الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ
حج تمتع کا بیان
حدیث نمبر: 4206
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُفْتِي بِالَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الرُّخْصَةِ بِالتَّمَتُّعِ، وَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، فَيَقُولُ نَاسٌ لِابْنِ عُمَرَ: كَيْفَ تُخَالِفُ أَبَاكَ وَقَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ: وَيْلَكُمْ! أَلَا تَتَّقُونَ اللَّهَ، إِنْ كَانَ عُمَرُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ فَيَبْتَغِي فِيهِ الْخَيْرَ يَلْتَمِسُ بِهِ تَمَامَ الْعُمْرَةِ، فَلِمَ تُحَرِّمُونَ ذَلِكَ وَقَدْ أَحَلَّهُ اللَّهُ وَعَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أَفَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعُوا أَمْ سُنَّةُ عُمَرَ؟ إِنَّ عُمَرَ لَمْ يَقُلْ لَكُمْ إِنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ حَرَامٌ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَتَمَّ الْعُمْرَةِ أَنْ تُفْرِدُوهَا مِنْ أَشْهُرِ الْحَجِّ
۔ سالم بن عبد اللہ بن عمرسے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیا کرتے تھے۔ جب لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہتے کہ آپ کے والد تو حج تمتع سے منع کرتے ہیں، تو پھر آپ ان کے حکم کی مخالفت کیوں کرتے ہو تو وہ ان کو یوں جواب دیتے تھے: تم پر افسوس ہے، کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیاہے تو ان کا ارادہ بھی خیر کاہی ہو گا کہ تم مستقل طور پر عمرہ کرو، اب تم اسے حرام کیوں سمجھتے ہو؟ جبکہ اللہ نے اسے حلال کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر عمل کیا ہے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتباع کے زیادہ حق دار ہیں یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فعل؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تم سے یہ تو نہیں کہا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا حرام ہے، ان کا کہنا تو یہ تھا کہ مکمل عمرہ یہ ہے کہ تم اس کو حج کے مہینوں کے علاوہ مستقل طور پر ادا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4206]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة لضعف صالح بن ابي الاخضر۔ أخرجه الترمذي بسياقة اخري: 824، سياتي لفظ في الشرح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5700»
وضاحت: فوائد: … جامع ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سالم بن عبد اللہ کہتے ہیں: ایک شامی باشندے نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے حج کے ساتھ عمرہ کر لینے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: ایسا کرنا درست ہے۔ شامی نے کہا: آپ کے باپ تو اس سے منع کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اس بارے تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میرے باپ ایک چیز سے منع کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے عملاً کیا ہے تو میرے باپ کے حکم کی پیروی کی جائے گییا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی؟ اس آدمی نے کہا: جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی پیروی کی جائے گی۔ یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ کام کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف بھذه السياقة لضعف صالح بن ابي الاخضر۔ أخرجه الترمذي بسياقة اخري: 824
حدیث نمبر: 4207
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَأْمُرُ بِهَا، قَالَ: فَقَالَ لِي: عَلَى يَدَيَّ جَرَى الْحَدِيثُ، تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَفَّانُ: وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ هُوَ الْقُرْآنُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ الرَّسُولُ، وَإِنَّهُمَا كَانَتَا مُتْعَتَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِحْدَاهُمَا مُتْعَةُ الْحَجِّ وَالْأُخْرَى مُتْعَةُ النِّسَاءِ
۔ ابو نضرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہاکہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حج تمتع سے منع کرتے ہیں اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیتے ہیں، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: حج سے متعلقہ یہ حدیث میرے ہاتھ پر گھومتی ہے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پھر سیدنا ابو بکر کے ساتھ حج تمتع کیا تھا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: بیشک قرآن قرآن ہے اور اللہ کے رسول بھی رسول ہیں، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں متعہ کی دو قسمیں رائج تھیں، ایک حج والا متعہ اور دوسرا عورتوں والا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4207]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 369»
وضاحت: فوائد: … ”بیشک قرآن قرآن ہے اور اللہ کے رسول بھی رسول ہیں۔“اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی کتاب ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ ہے اور واجب الاتباع ہے، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سنی جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر عمل کیا جائے گا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بولنے کا دارومدار بھی وحی پر ہے۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دو قسم کے متعے جائز اور رائج تھے، اب ان کی ضرورت ختم ہو چکی ہے۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج تمتع کیا تھا، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے توا نھوں نے کہا: بیشک اللہ تعالی اپنے رسول کے لیے جو چاہتا ہے، حلال کر دیتا ہے اور بیشک قرآن مجید بھی اپنی منازل پر نازل ہوا، {وَأَتِمُّوْا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ} … ”اور حج اور عمرے کو اللہ تعالی کے لیے پورا کرو۔“ جیسے اللہ تعالی نے تم کو حکم دیا ہے، اور ان عورتوں کے اس نکاح کو ختم کر دو، جس نے کسی عورت کے ساتھ مقررہ مدت تک یہ نکاح کیا تو میں اس کو پتھروں سے رجم کر دوں گا۔ (صحیح مسلم)نکاح متعہ کی مزید وضاحت کتاب النکاح میں آئے گی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1217
حدیث نمبر: 4208
عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ أُبَيُّ (بْنُ كَعْبٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَنَا، فَأَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَأَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ حُلَلِ الْحِبْرَةِ، لِأَنَّهَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ، فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، قَدْ لَبِسَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَبِسْنَاهُنَّ فِي عَهْدِهِ
۔ حسن سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ حج تمتع سے منع نہیں کر سکتے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں یہ حج کیاہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے نہیں روکا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات سے اعراض کیا اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یمنی چادروں سے منع کرنا چاہا کیونکہ ان کو پیشاب کے ساتھ رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس سے بھی نہیں روک سکتے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہ پہنی تھیں اور آپ کے زمانہ میں ہم نے ان کو زیب ِ تن کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4208]
تخریج الحدیث: «ھذا الحديث منقطع، لان الحسن البصري لم يلق عمر ولا ابيّا، لكن قد صحح نھي عمر عن متعة الحج، وأما الشطر الثاني فقد جاء من۔ طرق عن عمر۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21607»
وضاحت: فوائد: … اگر واقعی وہ کپڑا پیشاب میں رنگا جاتا تھا تووہ اس وقت تک ناپاک رہے گا، جب تک اس پر پیشاب کے اثرات باقی رہیں گے، جب اس کے اثرات ختم ہو جائیں گے تو وہ پاک ہو جائے گا، ایسی صورت کپڑے کو جس رنگ میں رنگا جائے گا، وہ رنگ ناپاک نہیں ہو گا۔
الحكم على الحديث:
ھذا الحديث منقطع
حدیث نمبر: 4209
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: اجْتَمَعَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِعُسْفَانَ فَكَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَالْعُمْرَةِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَنْهَى عَنْهَا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنَا مِنْكَ
۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وادیٔ عسفان میں اکٹھے ہو گئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع اور عمرہ سے منع کرتے تھے، لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس عمل سے روکنا چاہتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کیا تھا، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: آپ اپنی باتوں سے ہمیں معاف ہی رکھیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4209]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1569، ومسلم: 1223، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1146 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1146»
وضاحت: فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دلیل انتہائی مضبوط تھی، کیونکہ انھوںنے مقابلے میں جواز یا عدم جواز کی بات نہیں کی، بلکہ براہِ راست یہ کہہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود جو کام سرانجام دیتے تھے، اے عثمان! تم اس سے کیوں منع کرتے ہو۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1569
حدیث نمبر: 4210
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: إِنَّا لَبِمَكَّةَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَنَهَى عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ النَّاسُ صَنَعُوا ذَلِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: وَمَا عَلِمَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِهَذَا؟ فَلْيَرْجِعْ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَلْيَسْأَلْهَا فَإِنْ لَمْ يَكُنِ الزُّبَيْرُ قَدْ رَجَعَ إِلَيْهَا حَلَالًا، وَحَلَّتْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَسْمَاءَ فَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللَّهِ! لَقَدْ أَفْحَشَ، قَدْ وَاللَّهِ! صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، لَقَدْ حَلُّوا وَأَحْلَلْنَا وَأَصَابُوا النِّسَاءَ
۔ اسحاق بن یسار کہتے ہیں: ہم مکہ مکرمہ میں تھے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے اور حج تمتع کرنے سے منع کیا اور انہوں نے اس بات کا بھی انکار کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسا حج کیا ہو، جب یہ بات سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو اس کا کیا علم؟ اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھ لے، اگر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے احرام نہ کھولا ہو اور ان کی ماں نے کھول دیا ہو۔ جب یہ بات سیدہ اسماء نے سنی تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے، انھوں نے نامناسب بات کی ہے، بہرحال اللہ کی قسم ہے کہ انھوں نے سچی بات کی ہے، لوگوں نے واقعی احرام کھول دیئے تھے اور ہم نے بھی احرام کھول دیتے تھے اور لوگوں نے اپنی بیویوں سے ہم بستری بھی کی تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4210]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16103 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16202»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ چند ابواب پہلے اس باب میں گزر چکی ہے: ”حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان“ اس باب کی دوسری حدیث دیکھیں۔ ”انھوں نے نامناسب بات کی ہے۔“ اس سے ان کی مراد دو باتوں میں سے ایک ہو سکتی ہے: (۱) اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں اسماء سے پوچھ لے، اس کے نامناسب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ یہ اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا نے حق زوجیت ادا کیا ہو گا، جبکہ اس طرح کا اشارہ نہیں کرنا چاہیے۔ (۲)اس بات سے یہ سمجھ آ رہی ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بھی حلال ہو گئے تھے، جبکہ وہ حلال نہیں ہوئے تھے، دیکھیں حدیث نمبر(۴۲۱۳)۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 4211
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْقُرِّيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَرَخَّصَ فِيهَا وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا، فَقَالَ: هَذِهِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَيْرِ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِيهَا فَادْخُلُوا عَلَيْهَا فَاسْأَلُوهَا، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ ضَخْمَةٌ عَمْيَاءُ فَقَالَتْ: قَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا
۔ مسلم قری کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے حج تمتع کی بابت پوچھا، انہوں نے اس میں رخصت دے دی، لیکن سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کر دیا،یہ دیکھ کر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن زبیر رضی اللہ عنہ تو حج تمتع سے منع کرتے ہیں، جبکہ ان کی والدہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے، تم جا کر ان سے پوچھ لو۔ مسلم قری کہتے ہیں: چنانچہ ہم ان کے ہاں گئے، وہ ایک بھاری بھر کم خاتون تھیں اور نابینا ہو چکی تھیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی اس کی اجازت دی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4211]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26946 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27485»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1238
حدیث نمبر: 4212
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ سُئِلُوا عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ فِي الْمُتْعَةِ، فَقَالُوا: نَعَمْ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَقَدَّمُ فَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ تَحِلُّ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ بِيَوْمٍ، ثُمَّ تُهِلُّ بِالْحَجِّ فَتَكُونُ قَدْ جَمَعْتَ عُمْرَةً وَحَجَّةً أَوْ جَمَعَ اللَّهُ لَكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً
۔ عبد اللہ بن شریک عامری کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن زبیر سے حج سے قبل عمرہ کر لینے کے متعلق پوچھا گیا تو ان سب نے کہا: جی ہاں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے، جب تو مکہ مکرمہ پہنچے تو بیت اللہ کا طواف اور صفاو مروہ کی سعی کرکے حلال ہو جا (اس طرح یہ عمرہ ہو جائے گا)، خواہ یہ عمل عرفہ سے ایک دن پہلے ہو، اس کے بعد تم حج کا احرام باندھ لو، اس طرح اللہ تعالیٰ تمہیں حج اور عمرہ دونوں کو ادا کرنے کا موقع دے دے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4212]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله بن النخعي، وعبد الله بن شريك العامري مختلف فيه۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6240»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله بن النخعي
حدیث نمبر: 4213
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُتِمَّ (وَفِي لَفْظٍ: فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ) وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ) ) ، قَالَتْ: فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ فَحَلَلْتُ وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ زَوْجِهَا هَدْيٌ فَلَمْ يَحِلَّ، قَالَتْ: فَلَبِسْتُ ثِيَابِي وَحَلَلْتُ، فَجِئْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: قُومِي عَنِّي، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم احرام باندھ کر سفر پر روانہ ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور ہے،وہ احرام کی حالت میں رہیں گے اور جن کے ساتھ یہ جانور نہیں ہے، وہ عمرہ کرکے حلال ہو جائیں۔ اب میرے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، اس لیے میں حلال ہو گئی یعنی احرام کھول دیا، لیکن میرے شوہر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، سو وہ حلال نہ ہوئے۔ میں نے احرام کھول کر عام کپڑے پہن لیے اور اپنے شوہر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے قریب چلی گئی، لیکن انھوں نے کہا: مجھ سے دور ہٹ جاؤ۔ میں نے کہا: کیا آپ اس سے ڈرتے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4213]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27505»
وضاحت: فوائد: … سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ چونکہ احرام کی حالت میں تھے، جبکہ ان کی بیوی حلال ہو چکی تھی، اس لیے انھوں نے احتیاط کرتے ہوئے اپنی بیوی کو دور ہو جانے کا حکم دیا۔
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27505
حدیث نمبر: 4214
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: ( (مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَبْدَأَ مِنْكُمْ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ الْحَجِّ فَلْيَفْعَلْ) ) ، وَأَفْرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ وَلَمْ يَعْتَمِرْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: تم میں سے جو کوئی حج سے قبل عمرہ کرنا چاہتا ہو، وہ کر سکتا ہے، بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج افراد کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ نہیں کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4214]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قولھا: ’’ولم يعتمر‘‘ وھذا اسناد ضعيف، ام علقمة ابن ابي علقمة لم يرو عنها سوي اثنين، ولم يؤثر توثيقھا عن غير ابن حبان والعجلي۔ أخرجه مسلم: 1211 بلفظ: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم افرد الحج۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25122»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج مفرد کیا تھا۔ اس کی وضاحت پہلے ہو چکی ہے۔ (دیکھیں حدیث۴۱۸۲ کے فوائد)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قولھا: ’’ولم يعتمر‘‘ وھذا اسناد ضعيف
حدیث نمبر: 4215
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا) ) ، قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ) ) ، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ: ( (هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ) ) ، قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، فَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ فَطَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ساتھ قربانی کا جانور ہے وہ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پکاریں، وہ ان دونوں سے اکٹھے حلال ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: جب میں مکہ پہنچی تو مجھے حیض آ گیا، لہٰذا میں بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی نہ کر سکی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سر کھول دو اورکنگھی کرکے حج کا احرام باندھ لو اور عمرے کو ترک کر دو۔ پس میں نے اسی طرح کیا، جب ہم حج سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرے بھائی عبد الرحمن کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا، تاکہ میں عمرہ کر آؤں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے عمرے کا متبادل ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اورصفا مروہ کی سعی کرکے حلال ہو گئے،اس کے بعد انہوں نے منیٰ سے آ کر حج کا طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا یعنی حج قران کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4215]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1556، 1638، 4395، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25955»
وضاحت: فوائد: … ” اور عمرے کو ترک کر دو“ اس کا مفہوم یہ ہے کہ عمرہ کے افعال یعنی طواف، سعی اور تقصیر کو ترک کر دو اور حج قران کا تلبیہ شروع کر دو۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حلال ہو جائیں اور پھر احرام باندھیں۔ ”یہ تمہارے عمرے کا متبادل ہے۔“ یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دوسری امہات المؤمنین اور بعض صحابہ کی طرح حج تمتع کرتے ہوئے جو عمرہ الگ سے کرنا تھا، یہ عمرۂ تنعیم اس کا متبادل ہے، وگرنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج قران میں ایک عمرہ کر لیا تھا۔ اس حدیث کے آخر سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہے کہ حج قران کرنے والوں کو حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک ہی طواف کافی ہے، لیکن امام ابوحنیفہ ایسے حجاج کے لیے بھی دو طوافوں کے قائل ہیں، لیکنیہ قول مرجوح ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1556