🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

52. بَابُ اسْتِلَامِ الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ وَالْيَمَانِيِّ وَعَدَمِ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرِينَ
حجراسود اور رکن یمانی کا استلام کرنے اور دوسرے دو کونوں کا استلام نہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4345
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ وَالْأَسْوَدَ كُلَّ طَوْفَةٍ وَلَا يَسْتَلِمُ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ہر چکر میں رکن یمانی اور حجراسود کا استلام کیا کرتے تھے اور حطیم کی جانب والے دونوں کونوں کا استلام نہیں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4345]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 1876، والنسائي: 5/ 231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5965 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5965»
وضاحت: فوائد: … سابقہ باب کے شروع میں حجر اسود اور رکن یمانی کے استلام کے طریقے گزر چکے ہیں۔

الحكم على الحديث: اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 1876
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4346
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُ أَنْ يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ فِي كُلِّ طَوَافٍ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر طواف کے ہرچکر میں حجراسود اور رکن یمانی کا استلام نہ چھوڑتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4346]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4686»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4686
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4347
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے صرف دو یمنی کونوں (یعنی رکن یمانی اور حجراسود) کا استلام کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4347]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1609، ومسلم: 1267، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6017»
وضاحت: فوائد: … رکن یمانی اور حجر اسود کو تغلیباً دو یمنی کونے کہہ دیا جاتا ہے، جیسے اَبٌ اور اُمٌّ کو اَبَوَان اور شمس و قمر کو قَمَرَان کہہ دیتے ہیں۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1609
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4348
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّ وَالْأَسْوَدَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف دو کونوں یعنی رکن یمانی اور حجراسود کا استلام کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4348]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1269، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3533 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3533»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1269
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4349
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: طُفْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الرُّكْنِ الَّذِي يَلِي الْبَابَ مِمَّا يَلِي الْحَجَرَ، أَخَذْتُ بِيَدِهِ لِيَسْتَلِمَ، فَقَالَ: أَمَا طُفْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَهَلْ رَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُهُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَانْفُذْ عِنْدَكَ، فَإِنَّ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةً حَسَنَةً
۔ سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا،جب میں بیت اللہ کے دروازے سے حطیم والے کونے کے پاس پہنچا تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام لیا تاکہ وہ اس کو نے کا بھی استلام کرلیں، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، کیا ہے۔ انھوں نے کہا: توکیا تم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کونوں کا استلام کیا ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں۔تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر اس کو چھوڑو اور آگے بڑھو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہی بہترین نمونہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4349]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابويعلي: 182، وعبد الرزاق: 8945، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 253 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 253»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابويعلي: 182
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4350
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: طُفْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، قَالَ يَعْلَى فَكُنْتُ مِمَّا يَلِي الْبَيْتَ، فَلَمَّا بَلَغْتُ الرُّكْنَ الْغَرْبِيَّ الَّذِي يَلِي الْأَسْوَدَ جَرَرْتُ بِيَدِهِ لِيَسْتَلِمَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقُلْتُ: أَلَا تَسْتَلِمُ؟ قَالَ: أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: أَفَرَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْغَرْبِيَّيْنِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: أَفَلَيْسَ لَكَ فِيهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَانْفُذْ عَنْكَ
۔ (دوسری سند)سیدنایعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا،انھوں نے حجراسود کا استلام کیا، میں بیت اللہ کے قریب تھا، جب میں حجراسود سے اگلے مغربی کونے کے پاس پہنچا تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا تاکہ وہ اس کونے کا بھی استلام کرلیں لیکن انھوں نے آگے سے کہا: کیابات ہے؟ میں نے کہا: کیا آپ اس کونے کا استلام نہیں کریں گے؟ انھوں نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ طواف نہیں کیا؟ میں نے عرض کیا:جی کیا ہے۔انھوں نے کہا: تو کیا تم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان مغربی کونوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی نہیں،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر کیا تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا: جی کیوں نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو اس کو چھوڑو اور آگے کو بڑھو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4350]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 313»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 313
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں