الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بابٌ فِي صِفَاتِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَنْزِيهِهِ عَنْ كُلِّ نَقْصٍ
اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور اس کو ہر نقص سے پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 20
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: كَذَّبَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَالِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَالِكَ، تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ) أَنْ يَقُولَ: فَلَنْ يُعِيدَنَا كَمَا بَدَأَنَا، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ، يَقُولُ: إِتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا وَأَنَا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بعض بندے مجھے جھٹلا دیتے ہیں، حالانکہ یہ ان کو زیب نہیں دیتا، اسی طرح بعض مجھے گالیاں دیتے ہیں اور یہ بھی ان کے شایانِ شان بات نہیں ہے۔ مجھ (اللہ) کو جھٹلانے کی صورت یہ ہے کہ بندہ کہتا ہے: جس طرح اللہ نے ہمیں پہلی دفعہ پیدا کیا، وہ اس طرح ہمیں دوبارہ پیدا نہیں کرے گا اور مجھے گالی دینے کی صورت یہ ہے کہ بندہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ کی بھی اولاد ہے، حالانکہ میں تو ایسا بے نیاز ہوں کہ میں نے نہ کسی کو جنا اور نہ میں جنا گیا اور کوئی بھی میری برابری کرنے والا نہیں ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 20]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4975، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8220 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8204»
وضاحت: فوائد: … انسان کو اپنی اوقات میں رہنا چاہیے اور اپنی ذات کا اتنا غلط اندازہ نہیں کر لینا چاہیے کہ وہ ایسی باتیں کرنا شروع کر دے کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی صفات کا تقاضا متأثر ہونے لگے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4975
Al-Fath al-Rabbani Hadith 20 in Urdu