الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ قِرَاءَةِ يس عِنْدَ الْمُحْتَضَرِ وَمَا جَاءَ فِي شِدَّةِ الْمَوْتِ وَنَزْعِ الرُّوحِ وَتَغْمِيضِ
قریب الموت کے پاس سورۂ یس کی تلاوت کرنے، شدتِ موت، روح کے عالَم نزع¤میت کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3019
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ، وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پیالہ پڑا ہوا تھا، اس میں پانی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا ہاتھ پیالے میں داخل کرتے، پھر اسے اپنے چہرے پر پھیرتے اور یہ دعا کرتے: اَللّٰہُمَّ أَعِنِّی عَلٰی سَکَرَاتِ الْمَوْتِ۔ (یا اللہ! موت کی شدتوں میں میری مدد فرما)۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3019]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال موسي بن سرجس أخرجه الترمذي: 978، وابن ماجه: 1623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24860»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال موسي بن سرجس أخرجه الترمذي: 978
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3019 in Urdu