🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

71. فَصْلٌ مِنْهُ فِي كَرَاهَةِ ذَلِكَ لِلْحَاجِّ
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3981
عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ
۔ مولائے ابن عباس جنابِ عکرمہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کے گھر پر حاضر ہوا اور ان سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3981]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن ولم ار لمضعفه حجة۔ اخرجه ابوداود: 2440، والنسائي: 2830، وابن ماجه: 1732، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9760 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9759»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں فریضۂ حج میں مصروف لوگوں کو عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع کیا جا رہا ہے، اس کی حکمتیں اپنی جگہ پر واضح ہیں۔ سفر کی مشقت، ذکر کی کثرت اور دوسرے لوگوں کی خدمت کا تقاضہ یہی ہے کہ روزہ نہ رکھا جائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ولم ار لمضعفه حجة۔ اخرجه ابوداود: 2440
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3982
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُهُ بِعَرَفَةَ فَوَجَدْتُهُ يَأْكُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ، لَعَلَّكَ صَائِمٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَصُومُهُ، وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصُمْ هَذَا الْيَوْمَ
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں عرفہ مقام میں سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ انار کھا رہے تھے، انھوں نے مجھے کہا: قریب آ جاؤ اور کھاؤ، لیکن لگتا ہے کہ تم نے روزہ رکھا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔ اور ایک دفعہ انھوں نے یوں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3982]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه البيھقي: 4/ 283، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 2814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3266»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه البيھقي: 4/ 283
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3983
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ: لَمْ يَصُمْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ وَلَا عُثْمَانُ يَوْمَ عَرَفَةَ
۔ نافع کا بیان ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یومِ عرفہ کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا، انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے (دورانِ حج) عرفہ کے دن کا روزہ نہیں رکھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3983]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ اخرجه الترمذي: 751، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 2825، 2827، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5411م ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5411»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ اخرجه الترمذي: 751
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3984
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَمَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَأَنَا لَا أَصُومُهُ، وَلَا آمُرُكَ وَلَا أَنْهَاكَ إِنْ شِئْتَ فَصُمْهُ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَصُمْهُ
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یومِ عرفہ کے روزے کے متعلق پوچھا،انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا،پھر ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معیت میں آئے، انہوں نے بھی روزہ نہیں رکھا،پھر ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ آئے، انہوں نے بھی اس دن کا روزہ نہیں رکھا، پھر ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ آئے، انہوں نے بھی اس دن کا روزہ نہیں رکھا، لہذا میں بھی اس دن کا روزہ نہیں رکھتا، لیکن میں تجھے اس روزے کا حکم دیتا ہوں نہ اس سے منع کرتا ہوں، تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو نہ رکھو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3984]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5420»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5420
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3985
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا صُمْتُ عَرَفَةَ قَطُّ وَلَا صَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ
۔ (تیسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کبھی بھی عرفہ کے دن کا روزہ نہیں رکھا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، نہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اور نہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس دن کا روزہ رکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3985]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5948»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5948
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3986
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے کبھی بھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ذوالحجہ کے) پہلے دس دنوں میں روزہ رکھا ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3986]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24147 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24648»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قولی احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ذوالحجہ کے پہلے دس دنوںمیں روزوں سمیت ہر قسم کی عبادت کرنے کی بڑی فضیلت ہے، البتہ دس ذوالحجہ یعنی عید الاضحی کو روزہ رکھنا منع ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1176
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3987
عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ أُمِّ بَنِي الْعَبَّاسِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: شَكُّوا (وَفِي لَفْظٍ تَمَارَوْا) فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: أَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ فَبَعَثَتْ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ
۔ سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: لوگوں کو عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزے کے بارے میں یہ شک ہونے لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا ہے یا نہیں؟ میں نے کہا: میں تمہیں پتہ کرا دیتی ہوں، پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھیجا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرما لیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3987]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1661، 1988، ومسلم: 1123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26881 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27419»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1661
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3988
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) : فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرِهِ
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھیجا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پی لیا، جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اونٹ پر سوار ہو کر عرفہ میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3988]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27419»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27419
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3989
عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا دَعَا الْفَضْلَ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا تَصُمْ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُرِّبَ إِلَيْهِ حِلَابٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ هَذَا الْيَوْمَ وَإِنَّ النَّاسَ يَسْتَنُّونَ بِكُمْ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عرفہ کے دن سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو کھانے کے لیے بلایا، لیکن انھوں نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: اس دن کو روزہ نہ رکھا کرو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اسی دن کو دودھ پیش کیا گیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا لیا تھااور لوگ بھی تمہاری اقتداء کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3989]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه ابويعلي: 2744، ورواية البخاري مختصرة بلفظ: ان عبد الله بن عباس قال للفضل: شرب النبي صلي الله عليه وآله وسلم بعرفة۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2946 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2946»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه ابويعلي: 2744
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3990
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنِ ابْنِ عَبَّاسَ دَعَا أَخَاهُ عُبَيْدَ اللَّهِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: إِنَّكُمْ أَئِمَّةٌ، (وَفِي لَفْظٍ: أَهْلُ بَيْتٍ) يُقْتَدَى بِكُمْ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِحِلَابٍ فِي هَذَا الْيَوْمِ فَشَرِبَ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عرفہ کے دن اپنے بھائی عبید اللہ کو کھانے کے لیے بلایا، لیکن انہوں نے کہا: میں روزہ سے ہوں، یہ سن کر انھوں نے کہا:: تم لوگ تو دوسروں کے پیشوا اور اہل بیت ہو، اس وجہ سے تمہاری اقتدا کی جاتی ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کو دودھ منگوا کر پیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3990]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3239»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین نے حج کے موقع پر عرفہ والے دن روزہ نہیں رکھا تھا۔ البتہ حج تمتع کرنے والے جس حاجی کے پاس ہدی کاجانور نہیں ہو گا، وہ ذوالحجہ کی (۹، ۱۱، ۱۲، ۱۳) تاریخوں میں روزہ رکھ سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3239
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں