الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا رُوِيَ عَنْ غَيْرِهِمَا فِي صِفَةِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 2165
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ التَّطَوُّعِ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَبِالنَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رات) کو آٹھ رکعت نفل نماز اور دن کو بارہ رکعت ادا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2165]
تخریج الحدیث: «سعيد بن خثيم وفضيل بن مرزوق صدوقان يھمان۔ أخرجه ابويعلي: 495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1261»
وضاحت: فوائد: … ابو اسحاق سے صحیح اسانید سے مروی روایات میں دن میں سولہ رکعت نفلی نماز کا ذکر ہے، جیسا کہ پچھلی حدیث کی شرح میں حوالہ دیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
سعيد بن خثيم وفضيل بن مرزوق صدوقان يھمان۔ أخرجه ابويعلي: 495
حدیث نمبر: 2166
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَمَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ قَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَكَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ مِنْهُ شَيْئًا وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ مِنْهُ شَيْئًا
حمید کہتے ہیں: سیدناانس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا، انہوں نے کہا: ہم نہیں چاہتے تھے کہ رات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھیں، مگر ہم آپ کو ایسے ہی دیکھ لیتے اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہم آپ کو سویا ہوا دیکھیں مگر ہم آپ کو ایسےبھی دیکھ لیتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مہینہ میں اتنے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ماہ کا کوئی روزہ ترک نہیں کریں گے، لیکن پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے ترک کرنا شروع کرتے تو ہم کہتے کہ اب اس ماہ کا کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2166]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12035»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری رات سوئے رہتے اور نہ ساری رات قیام کرتے، بلکہ وقفے وقفے سے دونوں کام کرتے رہتے، اس طرح کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیام کرتے دیکھ لیتا اور کوئی سوتے ہوئے دیکھ لیتا۔
مطلبیہ ہے کہ آپ ایک عادت پر استمرار نہیں کرتے تھے۔ کبھی رات کے ایک حصہ میں قیام کر رہے ہیں، تو اس حصہ میں قیام کرنے کی عادت بدل دیتے۔ دیکھنے والا سمجھتا کہ اس وقت میں آپ کی عادت قیام کرنے کی ہے تو قیام کر رہے ہوں گے لیکن آپ نے اس وقت قیام کی بجائے آرام کرنا شروع کر دیا ہوتا۔ اسی طرح آرام کے حوالے سے ایک
وقت کی عادت بدل دیتے۔ گویا کبھی پہلی رات آرام کرنے کی عادت بدل کر قیام کرنا شروع کر دیا کبھی درمیانی رات قیام کرنے کی عادت بدل کر آرام کرنا شروع کر دیا۔ وَ عَلٰی ہٰذَا الْقِیَاسِ۔ (عبداللہ رفیق)
مطلبیہ ہے کہ آپ ایک عادت پر استمرار نہیں کرتے تھے۔ کبھی رات کے ایک حصہ میں قیام کر رہے ہیں، تو اس حصہ میں قیام کرنے کی عادت بدل دیتے۔ دیکھنے والا سمجھتا کہ اس وقت میں آپ کی عادت قیام کرنے کی ہے تو قیام کر رہے ہوں گے لیکن آپ نے اس وقت قیام کی بجائے آرام کرنا شروع کر دیا ہوتا۔ اسی طرح آرام کے حوالے سے ایک
وقت کی عادت بدل دیتے۔ گویا کبھی پہلی رات آرام کرنے کی عادت بدل کر قیام کرنا شروع کر دیا کبھی درمیانی رات قیام کرنے کی عادت بدل کر آرام کرنا شروع کر دیا۔ وَ عَلٰی ہٰذَا الْقِیَاسِ۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1141
حدیث نمبر: 2167
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيهِ وَضُوءَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ كُنْتُ أَنَامُ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْمَعُهُ بَعْدَ هَوِيٍّ مِنَ اللَّيْلِ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَأَسْمَعُهُ بَعْدَ هَوِيٍّ مِنَ اللَّيْلِ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (وَفِي رِوَايَةٍ:) ثُمَّ يَقُولُ: ( (سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ) ) الْهَوِيَّ) )
سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے کے پاس رات گزارتا تھا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کا پانی دے سکوں، ایک روایت میں ہے: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرے میں سویا کرتا تھا، میں آپ کو رات کا ایک حصہ گزرنے کے بعد سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے ہوئے سنتا اور پھر رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہتے ہوئے سنتا اور ایک روایت میں ہے: میں آپ کو رات کا کچھ حصہ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہِ کہتے ہوئے سنتا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2167]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الترمذي: 3416، والنسائي: 3/ 209، وابن ماجه: 3879، والطيالسي: 1172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16574، 16575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16692»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت یہ ہوا کہ نمازِ تہجد کی ساری کیفیات اور اذکار میں طوالت ہوتی تھی۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الترمذي: 3416