الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بابٌ فِي صِفَاتِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَنْزِيهِهِ عَنْ كُلِّ نَقْصٍ
اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور اس کو ہر نقص سے پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 19
عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: يَا مُحَمَّدُ! انْسُبْ لَنَا رَبَّكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ}
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب مشرک لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے محمد! ہمارے لیے اپنے رب کا نسب بیان کرو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی: «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ٭اللَّهُ الصَّمَدُ ٭لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ٭وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ» [الإخلاص: 1-4] ”آپ کہہ دیجیے کہ وہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے۔“ الصَّمَد کا پورا معنی یہ ہے: «الْمَصْمُودُ إِلَيْهِ فِي الْحَوَائِجِ، الْغَنِيُّ عَنْ كُلِّ أَحَدٍ.» (وہ ہے کہ حاجتوں میں جس کا قصد کیا جائے، جبکہ وہ ہر ایک سے غنی اور لاپروا ہو)۔ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 19]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي سعد محمد بن ميسر و أبي جعفر الرازي۔ أخرجه الترمذي: 3364، 3365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21538»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف ابي سعد محمد بن ميسر و أبي جعفر الرازي۔ أخرجه الترمذي: 3364
Al-Fath al-Rabbani Hadith 19 in Urdu