الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ وَفَضْلِهِمَا وَتَأْكِيدِهِمَا
فجر کی دو رکعتوں، ان کی فضیلت اور تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 2091
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ: ( (هُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فجر سے پہلے دو رکعتوں کے بارے میں روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: یہ دورکعتیں مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2091]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 725، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24745»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 725
حدیث نمبر: 2092
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَ مِنْهُ إِلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَلَا إِلَى غَنِيمَةٍ يَطْلُبُهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی چیز کی طرف اتنی جلدی کرتے ہوں جتنی جلدی نماز فجر سے پہلے والی دو رکعتوں کی طرف کرتے تھے، اور نہ ہی اتنی جلدی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی غنیمت حاصل کرنے کے لیے کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2092]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حكيم بن جبير۔ أخرجه عبد الرزاق: 4777، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25841»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف حكيم بن جبير۔ أخرجه عبد الرزاق: 4777
حدیث نمبر: 2093
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَدْعُوا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ وَإِنْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فجر کی دو سنتیں کسی صورت میں نہ چھوڑو، اگرچہ (دشمن کے) گھوڑ سواروں کی جماعت تمہارا پیچھا کر رہی ہو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2093]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن سيلان وھو عبد ربه، وقيل: جابر۔ أخرجه ابوداود: 1258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9253 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9242»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة ابن سيلان وھو عبد ربه
حدیث نمبر: 2094
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِشَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی نفل نماز پر اتنی زیادہ پابندی نہیں کرتے تھے، جو نمازِ فجر سے پہلے والی دو رکعتوں پر کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2094]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1169، ومسلم: 724، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24775»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1169
حدیث نمبر: 2095
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) : مَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ؟ قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَخْرُجُ
شریح کہتے ہیں:میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے نکلنے سے پہلے کیا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے تھے، پھر نکلتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2095]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه اسحاق بن راهويه: 1579، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24786، 26168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25296»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے مسند احمد کے دوسرے طرق سے پتہ چلتا ہے کہ ان دو رکعتوں سے مراد فجر سے پہلے والی دو سنتیں ہیں۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه اسحاق بن راهويه: 1579
حدیث نمبر: 2096
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ قَالَ كَانَ أَبِي وَجَدِّي وَعَمِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، قَالَ سَلَمَةُ: أَوْصَانِي أَبِي بِصَلَاةِ السَّحَرِ، قُلْتُ: يَا أَبَتِ! إِنِّي لَا أُطِيقُهَا، قَالَ: فَانْظُرِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا تَدَعَنَّهُمَا، وَلَا تَشْخَصْ فِي الْفِتْنَةِ
سلمہ بن نبیط کہتے ہیں: میرے باپ، دادا اور چچا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، میرے باپ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفہ کے دن پچھلے پہر سرخ اونٹ پر سوار خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔ پھر میرے باپ نے مجھے تہجد کی نماز پڑھنے کا حکم دیا، لیکن میں نے کہا: اباجان! مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے، یہ سن کر انھوں نے کہا: تو پھر فجر سے پہلے دو رکعتوں کا خیال رکھنا اوران کو ہرگز ترک نہ کرنااور فتنہ میں اپنے آپ کو ظاہر نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2096]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد ضعيف لاضطرابه۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 37، وأخرجه احمد في الزھد: ص 233 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18723 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18930»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں۔
الحكم على الحديث: صحيح