🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ الْمَنْعِ مِنْ تَخْلِيلِ الْخَمْرِ
باب:شراب کو خمیر کرنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4621 ترقیم الرسالہ : -- 4704
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا جَدِّي ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ" عَنِ الْخَمْرِ أَيُتَّخَذُ خَلا؟ قَالَ: لا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے بارے میں دریافت کیا گیا: کیا اسے سرکہ بنا لیا جائے؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں!۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 4704]
ترقیم العلمیہ: 4621
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1983، وابن الجارود فى "المنتقى"، 921، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3675، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1294، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2161، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11317، 11318، 11319، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4704، 4705، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12372، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 24575، 37300»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4622 ترقیم الرسالہ : -- 4705
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنْ يَتِيمًا كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي طَلْحَةَ فَأَشْتَرَى لَهُ خَمْرًا، فَلَمَّا حُرِّمَتْ، سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُتَّخَذُ خَلا؟، قَالَ: لا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی زیر پرورش ایک یتیم لڑکا تھا، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے شراب خریدی۔ جب شراب کو حرام قرار دیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کیا اسے سرکہ بنایا جا سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں!۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 4705]
ترقیم العلمیہ: 4622
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1983، وابن الجارود فى "المنتقى"، 921، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3675، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1294، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2161، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11317، 11318، 11319، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4704، 4705، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12372، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 24575، 37300»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4623 ترقیم الرسالہ : -- 4706
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، نَا أَبِي ، نَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو طَلْحَةَ ، عَن أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ مَالٌ لِيَتَامَى فَاشْتَرَى بِهِ خَمْرًا، قَالَ: فَنَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، قَالَ: وَمَا خَمْرُنَا يَوْمَئِذٍ إِلا مِنَ التَّمْرِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ:" إِنَّهُ كَانَ عِنْدِي مَالُ يَتِيمٍ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ خَمْرًا قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ، فَأَمَرَنِي، أَكْسِرُ الدِّنَانَ وَأُهْرِيقُهُ، فَأَتَيْتُهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ يَأْمُرُنِي، أَنْ أَكْسَرَ الدِّنَانَ وَأُهْرِيقَهُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے: ان کے پاس یتیموں کا کچھ مال تھا، انہوں نے اس کے ذریعے شراب خرید لی، پھر شراب کی حرمت کا حکم نازل ہو گیا۔ راوی کہتے ہیں: ان دنوں ہماری شراب صرف کھجور کے ذریعے بنائی جاتی تھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: میرے پاس یتیموں کا کچھ مال ہے، میں نے اس کے ذریعے شراب خرید لی ہے، یہ شراب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں وہ برتن توڑ دوں اور شراب کو بہا دوں، میں تین مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، ہر مرتبہ آپ نے مجھے یہی ہدایت کی کہ میں برتن توڑ دوں اور شراب کو بہا دوں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 4706]
ترقیم العلمیہ: 4623
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4706، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4624 ترقیم الرسالہ : -- 4707
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، نَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ ، نَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ لَنَا شَاةٌ فَمَاتَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا فَعَلَتْ شَاتُكُمْ؟، قُلْنَا: مَاتَتْ، قَالَ: أَفَلا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟، قُلْنَا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، قَالَ: يَحِلُّ دِبَاغُهَا كَمَا يَحِلُّ خَلُّ الْخَمْرِ" ، تَفَرَّدَ بِهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يَحْيَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ، يَرْوِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعْدٍ أَحَادِيثَ عِدَّةً لا يُتَابَعُ عَلَيْهَا.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہماری ایک بکری تھی وہ مر گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہاری بکری کو کیا ہوا؟ ہم نے بتایا کہ وہ مر گئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی کھال کے ذریعے فائدہ کیوں نہیں حاصل کرتے؟ ہم نے عرض کی: وہ تو مردار ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی دباغت اسے حلال کر دیتی ہے، جس طرح شراب سے بنایا ہوا سرکہ حلال ہوتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 4707]
ترقیم العلمیہ: 4624
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 82، 11322، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 116، 117، 119، 125، 4707»
«قال ابن حجر: وفيه الفرج بن فضالة وهو ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 80)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں