🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. مَنِ اسْتُشْهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4888
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فَذَكَرَ الْإِيمَانَ بِاللَّهِ وَالْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنَا صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكَيْفَ قُلْتَ قَالَ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ كَمَا قَالَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكَيْفَ قُلْتَ قَالَ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ أَيْضًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ قَالَ نَعَمْ إِلَّا الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَارَّنِي بِذَلِكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، لوگوں سے خطاب کیا اور اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے افضل عمل قرار دیا، ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید ہو جاؤں، جبکہ میری کیفیت یہ ہو کہ میں صبر کرنے والا ہوں، ثواب کی نیت سے آیا ہوا ہوں اور آگے بڑھ رہا ہوں، نہ کہ پیٹھ پھیرنے والا، تو کیا اللہ تعالیٰ اس عمل کو میرے گناہوں کا کفارہ بنا دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا کہا تم نے، ذرا بات کو لوٹانا؟ اس نے اپنی بات دوبارہ ذکر کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: تم نے کیا کہا؟ اس نے سہ بارہ اپنا بیان ذکر کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کہہ رہا ہوں کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید ہو جاؤں، جبکہ میری کیفیت یہ ہو کہ میں صبر کرنے والا ہوں، ثواب کی نیت سے آیا ہوا ہوں اور آگے بڑھ رہا ہوں، نہ کہ پیٹھ پھیرنے والا، تو کیا اللہ تعالیٰ اس عمل کو میرے گناہوں کا کفارہ بنا دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ما سوائے قرض کے، جبریل علیہ السلام نے ابھی مجھ سے یہ سرگوشی کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4888]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي: 6/33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8061»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ سب سے بڑی نیکی شہادت بھی حقوق العباد کی معافی کا ذریعہ نہیں بن سکتی، تو دوسری نیکیاں کیونکر حقوق العباد کو ختم کر سکتی ہیں؟ الا یہ کہ حقوق العباد کی ادائیگی کے بعد نیکیاں بچ جائیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4889
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ خَطَايَايَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاكَ إِلَّا الدَّيْنَ كَذَلِكَ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید ہو جاؤں، جبکہ میری کیفیت یہ ہو کہ میں صبر کرنے والا ہوں، ثواب کی نیت سے آیا ہوا ہوں اور آگے بڑھ رہا ہوں، نہ کہ پیٹھ پھیرنے والا، تو کیا اللہ تعالیٰ اس عمل کو میرے گناہوں کا کفارہ بنا دے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس حال میں شہید ہو جائے کہ تو صبر کرنے والا ہو، ثواب کی نیت سے آیا ہو اور آگے بڑھنے والا ہو، نہ کہ پیٹھ پھیرنے والا تو اللہ تعالیٰ اس عمل کو تیرے گناہوں کا کفارہ بنا دے گا، ما سوائے قرض کے، جبریل علیہ السلام نے اسی طرح مجھے اطلاع دی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4889]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1885، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23002»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4890
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَفِيهِ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْكَ دَيْنٌ لَيْسَ لَهُ عِنْدَكَ وَفَاءٌ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں ہے: جب وہ آدمی جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا: ما سوائے اس چیز کے کہ تجھ پر کوئی قرض ہو، جبکہ تیرے پاس اس کی ادائیگی کے لیے کوئی مال نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4890]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 1857، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14856»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4891
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْنَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرض کے علاوہ شہید کا ہر گناہ بخش دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4891]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1886، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7051 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7051»
وضاحت: فوائد: … قرض کا تعلق حقوق العباد سے ہے، سو اس کی معافی کا انحصار متعلقہ بندے سے ہے، ان احادیث سے حقوق العباد کی اہمیت کا اندازہ ہو جانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کی گئی بڑی سے بڑی نیکی سے بھی یہ حقوق معاف نہیں ہوں گے، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:((مَنْ کَانَتْ عِنْدَہٗ مَظْلَمَۃٌ لِاَخِیْہِ مِنْ عِرْضِہٖ اَوْ مِنْ شَیْئٍ فَلْیَتَحَلَّلْہُ مِنْہُ الْیَوْمَ قَبْلَ اَنْ لَّایَکُوْنَ دِیْنَارٌ وَلَا دِرْھَمٌ۔ اِنْ کَانَ لَہٗ عَمَلٌ صَالِحٌ اُخِذَ مِنْہُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِہٖ وَاِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ حَسَنَاتٌ اُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ صَاحِبِہٖ فَحُمِلَ عَلَیْہِ۔))

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں