🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. (بَابُ) الِاسْتِسْقَاءِ بِالدُّعَاءِ فِي خُطْبَةِ الْجُمُعَةِ وَمَنِ اسْتَسْقَا بِغَيْرِ صَلَاةٍ
جمعہ کے خطبہ میں بارش کے لیے دعا کرنے اور نماز کے بغیر یہ دعا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2931
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ؟ فَقَالَ: قِيلَ لَهُ يَوْمَ جُمُعَةٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَحِطَ الْمَطَرُ، وَأَجْدَبَتِ الْأَرْضُ، وَهَلَكَ الْمَالُ، قَالَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ فَاسْتَسْقَى، وَلَقَدْ رَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً، فَمَا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ حَتَّى إِنَّ قَرِيبَ الدَّارِ الشَّابَّ لَيُهِمُّهُ الرُّجُوعُ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الَّتِي تَلِيهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَاحْتَبَسَتِ الرُّكْبَانُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سُرْعَةِ مَلَالَةِ ابْنِ آدَمَ، وَقَالَ: ( (اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا) ) ، فَتَكَشَّطَتْ (وَفِي لَفْظٍ فَتَكَشَّفَتْ) عَنِ الْمَدِينَةِ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دعا کے لیے) اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے؟ انھوں نے کہا: کسی نے جمعہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! بارش کا قحط پڑ گیا ہے،زمین خشک ہو گئی ہے اور مال مویشی ہلاک ہو رہے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے، حتیٰ کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش کے لیے دعا مانگی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے تھے تو آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آ رہا تھا، لیکن ابھی تک ہم نے نماز پوری نہیں کی تھی کہ (اتنی زیادہ بارش ہوئی کہ) قریب گھر والے نوجوان کے لیے بھی اپنے گھر کو لوٹنا مشکل ہوگیا۔ جب اس کے بعد والا جمعہ آیا تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! گھر گرنے لگ گئے ہیں اورقافلے رک گئے ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آدم کے بیٹے کے جلدی اُکتا جانے پر مسکرانے لگے اور کہا: اَللّٰھُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا۔ یعنی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد بارش برسا، نہ کہ ہمارے اوپر۔ پس مدینہ منورہ سے بادل ہٹ گئے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 2931]
تخریج الحدیث: «أخرج بنحوه البخاري: 932،1013، 1014، 1016، 1019، 3582، ومسلم: 897۔ وأخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 1029، 1030 معلقا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12019، 13016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12042»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2932
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: إِنِّي لَقَاعِدٌ عِنْدَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَسْجِدِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حُبِسَ الْمَطَرُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
(دوسری سند)ثابت کہتے ہیں: سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جمعہ کے دن منبر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، مسجد والوں میں سے کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! بارش روک دی گئی ہے، … …۔ پھر سابقہ حدیث کی طرح بیان کی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 2932]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13047»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2933
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَحَطَ الْمَطَرُ وَأَمْحَلَتِ الْأَرْضُ وَقَحَطَ النَّاسُ، فَاسْتَسْقِ لَنَا رَبَّكَ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ وَمَا نَرَى كَثِيرَ سَحَابٍ فَاسْتَسْقَى فَنَشَا الْسَّحَابُ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ مُطِرُوا حَتَّى سَالَتْ مَثَاعِبُ الْمَدِينَةِ، وَاطَّرَدَتْ طُرُقُهَا أَنْهَارًا، فَمَا زَالَتْ كَذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا تُقْلِعُ، ثُمَّ قَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ، وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَحْبِسَهَا عَنَّا، فَضَحِكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا) ) ، فَدَعَا رَبَّهُ فَجَعَلَ الْسَّحَابُ يَتَصَدَّعُ عَنِ الْمَدِينَةِ يَمِينًا وَشِمَالًا يُمْطِرُ مَا حَوْلَهَا وَلَا يُمْطِرُ فِيهَا شَيْئًا
(تیسری سند)سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جمعہ کے دن ایک آدمی نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آواز دی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اور کہا: اے اللہ کے رسول! بارش رک گئی ہے،زمین نباتات سے خالی ہوگئی ہے اور لوگ قحط زدہ ہو گئے ہیں، اس لیے آپ ہمارے لیے اپنے رب سے بارش کی دعا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا، ہم کوئی زیادہ بادل نہیں دیکھ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی اوربادل منشتر اور زیادہ ہونے لگے، پھر بارش برسنا شروع ہوئی،مدینہ کے ندی نالے بہنے لگے اور اس کے راستے نہروں کی طرح چلنے لگے، اگلے جمعہ تک بارش اسی طرح ہوتی رہی اور نہ رکی۔ (اگلے جمعہ میں) وہی یا کوئی اور آدمی کھڑا ہوا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اوراس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہم سے بارش کو روک دے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے اور یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد (بارش برسا)، نہ کہ ہم پر۔جونہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب سے دعا کی، بادل پھٹ کر مدینے سے دائیں اور بائیں ہونے لگ گئے اور مدینے کے ارد گرد بارش برسانے لگ گئے اور جبکہ مدینہ میں کوئی بارش نہیں ہو رہی تھی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 2933]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13779»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2934
(وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلَكَ الْمَالُ، وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا تُرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْنَا الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
(چوتھی سند)سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں لوگ قحط سالی میں مبتلا ہو گئے، جمعہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اتنے میں ایک خانہ بدوش آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!مویشی ہلاک ہو گئے ہیں اور اہل و عیال بھوکے ہیں، اس لیے آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں پانی پلائے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے (اور دعا کی)، جبکہ آسمان میں بادل کا ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا، پھر تو پہاڑوں کی طرح بادل جمع ہو گئے اور ابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے نہیں اترے تھے کہ ہم نے بارش کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک پر گرتے ہوئے دیکھا۔ (پھر بقیہ حدیث بیان کی)۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 2934]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13728»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2935
عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ السِّمْطِ أَنَّهُ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ! حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: اسْتَسْقِ اللَّهَ لِمُضَرَ، فَقَالَ: ( (إِنَّكَ لَجَرِيءٌ، أَلِمُضَرَ؟) ) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اسْتَنْصَرْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَنَصَرَكَ وَدَعَوْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَجَابَكَ، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مُرِيعًا مَرِيعًا طَبَقًا غَدَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ) ) ، قَالَ: فَأُجِيبُوا، قَالَ: فَمَا لَبِثُوا أَنْ أَتَوْهُ فَشَكَوْا إِلَيْهِ كَثْرَةَ الْمَطَرِ، فَقَالُوا: قَدْ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: ( (اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا) ) ، قَالَ: فَجَعَلَ الْسَّحَابُ يَتَقَطَّعُ يَمِينًا وَشِمَالًا
شرجیل بن سمط نے سیّدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے کعب بن مرۃ! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرو اور احتیاط کرنا، انھوں نے کہا: میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: مضر قبیلے کے لیے اللہ سے بارش کی دعا کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو بڑا جرأت مند ہے، کیا مضر کے لیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اللہ سے مدد مانگی تو اس نے آپ کی مدد کی اور آپ نے اللہ سے دعا کی تو اس نے قبول کی، (لہٰذا اب کی بار بھی دعا کر دیں)۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی: اے اللہ! ہم پر ایسی بارش برسا، جو سختی و پریشانی کو دور کرنے والی،زمین کو سر سبز کرنے والی اور اچھے انجام والی ہو اور وہ عام بارش ہو اور زیادہ پانی والی ہو، وہ جلدی آنے والی ہو، دیر کرنے والی نہ ہو، نفع دینے والی ہو، نقصان دینے والی نہ ہو۔ پس لوگوں کا مطالبہ پورا ہو گیا اور وہ جلدی ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (دوبارہ) پہنچے اور بارش کی کثرت کی شکایت کرتے ہوئے کہنے لگے: گھر گرنے لگ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد برسا، نہ کہ ہم پر۔ بادل پھٹ کر دائیں بائیں ہونا شروع ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 2935]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سالم بن أبي الجعد لم يسمع من شرحبيل بن السمط أخرجه ابن ماجه: 1269، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18234»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں