الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. بَابُ صَوْمِ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ غَيْرِ مُعَيَّنَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3945
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا نَزَلُوا أَرْسَلُوا إِلَيْهِ، وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَلَمَّا وَضَعُوا الطَّعَامَ وَكَادُوا أَنْ يَفْرُغُوا جَاءَ، فَقَالُوا: هَلُمَّ فَكُلْ فَأَكَلَ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى الرَّسُولِ فَقَالَ: مَا تَنْظُرُونَ؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ! لَقَدْ قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: صَدَقَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ) ) ، فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ فَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللَّهِ، صَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللَّهِ
۔ ابو عثمان سے روایت ہے کہ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے، جب وہ ایک مقام پر ٹھہرے تو لوگوں نے ان کی طرف کھانا کھانے کا پیغام بھیجا، جبکہ وہ نمازپڑھ رہے تھے، انہوں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ لوگوں نے کھانا لگایا اور جب وہ فارغ ہونے کے قریب تھے تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وہاں آ گئے، لوگوں نے دوبارہ کھانے کی دعوت دی، تو اس بار انھوں نے کھانا شروع کر دیا،یہ صورتحال دیکھ کر لوگوں نے پہلے والے قاصد کی طرف از راہِ تعجب دیکھنا شروع کر دیا، کیونکہ اسی نے روزے کا پیغام دیا تھا، لیکن اس نے کہا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟اللہ کی قسم! انہوں نے کہا تھا کہ وہ روزے سے ہیں۔ اس وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سچ کہہ رہا ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان کے روزے اور پھر ہر ماہ کے تین روزے سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔)) میں نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس مہینے کے آغاز میں تین روزے رکھ لیے تھے، اب میں اللہ تعالیٰ کی رعایت کی بنیاد پر روزہ افطار کر رہا ہوں، جبکہ میں نے اللہ سے کئی گنا اجر پانے کے لیے روزہ رکھا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3945]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه الطيالسي: 2393، والبيھقي: 4/293، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10673»
وضاحت: فوائد: … چونکہ ہر نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا ملتا ہے، اس طرح ایک ماہ میں رکھے گئے تین روزوں کا ثواب ایک ماہ کے روزوں کی صورت میں ملے گا، اگر کوئی آدمی ایک ماہ میں تین روزوں کی عادت سے زندگی گزارتا ہے، تو اس کو ساری زندگی کے روزوں کا ثواب ملے گا۔ یہ تین روزے مہینے میں کسی وقت بھی رکھے جا سکتے ہیں، لیکن اگر ان کے لیے سوموار اور جمعرات یا ایام بیضیا دوسرے مسنون معین دنوں کو تلاش کرکے تین روزے پورے کر لیے جائیں تو فضیلت میں اضافہ ہو جائے گا، جیسا کہ اگلے باب کی بعض احادیث سے پتہ چلے گا۔ لیکن جن دنوں کے روزوں سے منع کیا گیا، وہ پابندی برقرار رہے گی،مثلا صرف جمعہ کا روزہ۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه الطيالسي: 2393
حدیث نمبر: 3946
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ بَابِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَفِينَا أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ، وَيُذْهِبُ مَغَلَّةَ الصَّدْرِ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا مَغَلَّةُ الصَّدْرِ؟ قَالَ: ( (رِجْسُ الشَّيْطَانِ) )
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ صبر یعنی رمضان کے روزے اور پھر ہر ماہ کے تین روزے سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں، ان سے سینہ کی کدورت زائل ہو جاتی ہے۔ میں نے پوچھا: سینے کی کدورت سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: شیطان کی پلیدی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3946]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطيالسي: 482، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21364 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21691»
وضاحت: فوائد: … اجر و ثواب کے علاوہ نیک عمل کی وجہ سے عامل کی روح اور جسم میں بھی برکت آتی ہے اور آدمی کئی آلائشوں سے بھی پاک ہو جاتا ہے۔روزے دار کو سوچنا چاہیے کہ جہاں وہ بڑا صبر کر کے روزے جیسا عظیم عمل کرتا ہے، وہاں اسے ایسی نیکیوں کو سر انجام دینے کے لیے اور ایسی برائیوں سے بچنے کے لیے بھی ہمت کرنی چاہیے کہ جن کے لیے روزے سے کم صبر درکار ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ اخرجه الطيالسي: 482
حدیث نمبر: 3947
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ) )
۔ سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھ لینا،یہ سال بھر کے روزے بھی ہیں اور سال بھر کا افطار بھی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3947]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الطيالسي: 1074، والدارمي: 2/ 19، وابن حبان: 3653، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15594 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15679»
وضاحت: فوائد: … سال بھر کا افطار اس طرح ہے کہ ایک ماہ میں ستائیس دنوں کو روزہ نہیں رکھا جاتا اور سال بھر کے روزے اس طرح کہ ثواب پورے سال کے روزوں کا مل جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ اخرجه الطيالسي: 1074
حدیث نمبر: 3948
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (صِيَامٌ حَسَنٌ: صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ) )
۔ سیدنا عثمان بن ابی عاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھ لینا بہترین روزے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3948]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16279 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16388»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 219
حدیث نمبر: 3949
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ) )
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہر ماہ میں تین روزے رکھے، اس نے گویا سال بھر روزے رکھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3949]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابن ماجه: 1708، والترمذي: 762، والنسائي: 4/ 219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21626»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ اخرجه ابن ماجه: 1708
حدیث نمبر: 3950
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَحْوُهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3950]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1979، ومسلم: 1159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6766»
الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 1979
حدیث نمبر: 3951
عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: ( (صُمْ مِنَ الشَّهْرِ يَوْمًا) ) ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَقْوَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنِّي أَقْوَى، إِنِّي أَقْوَى، صُمْ يَوْمَيْنِ كُلِّ شَهْرٍ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (زِدْنِي، زِدْنِي، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ) )
۔ سیدنا ابو عقرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روزوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ ایک روزہ رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، چلو پھر ہر ماہ دو روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، تو پھر ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3951]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19051 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19261»
وضاحت: فوائد: … آخر ِ حدیث میں آپ کا دو دفعہ کہنا ”مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں۔“ یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس صحابی پر طنز کر رہے ہیں اور اس کو ڈانٹ رہے ہیں۔
دراصل آپ تعجب کے اندا زمیں ساتھی کی بات کو دہرا رہے ہیں کہ یہ اپنے اندر زیادہ قوت محسوس کر کے اپنے اوپر مشقت ڈال رہا ہے اور زیادہ کام کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو آسانی کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں۔ (بلوغ الامانی)۔ (عبداللہ رفیق)
دراصل آپ تعجب کے اندا زمیں ساتھی کی بات کو دہرا رہے ہیں کہ یہ اپنے اندر زیادہ قوت محسوس کر کے اپنے اوپر مشقت ڈال رہا ہے اور زیادہ کام کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو آسانی کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں۔ (بلوغ الامانی)۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 225
حدیث نمبر: 3952
عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّهِ كَانَ؟ فَقَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ كَانَ
۔ سیدہ معاذہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ تین روزے رکھا کرتے تھے، سیدہ معاذہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: وہ مہینے کے کون سے تین دن تھے؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز کی کوئی پروا نہیں کرتے تھے کہ کون سے دن ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3952]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1160، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25127 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25640»
وضاحت: فوائد: … ہم اس باب کی پہلی حدیث کے بعد اس باب کی تمام احادیث کا خلاصہ پیش کر چکے ہیں۔
الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 1160