🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. فَضْلُ إِعَانَةِ الْمُجَاهِدِ وَتَجْهِيزِهِ وَخَلْفِهِ فِي أهْلِهِ وَالنَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلْ
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور¤اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4853
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَا يُنْقَصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْءٌ
۔ سیدنا زیدبن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے غازی کو تیار کیا یا اس کے اہل میں اس کا جانشیں بنا، اس کو غازی کے اجر جتنا ثواب ملے گا، جبکہ غازی کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4853]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 807، 1630النسائي:3331، وابن ماجه: 2759، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17033 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17158»
وضاحت: فوائد: … ہر آدمی جنگ کے لیے جا سکتا ہے نہ اس کی ضرورت ہے، لہٰذا جو لوگ باقی بچ جائیں وہ مجاہدین کا تیاری کا سامان تیار کریں اور ان کے اہل و عیال کے لیے ضروریات مہیا کریں، اس طرح سب لوگ جہاد میں شریک ہو جائیں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4854
عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي ابْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے غازی کوتیار کیا، اس نے جہاد کیا اور جو مجاہد کے اہل میں خیر و بھلائی کے ساتھ اس کا جانشیں بنا، اس نے بھی یقینا جہاد کیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4854]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2843، ومسلم: 1895، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21681 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22023»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4855
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَإِنَّهُ مَعَنَا
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجاہد کو تیار کیا، یا اس کے اہل کا خیر و بھلائی کے ساتھ جانشیں بنا، پس بیشک وہ ہمارے ساتھ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4855]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22038 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22388»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ مجاہدین کے اہل و عیال کے حقوق اور ضروریات پوری کرنا بڑے اجر و ثواب کا باعث ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4856
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ قُلْتُ وَكَيْفَ ذَاكَ قَالَ إِنْ كَانَتْ رِحَالًا فَرَحْلَانِ وَإِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَيْنِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے ہر مال میں سے ایک ایک جوڑا خرچ کیا، جنت کے دربان اس کا استقبال کریں گے اور ان میں سے ہر ایک اس کو اپنے پاس والی چیز کی طرف بلائے گا۔ میں نے کہا: (یہ جوڑا جوڑا) کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ سواریاں ہیں تو دو سواریاں، اگر وہ اونٹ ہیں تو دو اونٹ اور اگر وہ گائیں ہیں تو دو گائیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4856]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 4/24 (21413 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21742»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4857
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَظَلَّ رَأْسَ غَازٍ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا حَتَّى يَسْتَقِلَّ بِجَهَازِهِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ وَمَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُذْكَرُ فِيهِ اسْمُ اللَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجاہد کے سر پر سایہ کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر سایہ کرے گا، جس نے مجاہد کو تیار کیا، یہاں تک کہ وہ مستقل بالذات اور خود مختار ہو گیا، اس کے لیے اس کے اجر جتنا اجر ہو گا اور جس نے ایسی مسجد بنائی، جس میں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4857]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 735، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 126»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4858
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ وَلَيْسَ لِي مَالٌ أَتَجَهَّزُ بِهِ فَقَالَ اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ تَجَهَّزَ وَمَرِضَ فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ ادْفَعْ إِلَيَّ مَا تَجَهَّزْتَ بِهِ فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ يَا فُلَانَةُ ادْفَعِي إِلَيْهِ مَا جَهَّزْتِنِي بِهِ وَلَا تَحْبِسِي عَنْهُ شَيْئًا فَإِنَّكِ وَاللَّهِ إِنْ حَبَسْتِ عَنْهُ شَيْئًا لَا يُبَارِكُ اللَّهُ لَكِ فِيهِ قَالَ عَفَّانُ إِنَّ فَتًى مِنْ أَسْلَمَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نوجوان نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں جہاد تو کرنا چاہتا ہوں، لیکن میرے پاس مال نہیں ہے کہ میں تیار کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم فلاں انصاری کے پاس جاؤ، اس نے جہاد کی تیاری کر رکھی تھی، لیکن وہ بیمار پڑ گیا ہے اور اس سے کہو کہ اللہ کے رسول تم کو سلام کہہ رہے ہیں اور تم سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جو تم نے تیاری کر رکھی ہے، وہ مجھے دے دو۔ اس نے جا کر یہی پیغام دیا، اس نے جواباً اپنی بیوی سے کہا: اے فلاں خاتون! تونے میرے لیے جو کچھ تیاری کی تھی، وہ سارا کچھ اس آدمی کو دے دے، اور کوئی چیز مت روک، اللہ کی قسم! اگر تو نے کوئی چیز روکی تو اللہ تعالیٰ تیرے لیے اس میں برکت نہیں ڈالے گا۔ عفان راوی نے کہا: یہ نوجوان بنو اسلم قبیلے سے تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4858]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1894، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13192»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4859
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى بَنِي لَحْيَانَ لِيَخْرُجَ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو لحیان کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ ہر دو آدمیوں میں ایک آدمی نکلے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیچھے رہنے والے آدمیوں سے فرمایا: تم میں جو آدمی نکلنے والے مجاہد کے اہل و مال میں خیر و بھلائی کے ساتھ جانشیں بنے گا، اس کے لیے نکلنے والے کے نصف اجر کے برابر ثواب ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4859]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1896، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11126»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4860
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ أُحُدٌ عِنْدِي ذَهَبًا لَسَرَّنِي أَنْ أُنْفِقَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيْهِ ثَلَاثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ إِلَّا شَيْءٌ أُرْصِدُهُ فِي دَيْنٍ يَكُونُ عَلَيَّ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو یہ بات مجھے خوش کرے گی کہ میں اس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کر دوں اور اس حال میں مجھ پر تیسرا دن نہ آئے کہ میرے پاس اس میں سے کوئی دینار اور درہم ہو، ما سوائے اس چیز کے، جس کو میں قرضہ کی ادائیگی کے لیے روک لوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4860]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه بنحوه البخاري: 2389، 6445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7478»
وضاحت: فوائد: … یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش تھی، لیکن عملی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جتنا مال و دولت آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بہت جلد تقسیم کر دیا، جہاد کے لیے بھی اور دوسرے مقاصد کے لیے بھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4861
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا تَصَدَّقَ بِنَاقَةٍ مَخْطُوطَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَتَأْتِيَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسَبْعِمِائَةِ نَاقَةٍ مَخْطُوطَةٍ
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے لگام زدہ اونٹنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: تو قیامت کے روز سات سو لگام زدہ اونٹنیوں کے ساتھ آئے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4861]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22714»
وضاحت: فوائد: … عام طور پر اونٹنی کو اس وقت لگام ڈالی جاتی ہے، جب وہ قوی ہو جائے اور اس قابل ہو جائے کہ اس پر سامان وغیرہ لادا جا سکے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4862
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُنْفِقَ عَلَى الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَبَاسِطِ يَدَيْهِ بِالصَّدَقَةِ لَا يَقْبِضُهَا
۔ سیدنا ابن حظلیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے راستے میں موجود جماعت پر خرچ کرنے والا ایسے ہے، جیسے اس نے دونوں ہاتھ صدقہ کے ساتھ پھیلا رکھے ہوں اور وہ ان کو بند نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4862]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه أبوداود: 4089، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17768»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں