🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. بَابُ مَا يَصْنَعُ مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1982
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى صَلَاةً يَشُكُّ فِي النُّقْصَانِ فَلْيُصَلِّ حَتَّى يَشُكَّ فِي الزِّيَادَةِ) )
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: کیامیں تمہیں وہ حدیث نہ بیان کروں جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ انھوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص نماز پڑھتا ہے اور اسے اس کے کم ہونے کا شک ہوتا ہے تو وہ نماز پڑھتا رہے، یہاں تک کہ اسے زیادہ ہونے میں شک ہونے لگے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1982]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اسماعيل بن مسلم المكي البصري متروك الحديث، قاله النسائي۔ أخرجه البزار: 997، وابويعلي: 855، والدارقطني: 1/ 369، والبيھقي: 2/ 332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1689»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم درج ذیل حدیث کی بنا پر درست ہے: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو نماز میں شک ہو جائے اور اسے یہ پتہ نہ چل سکے کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو، تو وہ اس کو ایک سمجھے اور اگر اسے یہ شک پڑ جائے کہ دو رکعات پڑھی ہیںیا تین، تو ان کو تین سمجھے، … …۔ (حسن لغیرہ، مسند احمد: ۱۶۵۶، ترمذی: ۳۹۸، ابن ماجہ: ۱۲۰۹)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1983
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ) ) وَفِي لَفْظٍ: ( (فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ) )
سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز میں شک کرے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔ ایک روایت میں ہے: وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرلے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1983]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن مسافع لا يعرف بجرح ولا تعديل، ومصعب بن شيبة لين الحديث، وعقبة (والصواب: عتبة) بن محمد ليس بمعروف، وذكره ابن حبان في الثقات و ضعّفه ابن قدامة في المغني، ثم ھو مضطرب۔ أخرجه النسائي: 3/ 30، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1747، 1761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1761»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1984
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا إِغْرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمَ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ نماز (کے ارکان) میں نقص پیدا کرنا جائز ہے اور نہ (نماز میں) سلام کہنا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1984]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 928، 929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9936، 9937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9938»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوعمرو شیبانی نے کہا: لَاغِرَارَ کا معنییہ ہے کہ آدمی اپنی نماز سے اس حال میں نہ نکلے کہ اسے نماز کے کسی حصے کے باقی رہنے کا گمان ہو، بلکہ (وہ اس وقت سلام پھیرے) جب اسے نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو۔ ابن اثیر نے کہا: غِرَارُ الصَّلَاۃِ سے مراد نماز کی کیفیات و ارکان میں نقص کرنا ہے اور غِرَارُ التَّسْلِیْمِ سے مراد یہ ہے کہ نمازی (جوابًا) وَعَلَیْکَ کہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے کہا: وَلَا تَسْلِیْمَ کا یہ معنی نہیں کہ غیر نمازی، نمازی کو سلام نہ کہے، کیونکہ کئی احادیث میں ثابت ہے کہ صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہتے تھے (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اشارے سے جواب دیتے تھے)۔ جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد قبا میں گئے اور نماز پڑھ رہے تھے، اسی اثنا میں انصاری لوگ آئے اور آپ کو سلام کہا، حالانکہ آپ نماز میں تھے۔ میں نے سیدنا بلال سے پوچھا: جب یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حالت ِ نماز میں سلام کہتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا جواب کیسے دیتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ (اشارہ کرتے ہوئے) اس طرح کرتے تھے۔ پھر (آپ کے ہاتھ کی کیفیت بیان کرنے کے لیے) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنی ہتھیلی کو آگے کی طرف پھیلا دیا۔ (ابوداود) (صحیحہ: ۳۱۸) خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ جب تک نمازی کو نماز کی تکمیل کا یقین نہ ہو جائے وہ سلام نہیں پھیر سکتا، نیز وہ سلام کا جواب بول کر نہیں دے سکتا، کیونکہ اسے کلام کہتے ہیں، جو نماز میں حرام ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 928
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1985
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ (يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ) عَنْ سُفْيَانَ (يَعْنِي الثَّوْرِيَّ) قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا إِغْرَارَ فِي الصَّلَاةِ) ) فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ لَا غَرَارَ فِي الصَّلَاةِ، وَمَعْنَى غِرَارَ يَقُولُ لَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهُ قَدْ بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ عَلَى الْيَقِينِ وَالْكَمَالِ ذَكَرَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ هَذَا الْقَوْلُ بَعْدَ الْحَدِيثِ السَّابِقِ: 887
سفیان ثوری کہتے ہیں: میرے باپ نے ابو عمرو شیبانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول لَا إِغْرَارَ فِی الصَّلاَۃِ۔ (نماز میں نقص پیدا کرنا نہیں ہے۔) کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا: یہ روایت اس طرح ہے: لَا غِرَارَ فِی الصَّلَاۃِ۔ اور لَا غِرَار کا معنی یہ ہے کہ بندہ اس حال میں نماز سے نہ نکلے کہ اسے یہ گمان بھی ہو کہ اس کی نماز کا کچھ حصہ باقی ہے، (وہ اس وقت نکلے) جب اسے مکمل ہونے کا یقین ہو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1985]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9938»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی صحیح احادیث میں سہو کے دو سجدوں کی درج ذیل تین صورتیں بیان کی گئی ہیں:
(۱) اگر نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور وہ حتمی فیصلہ نہ کر سکنے کی وجہ سے کم تعداد پر بنیاد رکھے تو وہ سلام سے پہلے دو سجدے کرے۔
(۲) اگر نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور مختلف قرائن کی روشنی میں اسے کسی صورت پر ظن غالب ہو جائے تو وہ سلام کے بعد سجدے کرے۔
(۳) اگر سلام کے بعد کسی زیادتی کا پتہ چلے یا ایسی کمی کا جس کا اعادہ نہیں کیا جاتا، تو اسی وقت سجدے کئے جائیں اور پھر سلام پھیرا جائے۔ (بخاری، مسلم) مثلا سلام پھیرنے کے بعد پتہ چلے کہ پانچ رکعتیں پڑھ لی گئی ہیںیا تشہد رہ گیا ہے۔ باقی صورتوں کا ذکر اگلے ابواب میں آ رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9938
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں