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ؟، قَالَ: عَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر صفوان بن امیہ سے کچھ زرہیں اور اسلحہ عارضی طور پر لیا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا یہ عارضی طور پر ہے، جسے واپس کر دیا جائے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عارضی طور پر لیا ہے، جسے واپس کیا جائے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2951]
ترقیم العلمیہ: 2915
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2314، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11593، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2951»
ترقیم العلمیہ : 2916 ترقیم الرسالہ : -- 2952
ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ يَحْيَى الْعَطَّارُ ، نَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ ، نَا مُسْلِمٌ الْجُهَنِيُّ ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: اسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ سِلاحًا، فَقَالَ صَفْوَانُ:" أَمُؤَدَّاةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: نَعَمْ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے کچھ اسلحہ ادھار لیا، تو صفوان نے عرض کی: ”کیا یہ واپس کر دیا جائے گا، یا رسول اللہ؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2952]
ترقیم العلمیہ: 2916
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2952، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 2917 ترقیم الرسالہ : -- 2953
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْفَضْلُ الأَعْرَجُ ، نَا نَصْرُ بْنُ عَطَاءٍ الْوَاسِطِيُّ ، نَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَتَتْكَ رُسُلِي فَأَعْطِهِمْ كَذَا وَكَذَا، أُرَاهُ قَالَ: ثَلاثِينَ دِرْعًا، أَوْ قَالَ: ثَلاثِينَ بَعِيرًا، قُلْتُ: وَالْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ؟، قَالَ: نَعَمْ" .
صفوان بن یعلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب میرا قاصد تمہارے پاس آئے، تو انہیں یہ چیز دے دینا۔“ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے تیس زرہوں اور تیس اونٹوں کا ذکر کیا تھا۔ سیدنا یعلی بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: ”کیا یہ ادھار لے رہے ہیں، جسے واپس کر دیں گے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2953]
ترقیم العلمیہ: 2917
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4720، والنسائی فى ((الكبریٰ)) برقم: 5744، 5745، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3566، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2953، 2954، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18233»
«قال ابن حزم: إنه حديث حسن ليس في شيء مما روي في العارية خبر يصح غيره، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 748)»
«قال ابن حزم: إنه حديث حسن ليس في شيء مما روي في العارية خبر يصح غيره، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 748)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم العلمیہ : 2918 ترقیم الرسالہ : -- 2954
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ ، نَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ أَوْ عَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ؟، قَالَ:" بَلْ مُؤَدَّاةٌ" .
ایک اور سند کے ہمراہ بھی یہی روایت منقول ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا یہ عارضی طور پر لے رہے ہیں، جن کا تاوان ادا کیا جائے گا؟ یا یہ اس طرح عارضی طور پر لے رہے ہیں کہ انہیں واپس کر دیا جائے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، نہیں، انہیں واپس کر دیا جائے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2954]
ترقیم العلمیہ: 2918
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4720، والنسائی فى ((الكبریٰ)) برقم: 5744، 5745، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3566، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2953، 2954، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18233»
«قال ابن حزم: إنه حديث حسن ليس في شيء مما روي في العارية خبر يصح غيره، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 748)»
«قال ابن حزم: إنه حديث حسن ليس في شيء مما روي في العارية خبر يصح غيره، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 748)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم العلمیہ : 2919 ترقیم الرسالہ : -- 2955
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالا: نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" اسْتَعَارَ مِنْهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ أَدْرَاعًا، فَقَالَ: أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدُ؟، قَالَ: بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ؟، قَالَ: فَضَاعَ بَعْضُهَا فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضْمَنَهَا، فَقَالَ: أَنَا الْيَوْمَ فِي الإِسْلامِ أَرْغَبُ" .
امیہ بن صفوان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر ان سے کچھ زرہیں ادھار مانگیں، تو انہوں نے عرض کی: ”اے محمد! کیا غصب کر رہے ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ عارضی طور پر لے رہے ہیں، جن کا تاوان بھی ادا کیا جائے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ان میں سے کچھ زرہیں خراب ہو گئیں، تو نبی نے انہیں یہ پیش کش کی کہ وہ ان کا تاوان لیں، تو انہوں نے عرض کی کہ اب میں اسلام کی طرف راغب ہو چکا ہوں اور مجھے اس میں زیادہ دل چسپی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2955]
ترقیم العلمیہ: 2919
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 11، 12، 13، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2313، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3562، 3563، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2955، 2956، 2957، 2958، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15535»
«قال ابن حجر: قد اختلف على عبد العزيز بن رفيع في سنده . الإصابة في تمييز الصحابة: (8 / 56)»
«قال ابن حجر: قد اختلف على عبد العزيز بن رفيع في سنده . الإصابة في تمييز الصحابة: (8 / 56)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 2920 ترقیم الرسالہ : -- 2956
ثنا الْحَسَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمُقْرِئُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، نَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" اسْتَعَارَ مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَاعًا مِنْ حَدِيدٍ، فَقُلْتُ: مَضْمُونَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: مَضْمُونَةٌ، فَضَاعَ بَعْضُهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ شِئْتَ غَرِمْتُهَا، قَالَ: لا، أَلا إِنَّ فِي قَلْبِي مِنَ الإِسْلامِ غَيْرَ مَا كَانَ يَوْمَئِذٍ" ،.
امیہ بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے لوہے کی کچھ زرہیں ادھار لیں، تو میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا یہ ضمانت والی ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ضمانت والی ہیں۔“ ان میں سے بعض ضائع ہو گئیں، تو نبی نے ان سے فرمایا: ”تم چاہو تو میں تمہیں اس کا تاوان دے دیتا ہوں۔“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں، اب میرے دل میں اسلام آ چکا ہے اور یہ دل ہر چیز سے زیادہ (سما چکا ہے)۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2956]
ترقیم العلمیہ: 2920
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 11، 12، 13، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2313، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3562، 3563، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2955، 2956، 2957، 2958، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15535»
«قال ابن حجر: قد اختلف على عبد العزيز بن رفيع في سنده . الإصابة في تمييز الصحابة: (8 / 56)»
«قال ابن حجر: قد اختلف على عبد العزيز بن رفيع في سنده . الإصابة في تمييز الصحابة: (8 / 56)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 2921 ترقیم الرسالہ : -- 2957
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ آلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا صَفْوَانُ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ سِلاحٍ؟"، قَالَ: عَارِيَةً أَمْ غَصْبًا؟ ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ.
عطاء نے عبداللہ بن صفوان کے خاندان سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے صفوان! کیا تمہارے پاس کچھ اسلحہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”آپ یہ عارضی طور پر لے رہے ہیں یا غصب کریں گے؟“ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2957]
ترقیم العلمیہ: 2921
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 11، 12، 13، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2313، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3562، 3563، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2955، 2956، 2957، 2958، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15535»
ترقیم العلمیہ : 2922 ترقیم الرسالہ : -- 2958
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا مُسَدَّدٌ ، نَا أَبُو الأَحْوَصِ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ نَاسٍ مِنْ آلِ صَفْوَانَ، قَالَ: اسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
عبدالعزیز نامی راوی نے عطاء کے حوالے سے سیدنا صفوان کی آل سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عارضی طور پر (کچھ اسلحہ) لیا۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2958]
ترقیم العلمیہ: 2922
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 11، 12، 13، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2313، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3562، 3563، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2955، 2956، 2957، 2958، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15535»
ترقیم العلمیہ : 2923 ترقیم الرسالہ : -- 2959
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، وَابْنُ الْعَلاءِ ، قَالُوا: نَا أَبُو الأَشْعَثِ ، نَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الأَوْصَابِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةُ أَوِ الْمَنِيحَةُ مُؤَدَّاةٌ، فَقَالَ رَجُلٌ: فَعُهِدَ رَسُولُ اللَّهِ؟، قَالَ: عَهْدُ اللَّهِ أَحَقُّ مَا أَدَّى" .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عارضی طور پر لی ہوئی چیز واپس کی جائے گی اور عطیے کے طور پر (عارضی استعمال کے لیے) ملنے والی چیز واپس کی جائے گی۔“ تو ایک شخص نے کہا: ”کیا یہ اللہ کے رسول کا فیصلہ ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ اللہ کا فیصلہ ہے، جو اس بات کا حق دار ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2959]
ترقیم العلمیہ: 2923
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1021، 1099، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5094،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2870، 3565، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 670، 1265، 2120، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2007، 2295، 2398، 2405، 2713، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2959، 2960، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22725»
ترقیم العلمیہ : 2924 ترقیم الرسالہ : -- 2960
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا: نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ" فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى، مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلا الطَّعَامُ؟، قَالَ: ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا، ثُمَّ قَالَ: الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ" .
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے خطبے کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ نے ہر حق دار کا حق مقرر کیا ہے، اس لیے وارث کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی، بچہ صاحب فراش کو ملے گا، اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی اور ان لوگوں کا حساب اللہ کے ذمے ہو گا، جو شخص اپنے حقیقی باپ کے علاوہ یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے، تو اس شخص پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی طرف سے قیامت کے دن تک لعنت ہوتی رہے گی، عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں سے کچھ خرچ نہ کرے۔“ عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! اناج بھی نہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہمارا سب سے اہم مال ہے۔“ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”عارضی طور پر استعمال کے لیے کی جانے والی چیز واپس کی جائے گی اور عطیے کے طور پر (عارضی استعمال کے لیے جو چیز دی گئی ہو) وہ بھی واپس کی جائے گی، فرض ادا کیا جائے گا اور نگران شخص تاوان ادا کرنے کا پابند ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2960]
ترقیم العلمیہ: 2924
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1021، 1099، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5094،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2870، 3565، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 670، 1265، 2120، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2007، 2295، 2398، 2405، 2713، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2959، 2960، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22725»
«قال ابن حجر: حسنه، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (3 / 189)»
«قال ابن حجر: حسنه، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (3 / 189)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن