🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. بَابٌ فِي فَضْلِ الْمُؤْمِنِ وَصِفَتِهِ وَمِثْلِهِ
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 163
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ عَلَى آخِيَّتِهِ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ عَلَى آخِيَّتِهِ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال اس گھوڑے کی طرح ہے، جو حلقہ دار رسی کے ساتھ بندھا ہوا ہو، وہ گھومتا ہے، لیکن بالآخر اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے، بیشک مومن بھول جاتا ہے، لیکن پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 163]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف۔ أخرجه ابويعلي: 1106، 1332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11355»
وضاحت: فوائد: … اس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن گناہوں کی وجہ سے اپنے ربّ سے دور تو ہو جاتا ہے، لیکن چونکہ اس میں اصل ایمان موجود ہوتا ہے، اس لیے وہ نادِم ہو جاتا ہے اور توبہ تائب ہو کر پھر سے اپنے ربّ کے قریب ہو جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 164
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (الْإِسْلَامُ ذَلُولٌ لَا يَرْكَبُ إِلَّا ذَلُولًا) )
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام سہولت والا ہے اور یہ سہولت والے کو ہی نصیب ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْإِيْمَانِ وَ الْإِسْلَامِ/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، معاذ بن رفاعة لين، وابو خلف الاعمي متروك الحديث۔ أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21616»
وضاحت: فوائد: … اسلام، میانہ روی اور اعتدال کا تقاضا کرتا ہے، اسی پر مداومت اور ہمیشگی اختیار کرنے کی امید رکھی جاسکتی ہے، اور جو آدمی افراط اور زیادتی ٔ عمل کو پسند کرتا ہے، اس کے بارے میں یہ خطرہ رہتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ شخص اس سلسلے کو برقرار نہ رکھ سکے، پھر ایسے ہی ہوتا ہے اور وہ اتنا غافل ہو جاتا ہے کہ بد عمل لوگوں میں اس کا شمار ہونے لگتا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں