الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَأَفْضَلِ أَوْقَاتِهَا
رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2122
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ (وَفِي رِوَايَةٍ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ) ، فَقِيلَ لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا) )
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو (اس قدر لمبی) نماز پڑھتے حتیٰ کہ آپ کے قدم سوج جاتے تھے، کسی نے آپ سے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ بخش نہیں دیے ہیں؟ (تو پھر آپ یہ طویل قیام کیوں کرتے ہیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2122]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1130، 6471، ومسلم: 2819، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18198، 18238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18427»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1130
حدیث نمبر: 2123
عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ وَلَمْ يُصَلِّ شَيْئًا حَتَّى أَصْبَحَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذْنِهِ) ) ، قَالَ يُونُسُ: وَقَالَ الْحَسَنُ: إِنَّ بَوْلَهُ وَاللَّهِ ثَقِيلٌ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: فلاں شخص گزشتہ رات سویا رہا ہے اور اس نے صبح تک کوئی نماز نہیں پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا تھا۔ حسن نے کہا: اللہ کی قسم! اس کا پیشاب تو بڑا بھاری ہو گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2123]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9512»
وضاحت: فوائد: … اصحاب السنن کا میلان اس طرف ہے کہ اس سے مراد تہجد کی نماز ہے، یہی معنی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ ذہن نشین کر لینا چاہیے تہجد کا اہتمام کرنے والا اللہ کا بندہ ہی محسوس کر سکتا ہے کہ رات کا قیام نہ کرنے کی صورت میں انسان کس قسم کی نحوست، بدمزاجی، بے سکونی، بے اطمینانی اور غفلت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ زمانے بیت جانے کے باوجود جس شخص نے رات کے قیام کا اہتمام نہیں کیا، اس کے لیے بہت مشکل ہو گا کہ وہ ایسی احادیث کے مفہوم کا ادراک کر سکے، یہ اس کے بس کی بات ہی نہیں ہوتی، کیونکہ وہ اس میدان کا شہسوار ہی نہیں ہے۔ ایک قول کے مطابق اس حدیث سے مراد نمازِ عشاء لی گئی ہے۔ کیا شیطان کے پیشاب کرنے کو حقیقت پر محمول کیا جائے یا اس کایہ مجازی معنی مراد لیا جائے کہ شیطان اس کے کان کو اذان یا مرغ کی آواز سننے سے یا ایسی آواز سننے سے روک دیتا ہے، کہ عام طور پر جس کی وجہ سے اہل توفیق نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیںیا لغویات اور باطل کلام کی وجہ سے اس کے کانوں کو بھاری کر دیتا ہے۔ راجح بات حقیقی معنی ہی بیان کرنا ہے کہ شیطان واقعی اس کے کان میں پیشاب کر جاتا ہے، لیکن اس کی حقیقت و کیفیت کو اللہ تعالیٰ ہی بہترجانتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے شیطان کا کھانا، پینا، قے کرنا، گوز مارنا، انسان کے اندر داخل ہو جانا وغیرہ جیسے حقائق ہیں۔واللہ اعلم بالصواب
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2124
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنَ اللَّيْلِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَذَلِكَ مِنَ السَّحَرِ) فَأَيْقَظَنَا لِلصَّلَاةِ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَلَمْ يَسْمَعْ لَنَا حِسًّا، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْنَا فَأَيْقَظَنَا وَقَالَ: ( (قُومَا فَصَلِّيَا) ) ، قَالَ: فَجَلَسْتُ وَأَنَا أَعْرُكُ عَيْنَيَّ، وَأَقُولُ: إِنَّا وَاللَّهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، قَالَ: فَوَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ وَيَضْرِبُ عَلَى فَخِذِهِ: ( (مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا، مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا، وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا) )
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو سحری کے وقت میرے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، ہمیں نماز کے لئے بیدار کیا اور پھر اپنے گھر کو لوٹ گئے اور کچھ دیر کے لیے نماز پڑھتے رہے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری کوئی آوازمحسوس نہ کی تو دوبارہ ہماری طرف آئے اور بیدار کرتے ہوئے فرمایا: اٹھو اورنماز پڑھو۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنی آنکھوں کو مَلتے ہوئے یوں کہنے لگا: اللہ کی قسم! ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے، ہمارے نفس تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں،جب وہ چاہے گا تو تب ہمیں اٹھائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے گئے اور اپنی ران پرہاتھ مارتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے جا رہے تھے: ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے، ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے،اصل بات یہ ہے کہ انسان ہر چیز سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2124]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7347، 7465، ومسلم: 775، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 571، 575، 705 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 705»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے پتہ چلا کہ قرآن مجید کے ذریعے اپنے آپ کو ضبط میں لایا جا سکتا ہے، پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شکوہ کرتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے الفاظ دوہراتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت {وَکَانَ الإِْ نْسَانُ أَکْثَرَ شَیْئٍ جَدَلًا} پڑھ کر اپنے آپ کو تسلی دی کہ انسان بحث مباحثہ کرتا ہی رہتا ہے۔ اس حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ایک منقبت کا بیان ہے کہ انھوں نے ایسی چیز کو بھی نہیں چھپایا جس میں معمولی عیبیا ملامت پائی جاتی تھی اور نشرِ علم کی مصلحت کو کتمان پر مقدم کیا۔ اس حدیث سے درج ذیل امور کا بھی علم ہوتا ہے: امام کا نوافل کے سلسلے میں سختی نہ کرنااور سمجھانے اور رغبت دلانے پر اکتفا کرنا، انسان کا طبعی طور پر قول و فعل کے ذریعے اپنا دفاع کرنا، آدمی کو چاہیے کہ وہ نصیحت قبول کر کے اپنے نفس کی اصلاح کرے، اگرچہ معاملے کا تعلق غیر واجب کام سے ہو۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7347
حدیث نمبر: 2125
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا عَبْدَ اللَّهِ! لَا تَكُونَنَّ مِثْلَ فُلَانٍ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ) )
سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! فلاں شخص کی طرح ہر گز نہ ہو جانا، وہ رات کو قیام کرتا تھا پھر اس نے اس قیام کو ترک کردیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2125]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1152، ومسلم: 1159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6584»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1152
حدیث نمبر: 2126
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ عُقِدَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثُ عُقَدٍ بِجَرِيرٍ، فَإِنْ قَامَ فَذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، أُطْلِقَتْ وَاحِدَةٌ، وَإِنْ مَضَى فَتَوَضَّأَ أُطْلِقَتِ الثَّانِيَةُ، فَإِنْ مَضَى فَصَلَّى أُطْلِقَتِ الثَّالِثَةُ، فَإِنْ أَصْبَحَ وَلَمْ يَقُمْ شَيْئًا مِنَ اللَّيْلِ وَلَمْ يُصَلِّ أَصْبَحَ وَهُوَ عَلَيْهِ، يَعْنِي الْجَرِيرَ (وَفِي لَفْظٍ: وَإِنْ هُوَ بَاتَ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى يُصْبِحَ) أَصْبَحَ وَعَلَيْهِ الْعُقَدُ جَمِيعًا) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی آدمی سوتا ہے تو اس کے سر پر چمڑے کی رسی کے ساتھ تین گرہیں لگا دی جاتی ہیں، اگر وہ آدمی اٹھ کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھول دی جاتی ہے، اگر وہ آگے بڑھے اور وضوء بھی کر لے تو دوسری گرہ کھول دی جاتی ہے اور اگر وہ نماز بھی پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھول دی جاتی ہے۔ اور اگر وہ اس حال میں صبح کرے کہ نہ تو وہ رات کو اٹھا ہو، نہ ذکر کیا ہو، نہ وضو کیا ہو اور نہ نماز پڑھی ہو تو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ گرہیں اس پر موجود ہوتی ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2126]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من ابي ھريرة۔ أخرجه البخاري: 1142، 3269، ومسلم: 776 بلفظ مقارب منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7308، 10457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10461»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 2127
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أَنْثَى إِلَّا وَعَلَى رَأْسِهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ ثَلَاثَ عُقَدٍ حِينَ يَرْقُدُ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ تَعَالَى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مرد و زن جب سوتا ہے تو اس کے سر پر چمڑے کی ایک رسی ہوتی ہے اور اس سے اس کے سر پر تین گرہیں لگا دی جاتی ہیں، جب وہ بیدار ہوکر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اٹھ کر وضو کرتا ہے دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ نماز پڑھتا ہے توساری گرہیں کھل جاتی ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2127]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن خزيمة: 1133، وابن حبان: 2554، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14440»
وضاحت: فوائد: … رات کی نماز مومن کی عظیم صفت اور پارسا و متقی لوگوں کا شیوہ ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنَّاتٍ وَّ عُیُوْنٍ … کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ اللَّیْلِ مَا یَھْجَعُوْنَ۔ وَبِالْاَسْحَارِ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ۔} (سورۂ ذاریات: ۱۵تا۱۸) … بیشک پر ہیزگار لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ … (ان کی صفات یہ ہیں کہ) وہ رات کو کم سوتے ہیں اور سحریوں کے وقت بخشش طلب کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((شَرَفُ الْمُؤْمِنِ صَلَاتُہٗبِاللَّیْلِ، وَعِزُّہُ اسْتِغْنَاؤُہُ عَمَّا فِی أَیْدِی النَّاسِ۔)) مومن کا اعزاز رات کی نمازِ (تہجد) میں ہے اور اس کی عزت و آبرو اس چیز سے بے نیاز ہو جانے میں ہے جو (دنیا کی صورت میں) لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ (صحیحہ:۱۹۰۳، عقیلي في الضعفائ: صـ ۱۲۷، ابن عساکر فی تاریخ دمشق: ۴/ ۹۹/ ۱، ۸/ ۳۷/ ۱) رات کو نماز ادا کرنا اور لالچی و حریص نہ ہونا، دو ایسی صفاتِ جمیلہ ہیں کہ انسان کے عزت و احترام کو چار چاند لگا دیتی ہیں۔ اس کے دل و دماغ کو تسکین اور اس کو زندگی کا لطف نصیب ہوتا ہے اور چہرے پر نورانی کرنوں کا اضافہ ہوتا ہے۔ جو انسان ان دو صفات سے محروم ہے اور پھر بھی اپنے آپ کو مطمئن اور معزز سمجھتا ہے تو یہ محض اس کی خام خیالی ہے اور یہ بات بجا طور پر درست ہو گی کہ اسے سکون اور عدم سکون کا تجربہ ہی نہیں ہے، اگر کسی کو میری گزارشات سے اتفاق نہیں تو وہ چند دن تجربہ کر کے دیکھ لے۔ کئی آیات و احادیث میں رات کے قیام کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے، لیکنیہ ایک المیہ ہے کہ چند افراد کے علاوہ امت ِ مسلمہ اس عبادت سے غافل ہے، اللہ تعالیٰ توفیقِ خاص سے نوازے۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن خزيمة: 1133