الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابٌ فِي فَضْلِ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ وَالسَّعْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1035
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْروِ (بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ فَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ وَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ وَقَدْ كَادَ يَحْسِرُ ثِيَابَهُ عَنْ رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: ( (أَبْشِرُوا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، هَٰذَا رَبُّكُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ، يَقُولُ: هَٰؤُلَاءِ عِبَادِي قَضَوْا فَرِيضَةً وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى) )
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ مغرب ادا کی، پس بیٹھنے والے بیٹھ گئے اور واپس جانے والے واپس چلے گئے، پس اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، جبکہ قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھٹنوں سے کپڑے اٹھا دیں اور فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، یہ تمہارا ربّ، اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھولا اور تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے کہا: یہ میرے بندے ہیں، ایک فرض ادا کر چکے ہیں اور دوسرے فرض کا انتظار کر رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1035]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6750»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1036
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ) فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَثُورَ النَّاسُ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَجَاءَ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ رَافِعًا إِصْبَعَهُ هَٰكَذَا وَعَقَدَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ إِلَى السَّمَاءِ وَهُوَ يَقُولُ: ( (أَبْشِرُوا، (فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِيهِ) يَقُولُ: مَلَائِكَتِي! انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَدَّوْا فَرِيضَةً وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى) )
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: قبل اس کے کہ لوگ نمازِ عشا کے لیے جلدی جلدی جمع ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سانس پھولا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی کو اس طرح اٹھایا ہوا تھا، پھر انھوں نے انتیس کی گرہ لگا کر کیفیت کو واضح کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے انگشت ِ شہادت کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: خوش ہو جاؤ، … سابق حدیث کی طرح بات ذکر کی … اللہ تعالیٰ کہتا ہے: میرے فرشتو! تم میرے بندوں کی طرف دیکھو، ایک فریضہ ادا کر چکے ہیں اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1036]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6751»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1037
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مُنْتَظِرُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ كَفَارِسٍ اشْتَدَّ بِهِ فَرَسُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى كَشْحِهِ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَلَائِكَةُ اللَّهِ مَالَمْ يُحْدِثْ أَوْ يَقُومُ وَهُوَ فِي الرِّبَاطِ الْأَكْبَرِ) )
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والے کی مثال اس گھوڑ سوار کی ہے، جس کو اس کا گھوڑا اسے اپنی پشت پر سوار کر کے اللہ کے راستے میں اپنے دشمن کی طرف گھوڑے پر تیزی سے دوڑا جا رہا ہو، جب تک انتظار کرنے والایہ شخص بے وضو نہیں ہو جاتا، اس وقت تک فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں، جبکہ وہ آدمی رباطِ اکبر میں ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1037]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الاوسط: 8140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8610»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1038
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَرْفَعُ اللَّهُ بِهِ الدَّرَجَاتِ وَيُكَفِّرُ بِهِ الْخَطَايَا، إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ) )
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ایسے اعمال پر تمہاری رہنمائی نہ کر دوں کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ درجات کو بلند کرتا ہے اور گناہوں کو مٹاتا ہے، (وہ اعمال یہ ہیں:) ناپسند حالتوں کے باوجود وضو مکمل کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1038]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 251، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7208»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1039
وَعَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (كُلُّ خُطْوَةٍ يَخْطُوها إِلَى الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ وَيُمْحَى بِهَا عَنْهُ سَيِّئَةٌ) )
سیدنا ابو ہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر قدم، جو بندہ نماز کے لیے اٹھاتا ہے، اس کی وجہ سے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک برائی معاف کر دی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1039]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرج مسلم: 666 بلفظ: من تطھر في بيته ثم مشي الي بيت من بيوت الله، ليقضي فريضة من فرائض الله، كانت خطوتاه احداھما تحط خطيئة والاخري ترفع درجة۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7788»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1040
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مِنْ حِينَ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ فَرِجْلٌ تَكْتَبُ حَسَنَةً وَالْأُخْرَى تَمْحُو سَيِّئَةً) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سے تم میں سے کوئی آدمی اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو ایک قدم کے بدلے نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے قدم کے عوض برائی مٹا دی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1040]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8240»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1041
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ يَنْتَظِرُ الَّتِي بَعْدَهَا وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَسْجِدِهِ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ) ) ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ حَضَرَمَوْتَ: وَمَا ذَلِكَ الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، إِنْ فَسَا أَوْ ضَرَطَ
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ آدمی اس وقت تک نماز میں رہتا ہے، جب تک بعد والی نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اور جب تک آدمی (نماز کی ادائیگی کے بعد) اپنی جائے نماز میں رہتا ہے، فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہوئے کہتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما، جب تک بے وضو نہیں ہو جاتا۔ حضرموت کے ایک آدمی نے کہا: ابو ہریرہ! حَدَث (یعنی بے وضو ہو جانے) سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، اس سے مراد پھسکی چھوڑنا یا گوز مارنا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1041]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 477، ومسلم: ص 459، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7879»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1042
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1042]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 422، وابن ماجه: 693، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11028»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں اس باب سے متعلقہ الفاظ یہ ہیں: ((وانکم لن تزالوا فی صلاۃ منذ انتظرتموھا)) … اور تم جب سے اس نماز کا انتظار کرتے رہے، نماز میں ہی رہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1043
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهَّرًا فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى إِلَّا قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ) )
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی باوضو ہو کر گھر سے نکلتا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کر کے اسی جائے نماز میں اگلی نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے تو فرشتے اس کے حق میں یوں دعا کرتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1043]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 427، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11007»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1044
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدِ (السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ جَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ) )
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی (ایک نماز ادا کرنے کے بعد اسی مجلس میں) دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے، وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1044]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 2/ 55، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23200»
الحكم على الحديث: صحیح