الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ قِرَاءَةِ يس عِنْدَ الْمُحْتَضَرِ وَمَا جَاءَ فِي شِدَّةِ الْمَوْتِ وَنَزْعِ الرُّوحِ وَتَغْمِيضِ
قریب الموت کے پاس سورۂ یس کی تلاوت کرنے، شدتِ موت، روح کے عالَم نزع¤میت کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3020
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قُبِضَ أَوْ مَاتَ وَهُوَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سینہ اور ٹھوڑی کے درمیان تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت کا منظر دیکھنے کے بعد اب کسی کے لیے موت کی شدت کو ناپسند نہیں کرتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3020]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4446، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24987»
وضاحت: فوائد: … ”حَاقِنَۃ“: دونوں ہنسلیوں کا درمیانی گڑھا
”ذَاقِنَۃ“: گلے کا ابھرا ہوا کنارہ، ٹھوڑی کے نیچے کا حصہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک ان کے سینے پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم موت کے شدائد میں مبتلا تھے۔
”ذَاقِنَۃ“: گلے کا ابھرا ہوا کنارہ، ٹھوڑی کے نیچے کا حصہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک ان کے سینے پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم موت کے شدائد میں مبتلا تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4446
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3020 in Urdu