🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. جامِعُ الشُّهَدَاءِ وَأَنْوَاعِهِمْ غَيْرِ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4898
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ
۔ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مال کے تحفظ میں مارا گیا، وہ شہید ہے، جو آدمی اپنے اہل و عیال کا تحفظ کرتا ہوا قتل ہو گیا، وہ شہید ہے، جو آدمی اپنے دین کو بچاتے ہوئے مارا گیا، وہ شہید ہے اور جو آدمی اپنے خون کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو گیا، وہ بھی شہید ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4898]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه أبوداود: 4772، والنسائي: 7/ 116، وابن ماجه: 2580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1652»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4899
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقُتِلَ دُونَهُ فَهُوَ شَهِيدٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا مال بغیر حق کے لے لینے کا ارادہ کر لیا اور وہ اس کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو گیا تو وہ شہید ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4899]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود:، والنسائي:، والترمذي:، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6816 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6816»
وضاحت: فوائد: … مقصدیہ ہے کہ جو آدمی ظلماً مارا جائے، خواہ وہ اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے یا مال کی حفاظت کرتے ہوئے یا عزت کی حفاظت کرتے ہوئے یا اہل وعیال کی حفاظت کرتے ہوئے یا دین کی حفاظت کرتے ہوئے، وہ شہید ہے، یعنی اس کی مغفرت ہو جائے گی، وہ جنتی ہو گا۔ اس کا ایمان دار ہونا، بہر صورت شرط ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4900
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ الْمِيتَةُ أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ دُونَ حَقِّهِ
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھی موت یہ ہے کہ آدمی اپنے حق کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4900]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو بكر بن حفص لم يسمع من جده الاعلي سعد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1598»
وضاحت: فوائد: … جو آدمی ان چیزوںکے دفاع میں قتل ہو جائے، وہ بھی شہید ہے، لیکن یہ لوگ آخرت کے حکم کے مطابق شہید ہوتے ہیں، یعنی ان کو شہداء والا اجر و ثواب دیا جائے گا، دنیا میں ان پر شہید کے احکام لاگو نہیں ہوں گے۔ مثلا اسے عام میت کی طرح غسل دیا جائے گا اور اس کا جنازہ پڑھایا جائے گا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مظلوم شہید ہوئے، مگر ان کو غسل دیا گیا تھا اور ان کا جنازہ بھی پڑھا گیا تھا، سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کا معاملہ بھی یہی ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4901
عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ أَرْضًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يُقَالُ لَهَا الْوَهْطُ فَأَمَرَ مَوَالِيَهُ فَلَبِسُوا آلَتَهُمْ وَأَرَادُوا الْقِتَالَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ مَاذَا فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُظْلَمُ بِمَظْلَمَةٍ فَيُقَاتِلَ فَيُقْتَلَ إِلَّا قُتِلَ شَهِيدًا
۔ سعد بن ابراہیم سے مروی ہے، انھوں نے بنومخزوم کے ایک آدمی سے سنا، وہ اپنے چچا سے بیان کرتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی وہط نامی زمین لینا چاہی، لیکن انھوں نے اپنے غلاموں کو حکم دیا، پس انھوں نے اپنے آلات اٹھا لیے اور لڑنے کے لیے تیار ہو گئے، میں ان کے پاس گیا اور کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس مسلمان پر ظلم کیا جاتا ہے اور وہ آگے سے قتال کرتا ہے اور مارا جاتا ہے، تو وہ شہید ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4901]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الرجل من نبي مخزوم وعمه، أخرجه االطيالسي: 2294، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6913 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6913»
وضاحت: فوائد: … وہط کا لغوی معنی پست زمین ہے، یہ طائف میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی زمین تھی اور پست ہونے کی وجہ سے اس کا نام ہی وہط پڑ گیا تھا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4902
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ حَمَمَةُ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أَصْبَهَانَ غَازِيًا فِي خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ حَمَمَةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُحِبُّ لِقَاءَكَ فَإِنْ كَانَ حَمَمَةُ صَادِقًا فَاعْزِمْ لَهُ صِدْقَهُ وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَاعْزِمْ عَلَيْهِ وَإِنْ كَرِهَ اللَّهُمَّ لَا تَرُدَّ حَمَمَةَ مِنْ سَفَرِهِ هَذَا قَالَ فَأَخَذَهُ الْمَوْتُ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً الْبَطْنُ فَمَاتَ بِأَصْبَهَانَ قَالَ فَقَامَ أَبُو مُوسَى فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا فِيمَا سَمِعْنَا مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا بَلَغَ عِلْمَنَا إِلَّا أَنَّ حَمَمَةَ شَهِيدٌ
۔ حمید بن عبد الرحمن حمیری کہتے ہیں کہ حممہ نامی ایک آدمی جہاد کرنے کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اصفہان کی طرف نکلا، یہ آدمی اصحاب ِ رسول میں سے تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! بیشک حممہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ تیری ملاقات کو پسند کرتا ہے، اگر حممہ سچا ہے تو تو اس کے سچ کو پورا کر دے اور اس کو شہید کر دے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر بھی تو اس کو شہید کر دے، اگرچہ یہ ناپسند کرتا ہو، اے اللہ! حممہ کو اس سفر سے واپس نہ لوٹانا۔ ایسے ہی ہوا اور وہ پیٹ کی بیماری کی وجہ سے اصبہان کے علاقے میں فوت ہو گیا۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے لوگو! جو کچھ ہم نے تمہارے نبی سے سنا اور جتنا ہم نے علم حاصل کیا، اس کا یہ تقاضا یہ ہے کہ حممہ شہید ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4902]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود الطيالسي:505، والطبراني في الكبير: 3610، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19893»
وضاحت: فوائد: … سیدنا حممہ رضی اللہ عنہ پیٹ کی بیماری کی وجہ سے فوت ہوئے اور اس مرض سے وفات پانے والا حکماً شہید ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۴۹۱۴)میں آ رہا ہے اور دوسری وجہ یہ بھی کہ یہ جہادی سفر میں تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4903
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ مَاتَ رَجُلٌ صَالِحٌ فَأُخْرِجَ بِجِنَازَتِهِ فَلَمَّا رَجَعْنَا تَلَقَّانَا خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ وَكِلَاهُمَا قَدْ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَا سَبَقْتُمُونَا بِهَذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ فَذَكَرُوا أَنَّهُ كَانَ بِهِ بَطْنٌ وَأَنَّهُمْ خَشُوا عَلَيْهِ الْحَرَّ قَالَ فَنَظَرَ أَحَدُهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ فَقَالَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ
۔ ابو اسحق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک نیک سیرت آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا جنازہ نکالا گیا تو ہمیں سیدنا خالد بن عرفطہ اور سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہما ملے، یہ دونوں صحابی تھے، انھوں نے کہا: تم اس نیک آدمی کے سلسلے میں ہم سے سبقت لے گئے ہو، لوگوں نے کہا: اس کو پیٹ کی بیماری تھی اور ہمیں گرمی کی وجہ سے ڈر تھا، یہ سن کر ان دو میں سے ہر ایک نے دوسرے کو دیکھا اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ جو آدمی پیٹ کی وجہ سے فوت ہو گا، اس کو قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ (مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق دوسرے صحابی نے جواب دیا: جی کیوں نہیں۔) [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4903]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1064، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18502»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4904
عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَا مَاتَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ فَقَالُوا بِالطَّاعُونِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ
۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ابن ابی عمروہ کیسے فوت ہوا ہے، انھوں نے کہا: طاعون کے سبب سے، پھر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طاعون ہر مسلمان کی شہادت ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4904]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2830، ومسلم: 1916، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12547»
وضاحت: فوائد: … طاعون کیا ہے؟ اگلی حدیث کی شرح ملاحظہ ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4905
عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْتَصِمُ الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنَ الطَّاعُونِ فَيَقُولُ الشُّهَدَاءُ إِخْوَانُنَا قُتِلُوا كَمَا قُتِلْنَا وَيَقُولُ الْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ كَمَا مِتْنَا عَلَى فُرُشِنَا فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا إِلَى جِرَاحِهِمْ فَإِنْ أَشْبَهَتْ جِرَاحُهُمْ جِرَاحَ الْمَقْتُولِينَ فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ وَمَعَهُمْ فَإِذَا جِرَاحُهُمْ قَدْ أَشْبَهَتْ جِرَاحَهُمْ
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہداء اور بستروں پر طبعی موت فوت ہونے والے اللہ تعالیٰ کے پاس ان لوگوں کے بارے میں جھگڑیں گے، جو طاعون کی وجہ سے فوت ہو جاتے ہیں، شہداء کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہیں اور ہماری طرح شہید ہوئے ہیں، بستروں پر فوت ہونے والے کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہے اور بستروں پر ایسی ہی طبعی موت فوت ہوئے ہیں، جیسے ہم مرے ہیں، اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتے ہوئے کہے گا: تم لوگ ان کے زخموں کو دیکھ لو، اگر ان کے زخم شہداء کے زخموں کے مشابہ ہوئے تو یہ ان ہی میں سے اور ان کے ساتھ ہوں گے، پس ان کے زخم شہدا کے زخموں کے مشابہ ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4905]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه النسائي: 6/37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17291»
وضاحت: فوائد: … اس جھگڑے کی بنیاد حسد وغیرہ نہیں، بلکہ شہداء چاہیں گے کہ طاعون سے فوت ہونے والوں کا درجہ اونچا کیا جائے، وہ ہمارے ساتھ رہیں، اور بستروں پر فوت ہونے والے چاہیں گے کہ اگر انہیں شہداء کا مرتبہ مل رہا ہے تو ہمیں بھی ملنا چاہیے کیونکہ موت کے لحاظ سے ہم ایک جیسے ہیں، گویا یہ رشک ہے اور رشک جائز ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4906
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سُلَمی رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4906]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17801»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4907
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَيِّتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اندرونی پھوڑے (کینسر و سرطان وغیرہ) سے مرجانے والا شہید ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4907]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/881، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17570»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں