🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بابٌ فِي صِفَاتِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَنْزِيهِهِ عَنْ كُلِّ نَقْصٍ
اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور اس کو ہر نقص سے پاک کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19
عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: يَا مُحَمَّدُ! انْسُبْ لَنَا رَبَّكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ}
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب مشرک لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے محمد! ہمارے لیے اپنے رب کا نسب بیان کرو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی: «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ٭اللَّهُ الصَّمَدُ ٭لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ٭وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ» [الإخلاص: 1-4] آپ کہہ دیجیے کہ وہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے۔ الصَّمَد کا پورا معنی یہ ہے: «الْمَصْمُودُ إِلَيْهِ فِي الْحَوَائِجِ، الْغَنِيُّ عَنْ كُلِّ أَحَدٍ.» (وہ ہے کہ حاجتوں میں جس کا قصد کیا جائے، جبکہ وہ ہر ایک سے غنی اور لاپروا ہو)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْحِيدِ/حدیث: 19]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي سعد محمد بن ميسر و أبي جعفر الرازي۔ أخرجه الترمذي: 3364، 3365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21538»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف ابي سعد محمد بن ميسر و أبي جعفر الرازي۔ أخرجه الترمذي: 3364
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: كَذَّبَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَالِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَالِكَ، تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ) أَنْ يَقُولَ: فَلَنْ يُعِيدَنَا كَمَا بَدَأَنَا، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ، يَقُولُ: إِتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا وَأَنَا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بعض بندے مجھے جھٹلا دیتے ہیں، حالانکہ یہ ان کو زیب نہیں دیتا، اسی طرح بعض مجھے گالیاں دیتے ہیں اور یہ بھی ان کے شایانِ شان بات نہیں ہے۔ مجھ (اللہ) کو جھٹلانے کی صورت یہ ہے کہ بندہ کہتا ہے: جس طرح اللہ نے ہمیں پہلی دفعہ پیدا کیا، وہ اس طرح ہمیں دوبارہ پیدا نہیں کرے گا اور مجھے گالی دینے کی صورت یہ ہے کہ بندہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ کی بھی اولاد ہے، حالانکہ میں تو ایسا بے نیاز ہوں کہ میں نے نہ کسی کو جنا اور نہ میں جنا گیا اور کوئی بھی میری برابری کرنے والا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْحِيدِ/حدیث: 20]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4975، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8220 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8204»
وضاحت: فوائد: … انسان کو اپنی اوقات میں رہنا چاہیے اور اپنی ذات کا اتنا غلط اندازہ نہیں کر لینا چاہیے کہ وہ ایسی باتیں کرنا شروع کر دے کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی صفات کا تقاضا متأثر ہونے لگے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4975
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: آدم کا بیٹا مجھے تکلیف دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ وہ زمانے کو برا بھلا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں اختیار ہے، میں شب و روز کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْحِيدِ/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4826، 7491، ومسلم: 2246، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7244»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ زمانہ میں ہوں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ امورِ کائنات کا متصرف اور مُدَبِّر وہ ہے، زمانے کے سارے نظم و نسق میں اسی کی مشیت اور کاریگری کارفرما ہے، اس لیے انسان جب آزمائشوں کے دور سے گزر رہا ہو، مثلا: قحط، سیلاب، زلزلہ، آندھی، شکست، بیماری، فقیری، تو وہ زمانے اور وقت کو برا بھلا کہنے کی بجائے صبر کرے اور ایسی صورتوں میں اس کے وجود پر اللہ تعالیٰ کے کیا تقاضے ہیں، ان کو پورا کرے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4826
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ فَيَقُولُ: اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ فَيَقُولُ: اللَّهُ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَإِذَا أَحَسَّ أَحَدُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا، فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے: کس نے آسمان کو پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ وہ پھر سوال کرتا ہے: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ وہ جواب دیتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ اتنے میں وہ یہ سوال کر دیتا ہے: اچھا تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ پس جب تم میں سے کوئی اس سوال کو محسوس کرے تو وہ کہے: «آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ» (میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْحِيدِ/حدیث: 22]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3276، ومسلم: 134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8358»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، اس عظیم ذات کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ کوئی انتہا، اُس کے علاوہ کائنات کی ہر چیز اپنے وجود میں اور اس کو برقرار رکھنے میں اسی کی محتاج ہے، اس لیے اہل ایمان کے سینوں میں یہ سوال نہیں اٹھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا، اگر اس سے متعلقہ کوئی وسوسہ پیدا ہو جائے تو مسنون دعاؤں کے ذریعے ایسی سوچ کو دور کر دے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3276
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَجِدُونَ مِنَ الْوَسْوَسَةِ وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا لَنَجِدُ شَيْئًا لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ لوگ اپنے دل میں جو وسوسہ محسوس کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا شکوہ کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی ایسی چیزیں محسوس کر جاتے ہیں کہ ان کو زبان سے بیان کرنے کی بہ نسبت ہمیں آسمان سے گرنا آسان لگتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو خالص ایمان ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّوْحِيدِ/حدیث: 23]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الاوسط: 8537، وابويعلي: 4649، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25259»
وضاحت: فوائد: … یہ ایک اصولی بات ہے کہ جو آدمی غلط وسوسے کو محسوس کرنے لگے گا اور اس سے ڈرنے لگے گا کہ وہ اس کے تقاضے کے مطابق گفتگو کرے، تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ اس کے اعتقاد میں پختگی اور ایمان میں خلوص اور مضبوطی پیدا ہو گئی ہے، جو کہ اللہ تعالیٰ کا مقصود ہے، رہا اس آدمی کا مسئلہ جو فرائض کو ترک کرنے اور محرمات کا ارتکاب کرنے پر تلا ہوا ہو تو شیطان ملعون نے اس بیچارے کو وسوسوں میں ڈال کر کیا کرنا ہے؟

الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الاوسط : 8537
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں