الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ مَا يَصْنَعُ مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1972
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا غُلَامُ! هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذَا شَكَّ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ مَاذَا يَصْنَعُ؟ قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ: فِيمَ أَنْتُمَا؟ فَقَالَ عُمَرُ: سَأَلْتُ هَٰذَا الْغُلَامَ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذَا شَكَّ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ مَاذَا يَصْنَعُ؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَوَاحِدَةً صَلَّى أَمْ ثِنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً، وَإِذَا لَمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَمْ ثَلَاثًا فَلْيَجْعَلْهَا ثِنْتَيْنِ، وَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَجْعَلْهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ يَسْجُدُ إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ سَجْدَتَيْ سَهْوٍ) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے لڑکے! کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی سے کوئی ایسی حدیث سنی ہے کہ اگر نمازی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ یہی بات ہو رہی تھی کہ اتنے میں سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پہنچ گئے اور انھوں نے پوچھا: تم کیا بات کر رہے ہو؟ سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس لڑکے سے پوچھا ہے کہ کیا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یا کسی صحابی سے کوئی اس قسم کی حدیث سنی ہے کہ جب آدمی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ یہ سن کر سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اوروہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو تو وہ ایک رکعت ہی سمجھ لے، جب اسے یہ پتہ نہ چل سکے کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین تو وہ ان کو دو ہی سمجھ لے اور جب اسے یہ معلوم نہ ہو سکے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ ان کو تین ہی سمجھ لے، پھر جب نماز سے فارغ ہو نے لگے تو بیٹھے بیٹھے اور سلام سے پہلے دو سجدے کر لے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1972]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 398، وابن ماجه: 1209، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1656»
وضاحت: فوائد: … جب نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور وہ کوئی ظن غالب قائم نہ کر سکے تو احتیاط کرتے ہوئے کم تعداد پر بنیاد رکھ کر نماز مکمل کرے اور ایسی صورت میں سلام سے پہلے دو سجدے کر لے، ان کو سجدۂ سہو کہتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 398
حدیث نمبر: 1973
عَنْ مُرَّةَ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ عَنْ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي صَلَّيْتُ فَلَمْ أَدْرِ أَشَفَعْتُ أَمْ أَوْتَرْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِيَّايَ وَأَنْ يَتَلَعَّبَ بِكُمُ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِكُمْ، مَنْ صَلَّى مِنْكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَشَفَعَ أَمْ أَوْتَرَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا تَمَامُ صَلَاتِهِ) )
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے نمازپڑھی لیکن (بھول گیا)، جس کی وجہ سے اب یہ پتہ نہیں چل رہا کہ جفت رکعتیں پڑھی ہیں یا طاق؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے آپ کواس سے ڈراتا ہوں کہ شیطان تمہاری نماز میں تم سے کھیلنے لگ جائے، تم میں سے جو آدمی نماز پڑھے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ جفت رکعتیں پڑھ لی ہیں یا طاق تو وہ دو سجدے کر لے، ان سے اس کی نماز کی تکمیل ہو جائے گی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1973]
تخریج الحدیث: «حسن وانظر الحديث بالسند الثاني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 450»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کو دوسری روایات کی روشنی میں سمجھیں گے کہ ایسا نمازی کمی کی صورت میں پہلے کمی کو پورا کرے گا، پھر سجدے کرے گا۔
الحكم على الحديث:
حسن وانظر الحديث بالسند الثاني
حدیث نمبر: 1974
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلَّى بِنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَيْنَا بَعْدَ صَلَاتِهِ فَقَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَسَجَدَ مِثْلَ هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا فَأَعْلَمَنَا أَنَّهُ صَلَّى مَعَ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ
۔ (دوسری سند)مرہ بن معبد کہتے ہیں: یزید بن ابو کشبہ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں نے مروان بن حکم کے ساتھ نماز پڑھی تھی، انہوں نے اسی طرح دو سجدے کیے تھے، پھر وہ ہماری طرف پھرے اور ہمیں یہ بتلایا کہ انھوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تھا، پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1974]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أورده البخاري في تاريخه الكبير: 8/ 355، وأخرجه أبو نعيم في معرفة الصحابة: 285، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 451»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أورده البخاري في تاريخه الكبير : 8/ 355
حدیث نمبر: 1975
عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَلَا أَدْرِي زَادَ أَمْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: ( (لَا، وَمَا ذَٰكَ؟) ) قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَثَنَى رِجْلَيْهِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: ( (إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّلَاةَ، فَإِذَا سَلَّمَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ) )
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی،مجھےیہ یاد نہیں رہا کہ زیادتی ہو گئی تھی یا کمی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز مشروع ہو گئی ہے؟ آ پ نے فرمایا: (نہیں، اور وہ کیا ہے (جو تم محسوس کر رہے ہو)؟ لوگوں نے کہا: آپ نے اتنی اتنی نماز پڑھائی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور سہوکے دو سجدے کئے، پھر جب سلام پھیرا تو فرمایا: میں تو ایک انسان ہی ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو اسی طرح میں بھی بھول جاتا ہوں، جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ نماز (کی رکعتوں کی تعداد کی درست صورت کو) تلاش کرے اور جب سلام پھیرے تو دو سجدے کر لے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1975]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 401، 6671، ومسلم: 572، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3602 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3602»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 401
حدیث نمبر: 1976
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: ( (لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ لَأَنْبَأْتُكُمُوهُ وَلَٰكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِنْ نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ لِلصَّوَابِ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ وَيُسَلِّمْ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ) )
۔ (دوسری سند)اسی قسم کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا،قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے، پھر ہم پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر نماز میں کوئی نئی چیز مشروع ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتاتا، بات یہ ہے کہ میں صرف ایک انسان ہوں، میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں، جیسے تم بھولتے ہو، پس اگر میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کرا دیا کرو اور تم میں جس کسی کو بھی نماز میں شک ہو جائے تو وہ ایسی صورت کو تلاش کرے جو درستگی کے زیادہ قریب ہو، پھر اس نماز کو مکمل کرے اور سلام پھیر کر دو سجدے کر لے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1976]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4174»
وضاحت: فوائد: … وہ ایسی صورت کو تلاش کرے جو درستگی کے زیادہ قریب ہو۔ اس سے مراد ظن غالب ہے کہ وہ مختلف قرائن کو دیکھ کر ایسا فیصلہ کرے جس پر اس کے نفس کو اطمینان ہو۔ یہ صورت اس صورت سے مختلف ہے، جس میں بندے کو ایسا شک ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے کم پر یقین کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، اس شک والی صورت کی وضاحت اس باب کی پہلی حدیث میں ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 1977
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا كُنْتَ فِي الصَّلَاةِ فَشَكَكْتَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ، وَأَكْثَرُ ظَنِّكَ عَلَى أَرْبَعٍ، تَشَهَّدْتَّ ثُمَّ سَجَدْتَّ سَجْدَتَيْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسَلِّمَ، ثُمَّ تَشَهَّدْتَّ أَيْضًا ثُمَّ سَلَّمْتَ) )
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تونماز میں ہو اور تین یا چار رکعتوں میں شک ہو جائے، البتہ تیرا زیادہ گمان چار پر ہو، تو تو تشہد پڑھ اور سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر، پھر تشہد پڑھ اور اس کے بعد سلام پھیر۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1977]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه عبد الله بن مسعود، وخصيف بن عبد الرحمن الجزري سيء الحفظ۔ أخرجه ابوداود: 1028، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4075»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 1978
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: ( (إِذَا شَكَكْتَ فِي صَلَاتِكَ وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمْ تَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّيْتَ أَمْ أَرْبَعًا، فَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ ظَنِّكَ أَنَّكَ صَلَّيْتَ ثَلَاثًا فَقُمْ فَارْكَعْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلِّمْ ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدْ ثُمَّ سَلِّمْ، وَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ ظَنِّكَ أَنَّكَ صَلَّيْتَ أَرْبَعًا فَسَلِّمْ ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدْ ثُمَّ سَلِّمْ) )
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تجھے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور تو بیٹھا ہوا ہو اور تجھے یہ پتہ نہ چل سکے کہ تو نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، تو اگر تیرا غالب ظن یہ ہو کہ تو نے تین رکعتیں پڑھ لی ہیں تو تو کھڑا ہو جا اور ایک رکعت ادا کر، پھر سلام پھیر، پھر دو سجدے کر، پھر تشہد پڑھ اور پھر سلام پھیر، اور اگر غالب ظن یہ ہو کہ تو نے چار رکعتیں پڑھ لی ہیں تو سلام پھیر دے، پھر دو سجدے کر، پھر تشہد پڑھ اور پھر سلام پھیر دے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1978]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، وھذا موقوف والحديث بالطريق الاول مرفوع، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4076»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 1979
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ فَيُلَبِّسُ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو اس کے پاس شیطان آتا ہے تو اس پر اس کی نماز کو اتنا خلط ملط کر دیتا ہے کہ وہ یہ بھی نہیں جان سکتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے، پس جو آدمی ایسی صورتحال پائے تو وہ دو سجدے کرے، اس حال میں کہ وہ بیٹھا ہوا ہو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1979]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1232، ومسلم: 389، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7284»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1232
حدیث نمبر: 1980
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَإِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحَهُ بِأَنْفِهِ أَوْ سَمِعَ صَوْتَهُ بِأُذُنِهِ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور وہ (اس قدر بھول جائے کہ یہ) بھی نہ جان سکے کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے تووہ بیٹھے بیٹھے ہی دو سجدے کرلے اور جب شیطان کسی کے پاس آ کر کہے کہ تو بے وضو ہو گیا ہے تو وہ اسے کہے کہ تو نے جھوٹ کہا، الا یہ کہ وہ اپنے ناک سے بو محسوس کر لے یا اپنے کان سے آواز سن لے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1980]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة عياض۔ أخرجه ابوداود: 1029، والترمذي: 396، وابن ماجه: 1204، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11098»
وضاحت: فوائد: … اگلی حدیث میں اس تفصیل کا بیان ہے کہ سجدۂ سہو کرنے سے پہلے رکعات کی تکمیل کیسے کرنی ہو گی۔ شیطان کا بے وضو کہنے سے مراد بے وضگی کا وسوسہ ڈالنا ہے، ایسی صورت میں نمازی کو اس کے وسوسے سے متأثر نہیں ہونا چاہیے اور ایسے خیال کو فوراً دفع کر دینا چاہیے، ہاں اگر نمازی کو وضو ٹوٹ جانے کا یقین ہو جائے تو وہ دوبارہ وضو کرے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1981
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِكْ كَمْ صَلَّى فَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ حَتَّى إِذَا اسْتَيْقَنَ أَنْ قَدْ أَتَمَّ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنَّهُ إِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ وَتْرًا صَارَتْ شَفْعًا وَإِنْ كَانَتْ شَفْعًا كَانَ ذَلِكَ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے، تو وہ یقین پر بنیاد رکھے (اور مزید رکعت ادا کرے) حتی کہ اسے نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو جائے، پھر وہ سلام سے پہلے دو سجدے کرے، اگر اس کی (پڑھی ہوئی زائد نماز) طاق رکعتیں ہوں گی تو وہ (سہو کے دو سجدوں) کی بنا پر جفت بن جائے گی اور اگر اس کی نماز جفت (یعنی پوری ہی) ہو گی تو یہ سجدے شیطان کو خاک آلود کریں دیں گے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1981]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 571، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11712»
وضاحت: فوائد: … اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی چار رکعتی نماز کی پانچ رکعتیں ادا کر لیتا ہے تو چار رکعت بطورِ فرض قبول ہوں گے اور بقیہ ایک رکعت، سہوکے دوسجدوں کے ساتھ مل کر دو نفل کے قائم مقام ہو جائے گی۔ اور اگر اس نے نماز پوری ہی پڑھی ہو گی تو سہو کے سجدوں کی وجہ سے شیطان ذلیل ہو گا کہ اس نے تو نماز کو باطل ہو جانے اور نمازی پر اس کو خلط ملط کر دینے کی کوشش کی تھی، لیکن اس نے زائد دو سجدوں کے ذریعے اسے مزید ذلیل کر دیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 571