الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابُ تَخْفِيفِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَمَا يَقْرَأُ فِيهِمَا
فجر سے پہلے والی دو رکعتوں کی تخفیف اور ان میں قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 2097
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ فِي بَيْتِي يُخَفِّفُهُمَا جِدًّا، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُخَفِّفُهُمَا كَذَلِكَ
زوجۂ رسول سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر سے پہلے والی دو رکعتیں میرے گھر میں پڑھا کرتے اور ان کو بڑی تخفیف کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2097]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1173، 1181، ومسلم: 723، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26423، 26438)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26970»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1173
حدیث نمبر: 2098
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا سَكَتَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب مؤذن فجر کی اذان سے خاموش ہو جاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2098]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6310، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25372»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6310
حدیث نمبر: 2099
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ فَيُخَفِّفُهُمَا، حَتَّى إِنِّي لَا أَشُكُّ أَقَرَأَ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ أَمْ لَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے اور ان میں اتنی تخفیف کرتے کہ مجھے یہ شک ہونے لگتا کہ آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2099]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1171، ومسلم: 724، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26045»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1171
حدیث نمبر: 2100
وَعَنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز فجر کی سنتوں میں قیام سورۂ فاتحہ پڑھنے کے برابر ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2100]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن سيرين لم يسمع من عائشة۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 243، واسحاق بن راھويه: 1342، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26344»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 2101
عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بِـ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} (وَفِي رِوَايَةٍ:) وَكَانَ يُسِرُّ بِهِمَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو سنتوں میں آہستہ آواز کے ساتھ سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2101]
تخریج الحدیث: «منقطع، محمد بن سيرين لم يسمع من عائشة۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 242، واسحاق بن راھويه: 1339، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26025»
الحكم على الحديث:
منقطع
حدیث نمبر: 2102
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ( (نِعْمَ السُّورَتَانِ هُمَا يُقْرَأُ بِهِمَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ سورتیں بہترین ہیں، جن کی نمازِ فجر سے پہلے والی سنتوں میں تلاوت کی جاتی ہیں،یعنی سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2102]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26550»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1150
حدیث نمبر: 2103
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے غور سے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر سے پہلے والی دو رکعتوں میں سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2103]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 417، وابن ماجه: 1149، والنسائي: 2/ 170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4763، 5691، 5742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5742»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایک ماہ تک غور سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر سے پہلے والی دو سنتوں میں سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔ (مسند احمد: ۵۶۹۱)
فوائد: … ہمارے ہاں خواص و عوام کییہ فطرت بن چکی ہے کہ وہ ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد بغیر سوچے سمجھے سورۂ اخلاص کی تلاوت شروع کر دیتے ہیں۔ ذہن نشین کر لیں کہ جب تک آدمی احادیث کے مطابق نماز میں مختلف سورتوں کی تلاوت یا اذکار کی پابندی نہیںکرتا، شاید وہ دورانِ نماز خشوع و خضوع سے بھی محروم رہتا ہو، کاش اسے اس چیز کا احساس ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن مختصر سورتوں کی تعیین کے ساتھ بعض نمازوں کی بعض رکعتوں میں
تلاوت کی، ہمیں بھی ان کا اہتمام کرنا چاہیے، ویسے بھی جب تک سورۂ فاتحہ کے بعد تلاوت کے سلسلے میں تنوع پیدا نہ کیا جائے، اس وقت تک نمازی نماز کے حقیقی لطف سے محروم رہتا ہے۔
فوائد: … ہمارے ہاں خواص و عوام کییہ فطرت بن چکی ہے کہ وہ ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد بغیر سوچے سمجھے سورۂ اخلاص کی تلاوت شروع کر دیتے ہیں۔ ذہن نشین کر لیں کہ جب تک آدمی احادیث کے مطابق نماز میں مختلف سورتوں کی تلاوت یا اذکار کی پابندی نہیںکرتا، شاید وہ دورانِ نماز خشوع و خضوع سے بھی محروم رہتا ہو، کاش اسے اس چیز کا احساس ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن مختصر سورتوں کی تعیین کے ساتھ بعض نمازوں کی بعض رکعتوں میں
تلاوت کی، ہمیں بھی ان کا اہتمام کرنا چاہیے، ویسے بھی جب تک سورۂ فاتحہ کے بعد تلاوت کے سلسلے میں تنوع پیدا نہ کیا جائے، اس وقت تک نمازی نماز کے حقیقی لطف سے محروم رہتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 417