الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. فَصْلٌ مِنْهُ فِي مِقْدَارِ مَا بَيْنَ الْفَرَاغِ مِنَ السَّحُورِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ
سحری سے فراغت اور نماز فجر کے درمیان کے وقفہ کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 3746
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سُحُورِهِمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى فَقُلْنَا لِأَنَسٍ: كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سُحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ رَجُلٌ خَمْسِينَ آيَةً
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنازید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سحری کی، پھر جب وہ سحری سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ان کا سحری سے فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انھوں نے کہا: ایک آدمی کا پچاس آیات پڑھ لینے کے برابر وقفہ تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3746]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12769»
وضاحت: فوائد: … سحری سے فراغت اور نمازِ فجر کے آغاز کے درمیان پچاس آیتوں کے برابر وقفہ تھا، تقریبا (۱۲، ۱۳) منٹوں میں اتنی تلاوت کی جا سکتی ہے، دوسری نصوص کی روشنی میں سحری اور نماز کے اوقات معین ہیں، لیکن اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فجر کی اذان اور جماعت میں تھوڑا سا وقفہ ہوتا تھا اور یہ اس وقت ممکن ہے جب لوگ اس نماز کے وقت سے پہلے بیدار ہو چکے ہوں اور اسی مقصد کے لیے پہلی اذان دی جاتی تھی۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1134
حدیث نمبر: 3747
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، قُلْتُ: (وَفِي رِوَايَةٍ قُلْتُ لِزَيْدٍ:) كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ،سیدنازید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سحری کی، اس کے بعد ہم مسجد میں چلے گئے اور وہاں نماز کے لیے اقامت کہی گئی۔ میں نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ان دونوں کاموں کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انھوں نے کہا: اتنا کہ جتنی دیر میں ایک آدمی پچاس آیات پڑھ لیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3747]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1921، ومسلم 1097، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21585 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21918»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1921