الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب فِي أَنَّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَاتَ شَهِيدًا
اس بات کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہید کی وفات پائی
حدیث نمبر: 4916
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُتِلَ قَتْلًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا قَالَ الْأَعْمَشُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْيَهُودَ سَمُّوهُ وَأَبَا بَكْرٍ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اگر میں نو بار قسم اٹھا کر کہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید کیا گیا ہے تو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایک قسم اٹھا کر کہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید نہیں کیا گیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی بنایا اور بطورِ شہید کے لیا، اعمش راوی کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات ابراہیم کو بتلائی تو انھوں نے کہا: ان لوگوں کا یہی خیال تھا کہ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو زہر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4916]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4139»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4917
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أُمِّهِ أَنَّ أُمَّ مُبَشِّرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتْ إِلَى الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَقَالَتْ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَتَّهِمُ بِنَفْسِكَ فَإِنِّي لَا أَتَّهِمُ ابْنِي إِلَّا الطَّعَامَ الَّذِي أَكَلَ مَعَكَ بِخَيْبَرَ وَكَانَ ابْنُهَا مَاتَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ وَأَنَا لَا أَتَّهِمُ غَيْرَهُ هَذَا أَوَانُ قَطْعِ أَبْهَرِي
۔ سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا، جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، سے مروی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرض الموت کے دوران آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کس چیز کو اپنی بیماری کا سبب قرار دیتے ہیں، میرا خیال تو یہی ہے کہ اس کی وجہ وہ کھانا ہے جو میرے بیٹے نے بھی آپ کے ساتھ خیبر میں کھایا تھا، ان کا بیٹا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے وفات پا چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھی اس کے علاوہ کسی اور چیز کو سبب نہیں سمجھتا، اب تو دل سے نکلنے والی رگ کے کٹ جانے کا وقت آ چکا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4917]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه أبوداود: 4514، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24430»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَمَّا فُتِحَتْ خَیْبَرُ أُہْدِیَتْ لِرَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
الحكم على الحديث: صحیح