الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ حَدِّ الْعَوْرَةِ وَبَيَانِهَا وَحُجَّةِ مَنْ قَالَ أَنَّ الْفَخْذَ عَوْرَةٌ
عورۃ اور اس کی حد کا اورران کو پردہ قرار دینے والے کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 1385
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلَا مَيِّتٍ) )
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ران ننگی نہ کر اورنہ ہی کسی زندہ اور مردہ کی ران کی طرف دیکھ۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1385]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه۔ أخرجه ابوداود: 3140، 4015، وابن ماجه: 1460، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1249 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1249»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1386
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَفَخِذُهُ خَارِجَةٌ، فَقَالَ: ( (غَطِّ فَخِذَكَ فَإِنَّ فَخِذَ الرَّجُلِ مِنْ عَوْرَتِهِ) )
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، اس کی ران (کپڑے سے) باہر نکلی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ران ڈھانپ لے، کیونکہ آدمی کی ران اس کے چھپائے جانے والے حصوں میں شامل ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1386]
تخریج الحدیث: «حسن بشواھده، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه الترمذي: 2796، والحاكم: 4/ 181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2493)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2493»
الحكم على الحديث:
حسن بشواھده
حدیث نمبر: 1387
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مُرُوا أَبْنَاءَكُمْ بِالصَّلَاةِ لِسَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا لِعَشْرِ سِنِينَ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ، وَإِذَا أَنْكَحَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ فَلَا يَنْظُرَنَّ إِلَى شَيْءٍ مِنْ عَوْرَتِهِ، فَإِنَّ مَا أَسْفَلَ مِنْ سُرَّتِهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مِنْ عَوْرَتِهِ) )
سیّدنا عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اس کے دادا (سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص) رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے بیٹے سات سال کے ہو جائیں تو ان کو نماز کا حکم دینا شروع کر دیا کرو،جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو (نماز میں سستی کی وجہ سے) ان کی پٹائی کیا کرواور بستروں میں ا نہیں علیحدہ علیحدہ کردیا کرو اور جب کوئی آدمی اپنی لونڈی کا اپنے غلام یا اپنے مزدور کے ساتھ نکاح کر دے تو وہ اس کے (ستر) عورۃ (یعنی ستر) کی طرف نہ دیکھا کرے،(یاد رہے کہ) عورہ کی حد ناف سے گھٹنے تک ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1387]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه بطوله ابوداود: 496، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6756)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6756»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه بطوله ابوداود: 496
حدیث نمبر: 1388
عَنْ زُرْعَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ جَرْحَدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى جَرْحَدًا فِي الْمَسْجِدِ وَعَلَيْهِ بُرْدَةٌ قَدِ انْكَشَفَ فَخِذُهُ، فَقَالَ: ( (الْفَخِذُ عَوْرَةٌ) )
زرعہ بن مسلم، سیّدنا جرہد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا جرہد رضی اللہ عنہ کو مسجد میں دیکھا کہ ان پر ایک چادر تو تھی لیکن ان کی ران ننگی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ران چھپائی جانے والی چیز ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1388]
تخریج الحدیث: «حسن بشواھده، وھذا اسناد ضعيف لاضطرابه۔ أخرجه الترمذي: 2795، والحميدي: 857، والطبراني في الكبير: 2146، وابن ابي شيبة: 9/ 118، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16023»
الحكم على الحديث:
حسن بشواھده، وھذا اسناد ضعيف لاضطرابه۔
حدیث نمبر: 1389
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَرْحَدٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ جَرْحَدًا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (فَخِذُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ عَوْرَةٌ) )
ایک دوسری سند کے ساتھ عبد اللہ بن جرہد اسلمی سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سیّدنا جرہد رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے کہا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مسلمان آدمی کی ران عورہ (چھپایا جانے والا حصہ) ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1389]
تخریج الحدیث: «حسن بشواھده دون لفظ مسلم، ولعله من اغاليط زھير بن محمد التميمي۔ أخرجه الترمذي: 2797، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15930)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16026»
الحكم على الحديث:
حسن بشواھده دون لفظ مسلم
حدیث نمبر: 1390
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا كَاشِفٌ فَخِذِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (غَطِّهَا فَإِنَّهَا مِنَ الْعَوْرَةِ) )
اور انہی سے ایک تیسری سند کے ساتھ مروی ہے: وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، جبکہ ان کی ران سے کپڑا ہٹا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے ڈھانپ کر رکھ کیونکہ یہ عورہ میں شامل ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1390]
تخریج الحدیث: «حسن بشواھده، وھذا اسناد مضطرب۔ أخرجه الترمذي: 2798، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15929)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16025»
الحكم على الحديث:
حسن بشواھده، وھذا اسناد مضطرب
حدیث نمبر: 1391
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ خَتَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى مَعْمَرٍ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ مُحْتَبِيًا كَاشِفًا عَنْ طَرَفِ فَخِذِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (خَمِّرْ فَخِذَكَ يَا مَعْمَرُ! فَإِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ) )
سیّدنا محمد بن جحش رضی اللہ عنہ، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سالہ ہے، سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے صحن میں سیّدنا معمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ گوٹھ مار کر ایک طرف سے اپنی ران ننگی کر کے بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: اے معمر! اپنی ران ڈھانپ کے رکھو کیونکہ ران عورۃ میں شامل ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1391]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/474، والحاكم: 3/ 637،والبيھقي: 2/ 228، والطبراني: 19/ (550) و (552)، وعلقه البخاري: 1/ 478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22494)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22861»
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/474
حدیث نمبر: 1392
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ عَلَى مَعْمَرٍ وَفَخِذَاهُ مَكْشُوفَتَانِ فَقَالَ: ( (يَا مَعْمَرُ! غَطِّ فَخِذَيْكَ فَإِنَّ الْفَخِذَيْنِ عَوْرَةٌ) )
اوران ہی سے ایک دوسری سند کے ساتھ مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم معمر کے پاس سے گزرے اور ان کی رانیں ننگی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا: معمر! اپنی رانیں ڈھانپ لو کیونکہ رانیں بھی عورہ ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1392]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الحاكم: 4/ 180، والبخاري في تاريخه: 1/ 13، وانظر ما قبله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22495)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22862»
وضاحت: فوائد: … ان تمام احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کی ران بھی پردہ والی جگہ ہے، اس کو ڈھانپا جائے۔ اگلے باب میں مسئلہ کی تحقیق پیش کی جائے گی۔ قارئین سے التماس ہے کہ وہ تمام نصوص کا بغور جائزہ لیں۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه الحاكم: 4/ 180