🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

40. بَابُ جَامِعِ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَرَوَاتِبِ الْفَرَائِضِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2043
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا) ) وَفِي لَفْظٍ: ( (صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا) )
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نمازوں کا کچھ حصہ گھروں میں بھی ادا کیا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ ایک روایت میں ہے: اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور ان کو قبریں نہ بنا لو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2043]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 432،1187 ومسلم: 777، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4511، 4653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4653»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 432
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2044
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا) ) وَفِي لَفْظٍ: ( (صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا) ) ٭
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نمازوں کا کچھ حصہ گھروں میں بھی ادا کیا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ ایک روایت میں ہے: اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور ان کو قبریں نہ بنا لو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2044]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 432،1187 ومسلم: 777، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4511، 4653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4653»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 432
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2045
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَهُ، قَالَ: قُلْنَا: أَخْبِرْنَا بِهِ، نَأْخُذْ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَٰهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَهَا مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ هَٰهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَٰهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَهَا مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ مِنْ هَٰهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تِلْكَ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَقَلَّ مَنْ يُدَاوِمُ عَلَيْهَا
عاصم بن ضمرۃ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے وقت کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: تم تو اس کی ادائیگی کی طاقت ہی نہیں رکھتے۔ ہم نے کہا: آپ ہمیں بتا تو دیں، جتنی طاقت ہم میں ہوئی، ہم اس کے مطابق عمل کریں گے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو ٹھہر جاتے حتیٰ کہ جب سورج مشرق کی سمت میں اتنا بلند ہو جاتا جتنا کہ عصر کی نماز کے وقت مغرب کی طرف ہوتا ہے، اس وقت آپ اٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہر جاتے، حتیٰ کہ جب سورج مشرق کی سمت میں وہاں آ جاتا، جہاں ظہر کے وقت مغرب میں ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار رکعت ادا کرتے، پھر چار رکعتیں ظہر سے پہلے پڑھتے، جبکہ سورج ڈھل چکا ہوتا تھا، ظہر کے بعد دو رکعتیں اورعصر سے پہلے چار رکعت ادا کرتے تھے اور ہر دو رکعتوں کے درمیان مقرب فرشتوں، نبیوں اور ان کی پیروی کرنے والے مومنوں اور مسلمانوں کے لیے سلامتی کی دعا کرنے کے ساتھ فرق کرتے (یعنی سلام پھیرتے)۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سولہ رکعتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دن کے وقت نفل نماز ہے اور ایسے لوگ کم ہی ہیں، جو ان پر ہمیشگی کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2045]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 1161، والترمذي: 424، 429، والنسائي: 2/ 120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 650»

الحكم على الحديث: اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 1161
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2046
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لِأَبِي إِسْحَاقَ حِينَ حَدَّثَهُ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ! يَسْوَى حَدِيثُكَ هَٰذَا مِلْءَ مَسْجِدِكَ ذَهَبًا، (وَفِي لَفْظٍ:) قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ! مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِحَدِيثِكَ هَٰذَا مِلْءَ مَسْجِدِكَ هَٰذَا ذَهَبًا
حبیب بن ابی ثابت نے کہا: اے ابو اسحاق! اے ابو اسحاق! آپ کی یہ حدیث تو آپ کی سونے سے بھری ہوئی مسجد کے برابر ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: حبیب بن ابی ثابت نے کہا: اے ابو اسحاق! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے لئے آپ کی اس حدیث کے بدلے سونے سے بھری ہوئی مسجد ہو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2046]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1208»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2047
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ التَّطَوُّعِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَبِالنَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً
اور اس سے یہ بھی روایت ہے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت نوافل آٹھ رکعت اور دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2047]
تخریج الحدیث: «سعيد بن خثيم وفضيل بن مرزوق صدوقان يھمان۔ أخرجه ابويعلي: 495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1261»
وضاحت: فوائد: … ابو اسحاق سے صحیح اسانید سے مروی روایات میں دن میں سولہ رکعت نفلی نماز کا ذکر ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۹۳۵) میں گزر چکا ہے۔

الحكم على الحديث: سعيد بن خثيم وفضيل بن مرزوق صدوقان يھمان۔ أخرجه ابويعلي: 495
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2048
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى كُلِّ إِثْرِ صَلَاةٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ) مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر اور عصر کے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2048]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 1275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1012، 1226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1226»

الحكم على الحديث: اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 1275
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2049
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي بَيْتِهِ، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَيُنَادِي الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ قَالَ أَيُّوبُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) أُرَاهُ قَالَ خَفِيفَتَيْنِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فِي بَيْتِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعت، اس کے بعد دو رکعت، مغرب کے بعد دو رکعت گھر میں، عشاء کے بعد دو رکعت گھر میں نماز پڑھی، اور مجھے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ جب فجر طلوع ہوجاتی اور مؤذن نماز کے لئے اذان کہہ دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہلکی پھلکی دو رکعتیں ادا کرتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں گھر میں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2049]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 1165، 1180، ومسلم:882، وابوداود: 1128، والترمذي: 425، 432، والنسائي: 3/ 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4506، 4591 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4506»

الحكم على الحديث: أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 1165
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2050
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الظُّهْرِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَهَا سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ سَجْدَتَيْنِ، فَأَمَّا الْجُمُعَةُ وَالْمَغْرِبُ فِي بَيْتِهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَتْنِي أُخْتِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، قَالَ وَكَانَتْ سَاعَةً لَا أَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا
۔ (دوسری سند)سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو،اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ اور مغرب کے بعد والی نماز گھر میں پڑھتے تھے۔ اور مجھے میری بہن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب فجر طلوع ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ ایسی گھڑی تھی کہ میں اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں جاتاتھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2050]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1172، ومسلم: 729، ورواية البخاري: فأما المغرب والعشاء ففي بيته، ورواية مسلم: فأما المغرب والعشاء والجمعة، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4660»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ظہر سے پہلے دو سنتیں ثابت ہو رہی ہے، اگلے باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ظہر سے پہلے چار سنتیں پڑھا کرتے تھا، اب اِس سے مراد یہ ہے کہ بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے تھے یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو صرف دو رکعتوں کا علم ہو سکا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار ہی پڑھا کرتے تھے، یہ دونوں احتمال ممکن ہیں، بہرحال چار کی افضلیت مسلّم ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1172
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2051
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي لَا يَدَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ظہر سے پہلے دو، اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور فجر سے پہلے دو رکعتیں،یہ ایسی نماز تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کو ترک نہیں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2051]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، انظر الحديث السابق: 938، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5127 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5127»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ظہر سے پہلے دو سنتیں ثابت ہو رہی ہے، اگلے باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ظہر سے پہلے چار سنتیں پڑھا کرتے تھا، اب اِس سے مراد یہ ہے کہ بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے تھے یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو صرف دو رکعتوں کا علم ہو سکا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار ہی پڑھا کرتے تھے، یہ دونوں احتمال ممکن ہیں، بہرحال چار کی افضلیت مسلّم ہے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2052
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ التَّطَوُّعِ فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فِي بَيْتِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِهِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِهِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٍ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٍ وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٍ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٍ وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْفَجْرِ
عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھ کر نکلتے تھے، پھر لوگوں کو نماز پڑھا کر میرے گھر واپس آتے اور دو رکعتیں ادا کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا کر گھر میں واپس آتے اور دو رکعت نماز پڑھتے،پھر آپ عشاء کی نماز پڑھاکر میرے گھر میں داخل ہوتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو وتر سمیت نو رکعت نماز پڑھتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو کافی وقت کھڑے ہو کر اور کافی وقت بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر قراءت کر رہے ہوتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہوکر ہی ادا کرتے تھے اور جب قراءت بیٹھ کر کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر ہی اداکرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعت نماز ادا کر کے چلے جاتے اور جا کر لوگوں کو نماز پڑھاتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2052]
تخریج الحدیث: «أخرجه بتمامه ومختصرا مسلم: 730، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24520»

الحكم على الحديث: أخرجه بتمامه ومختصرا مسلم: 730
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں