الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الْأَبَدِ يَعْنِي الدَّهْرَ
ہمیشہ کے روزے رکھنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3880
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ) )
۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ کے روزے رکھے، اس نے حقیقت میں کوئی روزہ نہیں رکھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3880]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1979، ومسلم: 1159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6527 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6527»
الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 1979
حدیث نمبر: 3881
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ فَدَارَ عَلَى الْقَوْمِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ صَائِمٌ، فَلَمَّا بَلَغَهُ، قَالَ لَهُ: اشْرَبْ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُ لَا يُفْطِرُ الدَّهْرَ، فَقَالَ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ) )
۔ سیدہ اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک مشروب لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو لوگوں کو پلانے کے لیے پیش کیا، ان میں ایک آدمی روزے دار تھا، جب وہ مشروب اس کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: پیو۔ لیکن کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو روزہ ترک ہی نہیں کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے، اس نے کوئی روزہ نہیں رکھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3881]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 453، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28128»
الحكم على الحديث: مرفوعه صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 453
حدیث نمبر: 3882
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يَصُومُ الدَّهْرَ، قَالَ: ( (لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ) )
۔ سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا، جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اس کو ترک کیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3882]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1705، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16417»
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1705
حدیث نمبر: 3883
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ) ) أَوْ قَالَ: ( (لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ) )
۔ (دوسری سند) ان کے باپ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہمیشہ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اسے ترک کیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3883]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16427»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16427
حدیث نمبر: 3884
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا) ) وَقَبَضَ كَفَّهُ
۔ سیدناابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے، اس کے اوپر جہنم کو اس طرح تنگ کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے ہتھیلی کو بند کر کے کیفیت بیان کی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3884]
تخریج الحدیث: «موقوفه صحيح۔ اخرجه النسائي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19951»
الحكم على الحديث: موقوفه صحيح۔ اخرجه النسائي
حدیث نمبر: 3885
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ فُلَانًا لَا يُفْطِرُ نَهَارًا الدَّهْرَ، فَقَالَ: ( (لَا أَفْطَرَ وَلَا صَامَ) )
۔ سیدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی کسی دن کے روزے کا ناغہ نہیں کرتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے افطار کیا اور نہ اس نے روزہ رکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3885]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه النسائي: 4/ 206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20063»
وضاحت: فوائد: … ”نہ اس نے افطار کیا اور نہ اس نے روزہ رکھا۔“ افطار نہ کرنے کا مفہوم تو واضح ہے کہ وہ کھانے پینے سے رکا رہا، روزہ نہ رکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے اس معاملے میں مسنون طریقے کی مخالفت کی، اجر و ثواب کا مستحق نہیں ٹھہرا اور اپنے آپ کو ایسے تکلیف دینے کے درپے ہو گیا کہ ممکن ہے کہ اپنے نفس کو ہلاکت میں ڈالے اور جہاد اور کئی دوسرے حقوق سے عاجز ا ٓ جائے۔
اس مسئلہ سے متعلقہ ایک فقہی بحث
اگلے باب کی پہلی اور اس موضوع سے متعلقہ دوسری احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزوں کو سب سے زیادہ فضیلت والا قرار دیا،یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا۔ سوال یہ ہے کہ اس باب میں مذکورہ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیشہکے روزے ناجائز ہیں۔ امام اسحاق، اہل ظاہر اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کی رائے یہ ہے کہ ان روزوں کا حکم کراہت کا ہے۔ ابن حزم اس انداز کے حرام ہونے کے قائل ہے اور قاضی عیاض نے کہا: جمہور اہل علم کا خیالیہ ہے کہ اگر کوئی آدمی عید الفطر، عیدالاضحی اور تین ایام تشریق کے روزے نہ رکھے تو اس کے لیے باقی تمام دنوں کے روزے رکھنا جائز ہے۔ امام شافعی اور ان کے اصحاب نے کہا: جب آدمی دونوں عیدوں اور ایام تشریق کے روزے نہ رکھے تو اس کے لیے باقی دنوں کے لگاتار روزے رکھنا جائز ہے، بلکہ مستحبّ ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ نہ اسے کوئی ضرر لاحق ہو اور کوئی دوسرا حق فوت ہو، بصورتِ دیگر اس کے لیےیہ روزے مکروہ ہوں گے، ان کی دلیل درج ذیل حدیث ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی رَجُلٌ اَسْرُدُ الصَّوْمَ، اَفَاَصُوْمُ فِی السَّفَرِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَاَفْطِرْ۔)) اے اللہ کے رسول! میں لگاتار روزے رکھتا ہوں، آیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو چھوڑ دو۔“ (بخاری: ۱۹۴۲، ۱۹۴۳، مسلم: ۱۱۲۱) وجۂ استدلال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کو لگاتار روزے رکھنے پر برقرار رکھا، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدہ عائشہ، سیدنا ابو طلحہ اور کئی سلف بھی لگاتار روزے رکھا کرتے تھے۔
اس رائے کے قائلین نے اس باب کی احادیث کے درج ذیل جوابات دیئے:
(۱)ان احادیث کو ان کے حقیقی معانی پر محمول کیا جائے گا، یعنی ان سے مراد یہ ہے کہ دونوں عیدوں اور ایام تشریق سمیت ہمیشہ کے روزے رکھے جائیں۔
(۲) یا ان احادیث کا مصداق وہ شخص ہے، جس کو اس طرح روزے رکھنے سے کوئی ضرر لاحق ہو جاتا ہے یا اس سے کوئی حق فوت ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا: ((لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْاَبَدَ۔)) ”اس نے روزہ نہیں رکھا، جس نے ہمیشہ روزے رکھے۔“ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم تھا کہ یہ صحابی ان روزوں سے عاجز آ جائیں گے اور ایسے ہی ہوا کہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو جن روزوں کی اجازت دی تھی، وہ بھی ان کے لیے مشکل ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ اس بات پر ندامت کا اظہار کرتے تھے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رخصت قبول کیوں نہیں کی تھی۔
جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو لگاتار روزے رکھنے کی اجازت دے دی تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اندازہ تھا کہ یہ صحابی ضرر سے محفوظ رہے گا۔
(۳) ”لَا صَامَ“ کے الفاظ اس آدمی کے حق میں بمعنی خبر ہیں، نہ کہ بمعنی دعا، جو ان روزوں سے بڑی مشقت محسوس کرتا ہے۔ رہا اس آدمی کا مسئلہ جو نہ مشقت محسوس کرتا اور نہ کوئی دوسرا حق فوت ہونے دیتا ہے اور نہ ممنوعہ دنوں کے روزے رکھتا ہے تو اس کے لیے تو لگاتار روزے مستحبّ ہوں گے، جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ہمیشہ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انھوں نے کہا: کنا نعد اولئک فینا من السابقین۔ … ہم اپنے اندر ایسے لوگوں کو آگے بڑھ جانے والوں میں شمار کرتے تھے۔ (سنن بیہقی)
عروہ کہتے ہیں: سفر ہو یا حضر، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمیشہ کے روزے رکھتی تھیں۔ (سنن بیہقی) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ جہاد کی وجہ سے عہد ِ نبوی میں روزے نہیں رکھتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے تو میں نے ان کو عید الفطر اور عید الاضحی کے علاوہ روزہ ترک کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (صحیح بخاری) امام نووی نے ”المجموع“ میں دو عیدوں اور ایام تشریق کے علاوہ ہمیشہ کے روزے رکھنے والوں کے نام ذکر کیے ہیں، ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو امامہ اور ان کی بیوی رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا۔ سعید بن مسیب، ابو عمرو بن حماس، سعید بن ابراہیم، اسود بن یزید وغیرہ نے بھی ہمیشہ کے روزے رکھے، سعید بن ابراہیم نے چالیس سال لگاتار روزے رکھے تھے۔ جمہور اہل علم کا مسلک راجح معلوم ہوتا ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
اس مسئلہ سے متعلقہ ایک فقہی بحث
اگلے باب کی پہلی اور اس موضوع سے متعلقہ دوسری احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزوں کو سب سے زیادہ فضیلت والا قرار دیا،یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا۔ سوال یہ ہے کہ اس باب میں مذکورہ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیشہکے روزے ناجائز ہیں۔ امام اسحاق، اہل ظاہر اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کی رائے یہ ہے کہ ان روزوں کا حکم کراہت کا ہے۔ ابن حزم اس انداز کے حرام ہونے کے قائل ہے اور قاضی عیاض نے کہا: جمہور اہل علم کا خیالیہ ہے کہ اگر کوئی آدمی عید الفطر، عیدالاضحی اور تین ایام تشریق کے روزے نہ رکھے تو اس کے لیے باقی تمام دنوں کے روزے رکھنا جائز ہے۔ امام شافعی اور ان کے اصحاب نے کہا: جب آدمی دونوں عیدوں اور ایام تشریق کے روزے نہ رکھے تو اس کے لیے باقی دنوں کے لگاتار روزے رکھنا جائز ہے، بلکہ مستحبّ ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ نہ اسے کوئی ضرر لاحق ہو اور کوئی دوسرا حق فوت ہو، بصورتِ دیگر اس کے لیےیہ روزے مکروہ ہوں گے، ان کی دلیل درج ذیل حدیث ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی رَجُلٌ اَسْرُدُ الصَّوْمَ، اَفَاَصُوْمُ فِی السَّفَرِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَاَفْطِرْ۔)) اے اللہ کے رسول! میں لگاتار روزے رکھتا ہوں، آیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو چھوڑ دو۔“ (بخاری: ۱۹۴۲، ۱۹۴۳، مسلم: ۱۱۲۱) وجۂ استدلال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کو لگاتار روزے رکھنے پر برقرار رکھا، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدہ عائشہ، سیدنا ابو طلحہ اور کئی سلف بھی لگاتار روزے رکھا کرتے تھے۔
اس رائے کے قائلین نے اس باب کی احادیث کے درج ذیل جوابات دیئے:
(۱)ان احادیث کو ان کے حقیقی معانی پر محمول کیا جائے گا، یعنی ان سے مراد یہ ہے کہ دونوں عیدوں اور ایام تشریق سمیت ہمیشہ کے روزے رکھے جائیں۔
(۲) یا ان احادیث کا مصداق وہ شخص ہے، جس کو اس طرح روزے رکھنے سے کوئی ضرر لاحق ہو جاتا ہے یا اس سے کوئی حق فوت ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا: ((لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْاَبَدَ۔)) ”اس نے روزہ نہیں رکھا، جس نے ہمیشہ روزے رکھے۔“ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم تھا کہ یہ صحابی ان روزوں سے عاجز آ جائیں گے اور ایسے ہی ہوا کہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو جن روزوں کی اجازت دی تھی، وہ بھی ان کے لیے مشکل ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ اس بات پر ندامت کا اظہار کرتے تھے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رخصت قبول کیوں نہیں کی تھی۔
جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو لگاتار روزے رکھنے کی اجازت دے دی تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اندازہ تھا کہ یہ صحابی ضرر سے محفوظ رہے گا۔
(۳) ”لَا صَامَ“ کے الفاظ اس آدمی کے حق میں بمعنی خبر ہیں، نہ کہ بمعنی دعا، جو ان روزوں سے بڑی مشقت محسوس کرتا ہے۔ رہا اس آدمی کا مسئلہ جو نہ مشقت محسوس کرتا اور نہ کوئی دوسرا حق فوت ہونے دیتا ہے اور نہ ممنوعہ دنوں کے روزے رکھتا ہے تو اس کے لیے تو لگاتار روزے مستحبّ ہوں گے، جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ہمیشہ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انھوں نے کہا: کنا نعد اولئک فینا من السابقین۔ … ہم اپنے اندر ایسے لوگوں کو آگے بڑھ جانے والوں میں شمار کرتے تھے۔ (سنن بیہقی)
عروہ کہتے ہیں: سفر ہو یا حضر، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمیشہ کے روزے رکھتی تھیں۔ (سنن بیہقی) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ جہاد کی وجہ سے عہد ِ نبوی میں روزے نہیں رکھتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے تو میں نے ان کو عید الفطر اور عید الاضحی کے علاوہ روزہ ترک کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (صحیح بخاری) امام نووی نے ”المجموع“ میں دو عیدوں اور ایام تشریق کے علاوہ ہمیشہ کے روزے رکھنے والوں کے نام ذکر کیے ہیں، ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو امامہ اور ان کی بیوی رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا۔ سعید بن مسیب، ابو عمرو بن حماس، سعید بن ابراہیم، اسود بن یزید وغیرہ نے بھی ہمیشہ کے روزے رکھے، سعید بن ابراہیم نے چالیس سال لگاتار روزے رکھے تھے۔ جمہور اہل علم کا مسلک راجح معلوم ہوتا ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه النسائي: 4/ 206