الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابٌ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ
جرابوں اورجوتوں پر مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 753
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 753]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 159، والترمذي: 99، وابن ماجه: 559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18393»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۶۸۱)کی شرح میں جرابوں پر مسح کرنے وضاحت کی جا چکی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 754
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ
سیدنا اوس بن ابی اوسؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا، اس میں جوتوں پر مسح کیا اور پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 754]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 160، وزاد: ومسح علي نعليه وقدميه، وعند الطبراني والحازمي: ومسح علي قدميه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16258»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 755
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ
۔ (دوسری سند) سیدنا اوس بن ابو اوس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور جوتوں پر مسح کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 755]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك النخعي، ولانقطاعه، يعلي بن عطاء لم يدرك اوس بن ابي اوس، بينھما والد يعلي، وھو مجھول، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16268»
وضاحت: فوائد: … جوتوں پر مسح کے جائز ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں، ایک یہ کہ جوتوںکے ساتھ موزے یا جرابیں بھی پہنی ہوئی تھیں، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باوضو ہونے کے باوجود یہ وضو کررہے تھے، جس میں پاؤں پر مسح کیا جاتا ہے، جیسا کہ چند ابواب پہلے اس مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 756
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسِ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى كِظَامَةَ قَوْمٍ فَتَوَضَّأَ
۔ (تیسری سند) سیدنا اوس ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قوم کی دو کنووں کے درمیان والی نالی کے پاس گئے اور وضو کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 756]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16256»
الحكم على الحديث: ضعیف