🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. بَابُ هَيْئَاتِ السُّجُودِ وَكَيْفَ الْهَوِيِّ إِلَيْهِ
سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1716
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْجَمَلُ، وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ ثُمَّ رَكْبَتَيْهِ) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی سجدہ کرے تو وہ اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نہ بیٹھے، بلکہ پہلے اپنے ہاتھوں کو رکھے اور پھر گھٹنوں کو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1716]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 840، والنسائي: 2/ 207، والترمذي: 269 والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 182، وفي شرح معاني الآثار: 1/ 254، والبيھقي: 2/99، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8942»
وضاحت: فوائد: … شرح میں سنن کی وائل بن حجرکی سند کو حسن لغیرہ کہا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فعل پہلے گھٹنے رکھنا ہے۔
ترمذی نے کہا یہ روایت شریک کے واسطہ سے مروی ہے۔ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: شریک حافظہ کے لحاظ سے یہ ضعیف ہے۔ دارقطنی نے کہا: شریک اس کے ساتھ منفرد ہے اور شریک کی متفرد روایت قوی نہیں ہوتی۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 840
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1717
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ قَالَ: إِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ فَإِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَهُ فَلْيَرْفَعْهُمَا
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ ہاتھ بھی چہرے کی طرح سجدہ کرتے ہیں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کے لیے اپنا چہرہ رکھے تو اپنے ہاتھ بھی رکھ دے اور جب اسے اٹھائے تو ان کو بھی اٹھا لے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1717]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 892، والنسائي: 2/ 207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4501»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 892
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1718
عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ يُجَنِّحُ فِي سُجُودِهِ حَتَّى يُرَى وَضَحُ إِبْطَيْهِ (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے تو بازو پہلو سے اتنا دور رکھتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1718]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3564، ومسلم: 495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22923، 22925 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23311»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3564
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1719
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
۔ (دوسری سند) سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو بازو پہلو سے الگ کرتے حتی کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہو جاتی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1719]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23313»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23313
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1720
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِفُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ هَوَى سَاجِدًا وَقَالَ ( (اللَّهُ أَكْبَرُ) ) ثُمَّ جَافَى وَفَتَحَ عَضُدَيْهِ عَنْ بَطْنِهِ وَفَتَحَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَيْهَا وَاعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ
سیدنا ابو حمیدساعدی رضی اللہ عنہ رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز(کا طریقہ) بیان کرتے ہیں فرمایا:پھر آپ سجد ہ کرتے ہوئے نیچے جھکے اور اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہاپھر کشادگی ا ختیارکی اور اپنے بازو اپنے پیٹ سے کھول کر رکھے اور اپنے پاؤں کی انگلیاں موڑ کر (قبلے کی طرف) رکھیں، (پھر اٹھے اور)اپنا (بایاں) پاؤں موڑ کر رکھا اور اس پر بیٹھ گئے اور برا بر ہوگئے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ میں لوٹ آئی، …۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1720]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 828، وابوداود: 730، 963، وابن ماجه: 862، والترمذي: 304، والنسائي: 2/ 187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23997»

الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 828
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1721
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (اعْتَدِلُوا فِي سُجُودِكُمْ وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ، أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي أَوْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سجدوں میں اعتدال اختیار کرو،کوئی آدمی اپنے بازو کتے کی طرح مت بچھائے، رکوع وسجود کو پورا کرو، اللہ کی قسم! جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو تومیں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1721]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 822، ومسلم: 493، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12149، 12812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14018»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 822
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1722
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی سجدہ کرے تو وہ اعتدال کرے اور کتے کی طرح اپنے بازو مت بچھائے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1722]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 891، والترمذي: 275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14437»
وضاحت: فوائد: … اس مقام پر اعتدال کا مفہوم یہ ہے کہ سجدے میں اپنے بازوؤں کو نہ زمین پر بچھائے اور نہ اپنے جسم کے ساتھ بند کر لے، بلکہ درمیان میں رکھے اور ہتھیلیوں کو زمین پر رکھے اور کہنیوں کو زمین اور پہلوؤں سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھے، کیونکہ اس صورت میں زیادہ عاجزی ہے اور بندہ سستی سے دور رہتا ہے اور پیشانی اچھی طرح زمین پر ٹک جاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 891
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1723
عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنَّ مَوْلَاكَ إِذَا سَحَدَ وَضَعَ جَبْهَتَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَصَدْرَهُ بِالْأَرْضِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى مَا تَصْنَعُ؟ قَالَ: التَّوَاضُعُ، قَالَ: هَٰكَذَا رِبْضَةُ الْكَلْبِ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رُؤِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
شعبہ کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: آپ کا غلام جب سجدہ کرتا ہے تو اپنی پیشانی، بازو اور سینہ زمین پر لگا دیتا ہے۔ انھوں نے اس سے پوچھا: کون سی چیز تجھے اس طرح کرنے پر ابھارتی ہے؟ اس نے کہا: تواضع (کی خاطر ایسا کرتا ہوں)۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو کتے کی ہیئت ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی تھی [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1723]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، والمرفوع منه صحيح لغيره، شعبة بن دينار مولي ابن عباس سيء الحفظ۔ أخرج المرفوع منه الطيالسي: 2727، والطبراني: 12219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2073، 2933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2933»
وضاحت: فوائد: … سجدہ کی حالت میں سینے کو زمین پر نہیں رکھا جا سکتا ہے، اس حدیث کے شروع والے حصے میں جو کیفیت بیان کی گئی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ جب آدمی پیشانی اور بازوؤں کو زمین پر رکھتا ہے، تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کا اگلا حصہ زمین پر پڑا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1724
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تَدَبَّرْتُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ مُخَوِّيًا فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کو غور سے دیکھا،پس میں نے دیکھا کہ آپ زمین سے پیٹ کو اٹھا کر رکھتے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی بھی دیکھی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1724]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 899، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2405 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2781»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 899
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1725
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ بَيَاضَ كَشْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوکھ کی سفیدی دیکھی، جب کہ آپ سجدہ کررہے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1725]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11129»
وضاحت: فوائد: … یعنی بازوؤں کو پیٹ سے دور رکھنے کی وجہ سے کوکھ کی سفیدی نظر آنے لگی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں