🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ قِرَاءَةِ يس عِنْدَ الْمُحْتَضَرِ وَمَا جَاءَ فِي شِدَّةِ الْمَوْتِ وَنَزْعِ الرُّوحِ وَتَغْمِيضِ
قریب الموت کے پاس سورۂ یس کی تلاوت کرنے، شدتِ موت، روح کے عالَم نزع¤میت کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3014
عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنِي الْمَشِيخَةُ، أَنَّهُمْ حَضَرُوا غُضَيْفَ بْنَ الْحَارِثِ الثُّمَالِيَّ حِينَ اشْتَدَّ سَوْقُهُ، فَقَالَ: هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ يَسْ؟ قَالَ: فَقَرَأَهَا صَالِحُ بْنُ شُرَيْحٍ السَّكُونِيُّ، فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ مِنْهَا قُبِضَ، قَالَ: فَكَانَ الْمَشِيخَةُ يَقُولُونَ إِذَا قُرِئَتْ عِنْدَ الْمَيِّتِ خُفِّفَ عَنْهُ بِهَا، قَالَ صُفْوَانُ وَقَرَأَهَا عِيسَى بْنُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ ابْنِ مَعْبَدٍ
صفوان کہتے ہیں:مجھے بزرگوں نے بیان کیا کہ وہ غضیف بن حارث ثمالی کے ہاں گئے، جبکہ (وہ عالَم نزع میں تھے اور) روح کے نکلنے میں شدت تھی، ایک بندے نے کہا: کیا تم میں سے کوئی سورۂ یٰسین پڑھ سکتا ہے؟ جواباً صالح بن شریح سکونی نے سورۂ یس کی تلاوت کی اور ابھی تک وہ چالیسویں آیت تک پہنچے تھے کہ ان کی روح قبض ہو گئی۔ اسی لیے اہل علم کہا کرتے تھے کہ جب یہ سورت کسی قریب الموت پر پڑھی جاتی ہے تو اس پر اس کی وجہ سے تخفیف کر دی جاتی ہے۔ صفوان کہتے ہیں کہ عیسی بن معتمر نے ابن معبد پر پڑھی تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3014]
تخریج الحدیث: «أثر اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17094»
وضاحت: فوائد: … احادیث ِ صحیحہ میں مریض، قریب الموت یا میت کے پاس اس کے حق میں دعائیں کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔

الحكم على الحديث:
أثر اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3015
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يَسْ قَلْبُ الْقُرْآنِ، لَا يَقْرَأُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللَّهَ تَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ غُفِرَ لَهُ، وَاقْرَأُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ) )
سیّدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ یٰس قرآن مجید کا دل ہے، جو آدمی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کے لیے اس کی تلاوت کرتا ہے، اس کو بخش دیا جاتا ہے اور تم فوت ہونے والے کے قریب اس سورت کی تلاوت کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3015]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرجل وأبيه، وسمّي في رواية بأبي عثمان، ولا يعرف أخرجه النسائي في ’’عمل اليوم والليلة‘‘: 1075، والطبراني: 20/ 511۔ وأخرجه أبوداود: 3121، وابن ماجه:1448 مختصرا بلفظ: ((اقرء وھا علي موتاكم۔)) يعني يس۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20300، 20301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20566»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال سورۂ یس عقائد کے اصول، توحید کے اثبات، ایک سے زیادہ معبودوں کی نفی، قیامت کی علامتوں اور حساب و کتاب کے احوال پر مشتمل ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الرجل وأبيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3016
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اقْرَأُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ) ) يَعْنِي يَسْ
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم قریب الموت پر سورۂ یٰسین کی تلاوت کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3016]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20567»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20567
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3017
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ أَوْ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ) ) ، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ: ( (قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً) ) ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَأَعْقَبَنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِي مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی مریض یا قریب الموت کے پاس جاؤ تو خیر والی بات کیا کرو، کیونکہ تم جو کچھ کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ جب میرے شوہر سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول!ابو سلمہ فوت ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کر: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلَہُ وَأَعْقِبْنِی مِنْہُ عُقْبًی حَسَنَۃَ (یا اللہ! مجھے اور اس کو بخش دے اور مجھے اس کا بہتر بدلہ عطا فرما۔) پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے بدلے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا کیے جو میرے حق میں اس سے بہتر تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3017]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 919، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27030»
وضاحت: فوائد: … خیر والی بات سے مراد دعا و استغفار کرنا، اس باب کی آخری حدیث کی شرح دیکھیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 919
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3018
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَمْ يَلْقَ ابْنُ آدَمَ شَيْئًا قَطُّ خَلَقَهُ اللَّهُ أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ثُمَّ إِنَّ الْمَوْتَ لَأَهْوَنُ مِمَّا بَعْدَهُ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں بھی پیدا کی ہیں، ان میں سے آدم کے بیٹے کے لیے سب سے سخت چیز موت ہے اور پھر موت اپنے سے بعد والے مراحل کی بنسبت بہت آسان بھی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3018]
تخریج الحدیث: «اس كي سند ضعيف هے، سُكَين مختلف فيه، وأبوه عبد العزيز بن قيس العبدي جھّله أبوحاتم وابن خزيمة، ووثقه ابن حبان والعجلي، وقال ابن حجر في ’’التقريب‘‘: مقبول أخرجه الطبراني في ’’الأوسط‘‘: 1997، وابن عدي في ’’الكامل‘‘: 3/ 1301، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12594»

الحكم على الحديث:
اس كي سند ضعيف هے
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3019
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ، وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پیالہ پڑا ہوا تھا، اس میں پانی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا ہاتھ پیالے میں داخل کرتے، پھر اسے اپنے چہرے پر پھیرتے اور یہ دعا کرتے: اَللّٰہُمَّ أَعِنِّی عَلٰی سَکَرَاتِ الْمَوْتِ۔ (یا اللہ! موت کی شدتوں میں میری مدد فرما)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3019]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال موسي بن سرجس أخرجه الترمذي: 978، وابن ماجه: 1623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24860»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال موسي بن سرجس أخرجه الترمذي: 978
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3020
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قُبِضَ أَوْ مَاتَ وَهُوَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سینہ اور ٹھوڑی کے درمیان تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت کا منظر دیکھنے کے بعد اب کسی کے لیے موت کی شدت کو ناپسند نہیں کرتی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3020]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4446، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24987»
وضاحت: فوائد: … ”حَاقِنَۃ“: دونوں ہنسلیوں کا درمیانی گڑھا
”ذَاقِنَۃ“: گلے کا ابھرا ہوا کنارہ، ٹھوڑی کے نیچے کا حصہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک ان کے سینے پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم موت کے شدائد میں مبتلا تھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4446
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3021
عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا قَالَتْ فَاطِمَةُ ذَلِكَ يَعْنِي لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرْبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ قَالَتْ فَاطِمَةُ: وَاكْرَبَاهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا بُنَيَّةُ! إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ أَبَاكِ مَا لَيْسَ اللَّهُ بِتَارِكٍ مِنْهُ أَحَدًا لِمُوَافَاةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موت کی سختی کو محسوس کیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے مصیبت! یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹی! روز قیامت کو پانے کے لیے تیرے باپ کے پاس وہ چیز پہنچ چکی ہے کہ جس کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں چھوڑنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3021]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1629۔ وأخرج البخاري: 4462 مثله وطوّل بقول فاطمة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12461»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا یہ مفہوم ہے:بیٹی صبر کرو، میں جس مصیبت میں ہوں، کوئی بھی اس سے مستثنی نہیں ہے، کیونکہ دار الفنا سے آخرت کی طرف منتقل ہونے کا یہی ایک ذریعہ ہے اور آخرت سے بھی کوئی چھٹکارا نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1629۔ وأخرج البخاري: 4462 مثله وطوّل بقول فاطمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3022
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا حَضَرْتُمْ مَوْتَاكُمْ فَأَغْمِضُوا الْبَصَرَ، فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ، وَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّهُ يُؤَمَّنُ عَلَى مَا قَالَ أَهْلُ الْبَيْتِ) )
سیّدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے موت شدہ افراد کے پاس آؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دیا کرو، کیونکہ نظر روح کا پیچھا کرتی ہے اور خیر والی بات کیا کرو کیونکہ گھر والے اس وقت جو کچھ کہتے ہیں، اس پر آمین کہی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3022]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، لضعف قزعة بن سويد الباھلي أخرجه ابن ماجه: 1455، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17266»
وضاحت: فوائد: … ”خیر والی بات“ سے مراد دعاو استغفار کرنا ہے، جیسا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ان کی آنکھیں پھٹ چکی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بند کیا اور فرمایا: ”جب روح قبض کی جاتی ہے تو آنکھ اس کا پیچھا کر تی ہے۔“ اتنے میں لوگ چیخ و پکار کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے حق میں بد دعا نہ کرو، خیر کی بات کرو، کیونکہ فرشتے تمہاری بات پر آمین کہتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاَبِیْ سَلَمَۃَ وَارْفَعْ دَرَجَتَہٗ فِیْ الْمَھْدِیِّیْنَ وَاخْلُفْہُ فِیْ عَقِبِہٖ فِیْ الْغَابِرِیْنَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَہٗ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ، وَافْسَحْ لَہٗ فِیْ قَبْرِہٖ وَنَوِّرْ لَہٗ فِیْہِ۔)) یعنی: ”اے اللہ! تو ابو سلمہ کو بخش دے،مہدیین میں اس کا درجہ بلند کر دے،اس کی باقی ماندہ اولاد میں اس کا جانشیں بن جا، اے رب العالمین ہمیں اور اس کو بخش دے اور اس کی قبر میں وسعت پیدا فرما اور اس میں اس کے لیے نور پیدا فرما دے۔“ (صحیح مسلم)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں