🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

46. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي وُضُوءِ مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا
لیٹ کر سو جانے والے کا وضو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 777
عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ وَأَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سُمِعَ لَهُ غَطِيطٌ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی سجدے کی حالت میں سو جائے، اس پر کوئی وضو نہیں ہے، وضو اس پر ہے جو لیٹ کر سو جاتا ہے، کیونکہ جب بندہ لیٹ کر سوتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے اور سست پڑ جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 777]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، يزيد بن عبد الرحمن مختلف فيه۔ أخرجه ابوداود: 202، والترمذي: 77، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2315 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2194»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث اور وہ تمام روایات، جن میں بیٹھنے اور لیٹ کر سونے میں فرق کیا گیا ہے، وہ ضعیف ہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 778
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ الْعَيْنَ وَكَاءُ السَّهْوِ فَمَنْ نَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ) )
سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جو سو جائے، وہ وضو کرے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 778]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: حسن۔ أخرجه ابوداود: 203، وابن ماجه: 477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 887 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 887»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 779
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الْعَيْنَ وَكَاءُ السَّهْوِ، فَإِذَا نَامَتِ الْعَيْنَانِ اسْتَطْلَقَ الْوِكَاءُ) )
سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو تسمہ کھل جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 779]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: حسن لغيره (مشكوة المصابيح)۔ أخرجه الدارمي: 1/ 184، وابويعلي: 7372، والطبراني في الكبير: 19/ 875، والبيھقي: 1/ 118، والدارقطني: 1/ 160، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17003»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۷۷۲)کے فوائد میں ان احادیث کا ذکر کیا جا چکا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں