🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَقِيَّةُ الْفَرَائِضِ
وراثت کے بارے میں چند دیگر روایات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4136 ترقیم الرسالہ : -- 4210
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كُلُّ قَوْمٍ يَتَوَارَثُونَ، إِلا مَنْ عَمِّي مَوْتُ بَعْضِهِمْ قَبْلَ بَعْضٍ فِي هَدْمٍ، أَوْ حَرْقٍ، أَوْ قِتَالٍ، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ وُجُوهِ الْمُتَآلَفِ فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لا يَرِثُ بَعْضًا، وَلَكِنْ يُورَثُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ، يَرِثُهُ أَوْلَى النَّاسِ بِهِ مِنَ الأَحْيَاءِ، كَأَنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَنْ عَمَّى مَوْتُهُ مَعَهُ قَرَابَةٌ" .
خارجہ بن زید اپنے والد (زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: پہلے ہر قوم کے لوگ ایک دوسرے کے وارث بن جایا کرتے تھے، ماسوائے اس صورت کے کہ جب کوئی شخص کوئی مکان گرنے یا جل جانے یا جنگ یا کسی اور وجہ سے اندھی موت مر جاتا، تو ان لوگوں کو ایک دوسرے کا وارث نہیں بنایا جاتا تھا، البتہ زندہ لوگوں میں سے ان کے قریبی عزیز ان کا وارث بنا کرتا تھا، یوں لگتا تھا جیسے اس شخص کے اور اندھی موت مر جانے والے شخص کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ السِّيَرِِِِِ/حدیث: 4210]
ترقیم العلمیہ: 4136
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3087، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12380، 12381، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4210»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4137 ترقیم الرسالہ : -- 4211
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ وَلَدٍ لأَخِي شُرَيْحِ بْنِ الْحَارِثِ، وَلَدَتْ لَهُ جَارِيَةً فَزُوِّجَتْ فَوَلَدَتْ غُلامًا، ثُمَّ تُوُفِّيَتْ أُمُّ الْوَلَدِ، قَالَ: فَاخْتَصَمَ فِي مِيرَاثِهَا شُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ ابْنَتِهَا إِلَى شُرَيْحٍ، فَجَعَلَ شُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ، يَقُولُ لِشُرَيْحٍ: إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ مِيرَاثٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ، إِنَّمَا هُوَ ابْنُ ابْنَتِهَا، قَالَ: فَقَضَى شُرَيْحٌ بِمِيرَاثِهَا لابْنِ ابْنَتِهَا، وَقَالَ: وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ سورة الأنفال آية 75، فركب ميسرة بن يزيد إلى ابن الزبير فأخبره بالذي كان من شريح، فكتب ابن الزبير إلى شريح إن ميسرة بن يزيد ذكر لِي كَذَا وَكَذَا وَإِنَّكَ قُلْتَ عِنْدَ ذَلِكَ وَأُولُو الأَرْحَامِ بعضهم أولى ببعض في كتاب الله، وإنما كانت تلك الآية في شأن العصبة كان الرجل يعاقد الرجل، فيقول ترثني وأرثك فلما نزلت ترك ذاك، فجاء ميسرة بن يزيد بالكتاب إلى شريح، فلما قَرَأَهُ أَبَى أَنْ يَرُدَّ قَضَاءَهُ، وَقَالَ:" فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَعْتَقَهَا خَبَايَتِ بَطْنِهَا" .
عیسیٰ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ شریح بن حارث کے بھائی کی ایک ام ولد تھی، اس نے ایک بچی کو جنم دیا، پھر اس بچی کی شادی ہو گئی، اس نے ایک لڑکے کو جنم دیا پھر وہ ام ولد فوت ہو گئی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کی وراثت کے بارے میں شریح بن حارث اور اس ام ولد کے نواسے نے اختلاف کیا، وہ اپنا مقدمہ لے کر قاضی شریح کے پاس گئے۔ شریح بن حارث نے قاضی شریح سے کہا کہ اللہ کی کتاب میں اس لڑکے کی کوئی وراثت نہیں ہے، کیونکہ یہ اس عورت کا نواسہ ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو قاضی شریح نے اس عورت کی وراثت اس نواسے کو دینے کا حکم دیا اور بولے: (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) نسبی رشتے دار اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے (وارث بنتے ہیں)۔ تو میسرہ بن یزید سوار ہو کر سیدنا عبداللہ بن زبیر کے پاس گئے اور انہیں اس بارے میں بتایا جو قاضی شریح نے فیصلہ دیا تھا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر نے قاضی شریح کو ایک خط لکھا، میسرہ بن یزید نے میرے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ تم نے ایسی صورت حال میں یہ آیت پڑھی ہے: نسبی رشتے دار اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں۔ یہ آیت عصبہ رشتے داروں کے بارے میں ہے اور اس زمانے سے تعلق رکھتی ہے کہ جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ معاہدہ کر لیتے تھے (یعنی منہ بولے بھائی بن جایا کرتے تھے)۔ آدمی کہتا تھا: تم میرے وارث بن جاؤ اور میں تمہارا وارث بن جاؤں گا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس طرز عمل کو ترک کر دیا گیا۔ پھر میسرہ بن یزید وہ خط لے کر قاضی شریح کے پاس آئے۔ انہوں نے اسے پڑھنے کے بعد اپنا فیصلہ واپس لینے سے انکار کر دیا اور بولے: اس شخص نے اس ام ولد کو اس کے پیٹ میں موجود (بچے کی وجہ سے آزاد کیا تھا)۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ السِّيَرِِِِِ/حدیث: 4211]
ترقیم العلمیہ: 4137
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20437، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4211، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 7437»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4138 ترقیم الرسالہ : -- 4212
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" لا يَرِثُ الْقَاتِلُ خَطَأً وَلا عَمْدًا" .
شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا ہے: خطا کے طور پر یا عمد کے طور پر قتل کرنے والا شخص (مقتول کا) وارث نہیں بنتا، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ السِّيَرِِِِِ/حدیث: 4212]
ترقیم العلمیہ: 4138
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3127، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12372، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4212، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 17789، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 32045، 32046»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں