🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. بَابُ تَشْبِيْعِ الْغَازِي وَاسْتِقْبَالِهِ وَوَصِيَّةِ الإمامِ لَهُ
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4961
عَنْ أُمَيَّةَ بِنْتِ أَبِي الصَّلْتِ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، وَقَدْ سَمَّاهَا لِي، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ أَرَدْنَا أَنْ نَخْرُجَ مَعَكَ إِلَى وَجْهِكَ هَذَا، وَهُوَ يَسِيرُ إِلَى خَيْبَرَ، فَنُدَاوِيَ الْجَرْحَى، وَنُعِينَ الْمُسْلِمِينَ بِمَا اسْتَطَعْنَا، فَقَالَ: عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا مَعَهُ، وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةً، فَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَقِيبَةِ رَحْلِهِ، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ، لَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصُّبْحِ فَأَنَاخَ وَنَزَلْتُ عَنْ حَقِيبَةِ رَحْلِهِ، وَإِذَا بِهَا دَمٌ مِنِّي، فَكَانَتْ أَوَّلَ حَيْضَةٍ حِضْتُهَا، قَالَتْ: فَتَقَبَّضْتُ إِلَى النَّاقَةِ وَاسْتَحْيَيْتُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا بِي وَرَأَى الدَّمَ، قَالَ: ( (مَا لَكِ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟) ) قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ( (فَأَصْلِحِي مِنْ نَفْسِكِ، وَخُذِي إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَاطْرَحِي فِيهِ مِلْحًا، ثُمَّ اغْسِلِي مَا أَصَابَ الْحَقِيبَةَ مِنَ الدَّمِ، ثُمَّ عُودِي لِمَرْكَبِكِ) ) قَالَتْ: فَلَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، رَضَخَ لَنَا مِنَ الْفَيْءِ، وَأَخَذَ هَذِهِ الْقِلَادَةَ الَّتِي تَرَيْنَ فِي عُنُقِي، فَأَعْطَانِيهَا وَجَعَلَهَا بِيَدِهِ فِي عُنُقِي، فَوَاللَّهِ، لَا تُفَارِقُنِي أَبَدًا، قَالَ: وَكَانَتْ فِي عُنُقِهَا حَتَّى مَاتَتْ، ثُمَّ أَوْصَتْ أَنْ تُدْفَنَ مَعَهَا، فَكَانَتْ لَا تَطْهُرُ مِنْ حَيْضَةٍ إِلَّا جَعَلَتْ فِي طَهُورِهَا مِلْحًا، وَأَوْصَتْ أَنْ يُجْعَلَ فِي غُسْلِهَا حِينَ مَاتَتْ
۔ بنو غفار کی ایک خاتون (سیدہ ام زیاد اشجعی) سے مروی ہے، وہ کہتی ہے: میں بنو غفار کی چند خواتین سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم بھی آپ کے ساتھ اس طرف نکلنا چاہتی ہیں، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر کی طرف جا رہے تھے، ہم زخمیوں کا علاج کریں گی اور حسب ِ استطاعت مسلمانوں کی مدد کریں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی برکت پر نکلو۔ پس ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکل پڑیں، میں نو عمر لڑکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری پر پالان کے پچھلے حصے میں بٹھا لیا، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت اترے، اونٹ کو بٹھایا اور میں بھی پالان کے پچھلے حصے سے اتر آئی، اچانک دیکھا کہ اس میں تو مجھ سے بہنے والا خون تھا، یہ میرا پہلا حیض تھا، میں گھبرا کر اونٹنی کی طرف کودی اور شرما گئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور میرے ساتھ لگے ہوئے خون کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہو گیا، شاید تجھے ماہواری آ گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے آپ کو سنوار لے اور ایک برتن میں پانی لے، اس میں نمک ڈال اور پالان کو جو خون لگا ہے، اس کو دھو دے، پھر اپنی سواری پر بیٹھ جا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بھی مالِ فے میں تھوڑی مقدار والے عطیے دیئے، یہ جو ہار میری گردن میں نظر آ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ہار پکڑا اور مجھے دے دیا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے میری گردن میں ڈالا، اللہ کی قسم! اب یہ ہار مجھ سے کبھی بھی جدا نہیں ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: پھر ان کی موت تک یہ ہار ان کی گردن میں رہا، بلکہ انھوں نے وصیت کی تھی کہ اس ہار کو ان کے ساتھ دفن کیا جائے، نیز اس خاتون کو بعد میں جب بھی حیض آتا تھا تو اس سے پاکیزگی حاصل کرتے وقت وہ پانی میں نمک ڈالتی تھیں اور انھوں نے یہ وصیت بھی کی تھی کہ ان کے غسل کے پانی میں بھی نمک ڈالا جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4961]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة امية بنت ابي الصلت، أخرجه ابوداود: 313، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27677»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4962
عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الطُّفَاوَةِ طَرِيقُهُ عَلَيْنَا، فَأَتَى عَلَى الْحَيِّ فَحَدَّثَهُمْ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي عِيرٍ لَنَا فَبِعْنَا بِيَاعَتَنَا، ثُمَّ قُلْتُ: لَأَنْطَلِقَنَّ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَلَآتِيَنَّ مَنْ بَعْدِي بِخَبَرِهِ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يُرِينِي بَيْتًا، قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً كَانَتْ فِيهِ، فَخَرَجَتْ فِي سَرِيَّةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَرَكَتْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ عَنْزًا لَهَا وَصِيصِيَتَهَا كَانَتْ تَنْسِجُ بِهَا، قَالَ: فَفَقَدَتْ عَنْزًا مِنْ غَنَمِهَا وَصِيصِيَتَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ إِنَّكَ قَدْ ضَمِنْتَ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِكَ أَنْ تَحْفَظَ عَلَيْهِ، وَإِنِّي قَدْ فَقَدْتُ عَنْزًا مِنْ غَنَمِي وَصِيصِيَتِي، وَإِنِّي أَنْشُدُكَ عَنْزِي وَصِيصِيَتِي، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شِدَّةَ مُنَاشَدَتِهَا لِرَبِّهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (فَأَصْبَحَتْ عَنْزُهَا وَمِثْلُهَا وَصِيصِيَتُهَا وَمِثْلُهَا) ) وَهَاتِيكَ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا إِنْ شِئْتَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ أُصَدِّقُكَ
۔ حُمید بن ہلال سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:طفاوہ قبیلے کے ایک آدمی کا راستہ ہمارے پاس سے گزرتا تھا، وہ ایک قبیلے کے پاس آیا اور ان کو یہ واقعہ بیان کیا: میں اپنے قافلے میں مدینہ منورہ گیا، وہاں اپنا سامان فروخت کیا، پھر میں نے کہا: میں ضرور ضرور اس آدمی (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤں گا اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اس کی حقیقت سے آگاہ کروں گا، جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک گھر دکھایا اور فرمایا: بیشک ایک خاتون اس گھر میں رہتی تھی، وہ مسلمانوں کے ایک سریّہ میں چلی گئی اور گھر میں بارہ بکریاں اور کاتنے کا ایک تکلا چھوڑ کر گئی، وہ اس تکلے سے بننے کا کام کرتی تھی، جب وہ واپس آئی تو اس نے ایک بکری اور اس تکلے کو گم پایا، پھر اس نے کہا: اے میرے ربّ! جو آدمی تیرے راستے میں جاتا ہے، اس کی چیزوں کی حفاظت کی ضمانت تو خود لیتا ہے، اب میرے ایک بکری اور تکلا گم ہے، میں تجھے وہی وعدہ یاد کروا کر کہتی ہوں کہ میری بکری اور میرا تکلا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کے مطالبے اور اپیل کی شدت کا ذکر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر ہوا یوں کہ اس کی بکری اور اس کی مثل ایک اور بکری اور اس کا تکلا اور اس کی مثل ایک اور تکلا اس کے پاس پہنچا دیئے گئے۔اور تو خود اس کے پاس جا اور اگر چاہتا ہے تو اس سے پوچھ لے۔ میں نے کہا: جی میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4962]
تخریج الحدیث: «رجاله الي حميد بن ھلال ثقات رجال الصحيح، وليس في النص ما يصرح بسماع حميد من الرجل الطفاوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20940»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ مجاہد کو الوداع کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلنا، واپسی پر آگے جا کر ان کا استقبال کرنا اور لشکروں کو روانہ کرتے وقت امام اور حکمران کا جہاد سے متعلق ان کو پند ونصائح کرنا

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں