الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. أنواع الشُّهَدَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدَرَجَاتِهِمْ بِاعْتِبَارِ نِيَّاتِهِمْ
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
حدیث نمبر: 4892
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقَتْلُ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَاتَلَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى يُقْتَلَ فَذَلِكَ الشَّهِيدُ الْمُفْتَخِرُ فِي خَيْمَةِ اللَّهِ تَحْتَ عَرْشِهِ لَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ مُحِيَتْ ذُنُوبُهُ وَخَطَايَاهُ إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءُ الْخَطَايَا وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ فَإِنَّ لَهَا ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ وَلِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ وَبَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يُقْتَلَ فَإِنَّ ذَلِكَ فِي النَّارِ السَّيْفُ لَا يَمْحُو النِّفَاقَ
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سُلَمی رضی اللہ عنہ، جو کہ صحابۂ رسول میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتل کی تین اقسام ہیں: (۱) وہ مؤمن آدمی جو اپنے جان و مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتال کرتا ہے، جب دشمن سے اس کی ٹکر ہوتی ہے تو وہ اس سے لڑائی کرتا ہے، یہاں تک کہ شہید ہو جاتا ہے، یہ وہ شہید ہے، جو اللہ کے عرش کے نیچے خیمۃ اللہ میں فخر کرنے والا ہو گا، انبیاء صرف نبوت کے درجے کی وجہ سے ایسے شہید سے فضیلت رکھتے ہوں گے، (۲) وہ مؤمن آدمی، جس نے اپنی جان پر گناہ کیے ہوتے ہیں اور وہ اپنے مال وجان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے، جب وہ دشمنوں سے ملتا ہے تو ان سے قتال کرتا ہے، یہاں تک کہ شہید ہو جاتا ہے، ایسے شہید کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، بیشک تلوار گناہوں کو مٹا دینے والی ہے، ایسا شہید جنت کے جس دروازے سے چاہے گا، داخل ہو جائے گا، جنت کے آٹھ دروازے ہیں، جن میں سے بعض دروزے بعض سے افضل ہیں اور جہنم کے سات دروازے ہیں، اور (۳) وہ منافق آدمی جو اپنے جان ومال سے قتال کرتا ہے، جب دشمن سے اس کی ٹکر ہوتی ہے تو وہ راہِ خدا میں لڑتا ہے، یہاں تک کہ قتل کر دیا جاتا ہے، یہ شخص جہنم میں ہو گا، کیونکہ تلوار نفاق جیسے گناہ کو نہیں مٹا سکتی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4892]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو المثني المحمصي مجھول الحال، أخرجه الدارمي: 2411، والطبراني في الكبير: 17/ 310، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17657 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17807»
وضاحت: فوائد: … بہرحال ہر عمل کرنے والوں کے درجات مختلف ہوں گے، مثال کے طور پر نمازی لوگ، وہ نماز تو ایک طرح کی ہی ادا کرتے ہوں گے، لیکن ان کے درجات مختلف ہوں گے، کیونکہ مقدار کے بعد معیار کو بھی پرکھا جاتا ہے، جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 4893
عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الشُّهَدَاءُ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ فَذَلِكَ الَّذِي يَرْفَعُ إِلَيْهِ النَّاسُ أَعْنَاقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ حَتَّى وَقَعَتْ قَلَنْسُوَتُهُ أَوْ قَلَنْسُوَةُ عُمَرَ وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَكَأَنَّمَا يُضْرَبُ جِلْدُهُ بِشَوْكِ الطَّلْحِ أَتَاهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَهُ هُوَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ فَذَلِكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہداء تین قسم کے ہوتے ہیں: (۱) وہ مؤمن آدمی جو عمدہ ایمان والا ہوتا ہے، جب دشمن سے اس کا مقابلہ ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی تصدیق کرتے ہوئے لڑتا ہے، یہاں تک کہ شہید ہو جاتا ہے، یہ وہ شہید ہے کہ قیامت کے دن لوگ جس کی طرف اپنی گردنیں اٹھائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اوپر کو بلند کیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ٹوپی گر گئی، (۲) وہ مؤمن آدمی، جس کا ایمان عمدہ ہوتا ہے، لیکن جب وہ دشمن سے مقابلے میں آتا ہے تو اس پرایسا خوف طاری ہوتا ہے کہ گویا کیکر کے درخت کا کانٹا اس کی جِلد میں چبھو دیا گیا ہے، پھر اچانک ایک اجنبی تیر اس کو لگتا ہے اور وہ شہید ہو جاتا ہے، ایسا شخص دوسرے درجے میں ہو گا، اور (۳) وہ مؤمن آدمی، جس کا ایمان تو عمدہ ہوتا ہے، لیکن اس نے نیک اور برے، دونوں قسم کے اعمال کیے ہوتے ہیں، جب اس کا دشمن سے مقابلہ ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی تصدیق کرتے ہوئے لڑتا ہے، یہاں تک کہ شہید ہو جاتا ہے، یہ شہید تیسرے درجہ میں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4893]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي يزيد الخولاني، أخرجه الترمذي: 1644، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 146 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 146»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 4894
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيْقٍ ثَانٍ) قَالَ سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الشُّهَدَاءُ أَرْبَعَةٌ فَذَكَرَ الثَّلَاثَةَ الْمُتَقَدِّمَةَ ثُمَّ قَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ إِسْرَافًا كَثِيرًا لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الرَّابِعَةِ
۔ (دوسری سند) اس کے الفاظ یہ ہیں: شہدا چار قسم کے ہوتے ہیں … پھر سابق حدیث میں مذکورہ تین اقسام ذکر کیں اور پھر فرمایا: … (۴) وہ مؤمن آدمی جس نے گناہوں کے سلسلے میں اپنے آپ پر بہت زیادتی کی ہوتی ہے، جب وہ دشمن سے ملتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی تصدیق کرتے ہوئے لڑتا ہے، یہاں تک کہ شہید ہو جاتا ہے، یہ چوتھے درجے کا شہید ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4894]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 150»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 4895
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ الشُّهَدَاءُ فَقَالَ إِنَّ أَكْثَرَ شُهَدَاءِ أُمَّتِي أَصْحَابُ الْفُرُشِ وَرُبَّ قَتِيلٍ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِنِيَّتِهِ
۔ ابو محمد، جو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے ہیں، بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے اس کو بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شہداء کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے اکثر شہداء بستروں والے ہوں گے اور دو صفوں کے درمیان قتل ہونے والے کئی افراد ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کی نیتوں کو بہتر جاننے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4895]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، ابو محمد، ذكره البخاري في الكني ولم يذكر فيه جرحا ولا تعديلا، وذكره ابن حبان في الثقات، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3772 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3772»
وضاحت: فوائد: … بستروں والے شہداء سے مراد وہ لوگ ہیں، جو محرمات و مکروہات سے گریز کر کے اور واجبات و مستحبات ادا کر کے جہاد النفس کرتے ہیں اور شیطان کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتے۔ بہرحال قتال اور جہاد بالسیف کی اپنی فضیلت ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کا مقصد اس کے راستے میں جہاد کرنا ہے، کیونکہ نیت مخفی چیز ہے، لوگ ظاہر کو دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دل کو بھی دیکھتا ہے، فضیلت اسی کو حاصل ہو گی جو خالصتاً لوجہ اللہ جہاد کو جائے گا۔ اگر کوئی اور آلائش داخل ہو گئی تو جہاد بجائے جنت کے جہنم کا ذریعہ بن جائے گا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 4896
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِيَّاكُمْ أَنْ تَقُولُوا مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدٌ أَوْ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدٌ فَإِنَّ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ وَيُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ فَإِنْ كُنْتُمْ شَاهِدِينَ لَا مَحَالَةَ فَاشْهَدُوا لِلرَّهْطِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقُتِلُوا فَقَالُوا اللَّهُمَّ بَلِّغْ نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنَّا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس طرح کہنے سے بچا کرو کہ فلاں کی وفات شہادت ہے، یا فلاں شہید ہو گیا ہے، کیونکہ کوئی آدمی غنیمت کی خاطر لڑتا ہے، کوئی شہرت کی وجہ سے جنگ کرتا ہے اور کوئی اس لیے قتال کرتا ہے کہ اس کے مرتبے کا پتہ چل جائے، اگر تم نے لامحالہ طور پر گواہی دینی ہی ہے تو ان لوگوں کے لیے شہادت کی گواہی دو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن کو ایک سریّہ میں بھیجا تھا اور ان کو قتل کر دیا گیا تھا، انھوں نے قتل ہونے سے پہلے کہا تھا: اے اللہ! ہمارے نبی کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم تجھ کو مل چکے ہیں اور ہم تجھ سے راضی ہو گئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہو گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4896]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه عبد الله بن مسعود، أخرجه ابويعلي: 5376، والطبراني في الكبير: 9025، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3952»
وضاحت: فوائد: … اے اللہ! ہمارے نبی کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم تجھ کو مل چکے ہیں اور ہم تجھ سے راضی ہو گئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہو گیا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 4897
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَقُولُونَ لِمَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيكُمْ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ عَجُزَ دَابَّتِهِ أَوْ دَفَّ رَاحِلَتَهُ ذَهَبًا وَفِضَّةً يَبْتَغِي التِّجَارَةَ فَلَا تَقُولُوا ذَاكُمْ وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: جو آدمی تمہاری ان جنگوں میں مارا جاتا ہے تو تم اس کے بارے میں کہتے ہو کہ فلاں شہید ہو گیا ہے، جبکہ ممکن ہے کہ اس نے تجارت کی خاطر اپنے چوپائے کی کمر پر یا سواری کے پہلوؤں پر سونا اور چاندی لاد رکھا ہو، لہذا کسی کے بارے میں یہ شہادت والی بات نہ کیا کرو، ہاں وہ بات کر سکتے ہو، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی ہے کہ جو آدمی اللہ کی راہ میں شہید ہو گیا، وہ جنت میں جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4897]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه أبوداود: 2106، والنسائي: 6/117، والترمذي: 1114، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 340»
وضاحت: فوائد: … اصل بات یہ ہے کہ ظن غالب کی روشنی میں ہر عبادت گزار کو خاص قسم کے لقب سے نوازا جاتا ہے، مثلا نماز پڑھنے والے کو نمازی کہہ کر اس کو اچھے لفظوں میں یاد کرنا، حالانکہ اس چیز کا تو اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ اس کی نماز قبول ہوئی ہے یا نہیں اور اس کی نماز اس کے لیے باعث ِ رحمت ثابت ہوئی ہے یا باعث ِ عذاب، یہی معاملہ روزے، حج، زکوۃ، جہاد، بلکہ ہر نیکی کی یہی صورت حال ہے۔ اگر ہم کسی کو حاجی یا شہید کہتے ہیں تو ہم دراصل اپنے حسن ظن یا ظن غالب کی روشنی میں کہہ رہے ہوتے ہیں، حتمی فیصلہ تو اللہ تعالیٰ ہی کرے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح