الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. بَابُ صَوْمِ تِسْعِ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمِ عَرَفَةَ لِغَيْرِ الْحَاجِّ
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 3978
عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ امْرَأَتِهِ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحَجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ
۔ ایک زوجۂ رسول رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحجہ کے نو دن اور یومِ عاشوراء کو اور ہر ماہ میں تین روزے رکھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3978]
تخریج الحدیث: «ضعيف لاضطرابه۔ اخرجه ابوداود: 2437، والنسائي: 4/ 205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22690»
الحكم على الحديث: ضعيف لاضطرابه۔ اخرجه ابوداود: 2437
حدیث نمبر: 3979
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ سَنَتَيْنِ مَاضِيَةً وَمُسْتَقْبَلَةً، وَصَوْمُ عَاشُورَاءَ يُكَفِّرُ سَنَةً مَاضِيَةً) )
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یوم عرفہ یعنی (۹) ذوالحجہ کا روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے اور یومِ عاشوراء کا روزہ ایک گزشتہ سال کے گناہوں کا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3979]
تخریج الحدیث: «اخرج نحوه مسلم: 1977، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22535 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22903»
الحكم على الحديث: اخرج نحوه مسلم: 1977
حدیث نمبر: 3980
عَنْ عَطَاءِ نِ الْخُرَاسَانِيِّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَوْمَ عَرَفَةَ وَهِيَ صَائِمَةٌ وَالْمَاءُ يُرَشُّ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَفْطِرِي، فَقَالَتْ: أُفْطِرُ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ صَوْمَ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ الْعَامَ الَّذِي قَبْلَهُ) )
۔ سیدناعبدالرحمن بن ابی بکر،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے پاس عرفہ کے دن گئے جبکہ انھوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور (گرمی کی شدت کی وجہ سے) ان پر پانی ڈالا جا رہا تھا، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ روزہ توڑ دیں، لیکن انھوں نے کہا: میں روزہ کیسے توڑ دوں، جبکہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: عرفہ کا روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3980]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء الخراساني لم يسمع من عائشة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25483»
وضاحت: فوائد: … عرفہ کے دن سے مراد (۹) ذوالحجہ کا دن ہے، جس دن حجاج کرام عرفہ کے میدان میں جمع ہوتے ہیں، اس دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لانقطاعه