🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي يُسْتَحَبُّ فِيهَا الْخُرُوجُ إِلَى الْغَزْوِ وَالنُّهُوضُ إِلَى الْقِتَالِ وَتَرْتِيبِ
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4963
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِذَا أَرَادَ سَفْرًا إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات کے علاوہ کسی اور دن کم ہی نکلتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4963]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2949، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15781 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15873»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4964
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک کے موقع پر جمعرات کے دن نکلے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4964]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15871»
وضاحت: فوائد: … حسب ِ امکان اس سنت پر عمل کرنا چاہیے، اگر کوئی مانع ہو تو کسی دوسرے دن میں بھی سفر کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ہفتہ کے روز سفر شروع کیا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4965
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا) )
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے دن کے شروع والے اوقات میں برکت فرما۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4965]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه البزار: 696، وابويعلي: 425، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1320»
وضاحت: فوائد: … دن کے شروع میں کیے گئے کام میں برکت ہو تی ہے، جہاں یہ مستعدی کا وقت ہوتا ہے، وہاں دن کا سب سے لمبا پیریڈ بھی یہی ہوتاہے، غور کریں کہ آج کل عام لوگ گیارہ بارہ بجے اپنے کاروبار وغیرہ کا آغاز کرتے ہیں، نو دس بجے تو عام لوگوں کا معمول ہے، جبکہ سردیوں کے موسم میں نماز فجر سے دس بجے تک پانچ گھنٹے گزر چکے ہوتے ہیں اور موسم گرما میں تو دس بجے تک سات آٹھ گھنٹے گزر چکے ہوتے ہیں، اتنا لمبا پیریڈ دن کے کسی اور حصے میں ہاتھ نہیں آتا، جبکہ ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت بھی پڑ رہی ہوتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4966
عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهِمْ) ) قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً بَعَثَهَا أَوَّلَ النَّهَارِ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، وَكَانَ لَا يَبْعَثُ غِلْمَانَهُ إِلَّا مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، فَكَثُرَ مَالُهُ حَتَّى كَانَ لَا يَدْرِي أَيْنَ يَضَعُ مَالَهُ
۔ سیدنا صخر غامدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے دن کے شروع والے اوقات میں برکت فرما۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی سریّہ بھیجتے تو اس کو دن کے شروع والے حصے میں بھیجتے۔ سیدنا صخر رضی اللہ عنہ خود تاجر آدمی تھے، وہ اپنے لڑکوں کو صرف دن کے شروع میں بھیجا کرتے تھے، پس ان کا مال اتنا زیادہ ہو گیا تھا کہ وہ یہ نہ جان سکتے کہ اپنا مال کہاں رکھیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4966]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه أبوداود: 2606، والترمذي: 1212، وابن ماجه: 2236، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15517»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4967
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يَنْهَضَ إِلَى عَدُوِّهِ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زوالِ آفتاب کے وقت دشمن سے لڑائی کا آغاز کرنے کو پسند کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4967]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2828، 2833، 2965، ومسلم: 1742، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19354»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4968
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ يَعْنِي النُّعْمَانَ: وَلَكِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ، وَيَنْزِلَ النَّصْرُ
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو عامل بنایا، … پھر باقی حدیث ذکر کی …، سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن کے شروع میں قتال نہ کرتے تو پھر لڑائی کو مؤخر کر دیتے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، ہوائیں چل پڑتیں اور تائید و نصرت کا نزول شروع ہو جاتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4968]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 2655، والترمذي: 1613، وأخرجه بنحوه البخاري: 3159، 3160، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24145»
وضاحت: فوائد: … یہ بڑا ہی مستعدی کا وقت ہوتا ہے، مجاہد ہی یہ کیفیت بیان کر سکتا ہے، لیکن اس وقت کا انتخاب بھی تب ہی کیا جائے گا، جب لشکرِ اسلام کے امیر کی مرضی ممکن ہو گی اور کوئی مانع بھی نہ ہو، وگرنہ جب دشمن جنگ چھیڑیں گے یا کسی دوسرے وقت میں لڑنے کی بڑی مصلحت نظر آ رہی ہو گی، تو اسی وقت ان سے لڑا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مصطلق پر رات کو حملہ کیا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4969
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَفَفْنَا يَوْمَ بَدْرٍ، فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَةٌ أَمَامَ الصَّفِّ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (مَعِيَ مَعِيَ) )
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے بدر والے دن صفیں بنائیں، کچھ لوگ صف سے آگے بڑھ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا اور فرمایا: میرے ساتھ رہو، میرے ساتھ رہو (یعنی آگے نہ بڑھو)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4969]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني: 4056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23965»
وضاحت: فوائد: … لشکر کی ہر قسم کی ترتیب میں امام اور امیر کی پیروی کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4970
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ جَدِّ أَبِيهِ الْمُخَارِقِ، قَالَ: لَقِيتُ عَمَّارًا يَوْمَ الْجَمَلِ، وَهُوَ يَبُولُ فِي قَرْنٍ، فَقُلْتُ: أُقَاتِلُ مَعَكَ فَأَكُونُ مَعَكَ، قَالَ: قَاتِلْ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَحِبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقَاتِلَ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِهِ
۔ عقبہ بن مغیرہ اپنے باپ کے دادا مخارق سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں جنگ ِ جمل والے دن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو ملا، جبکہ وہ سینگ میں پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ مل کر لڑنا چاہتا ہوں، تاکہ تمہارے ساتھ رہوں، لیکن انھوں نے کہا: تو اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر لڑائی کر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ پسند کرتے تھے کہ آدمی اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر قتال کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4970]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لاضطرابه، أخرجه ابويعلي: 1641، والبزار: 1429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18506»
وضاحت: فوائد: … اس طرح کرنے سے مجاہد دلیری سے لڑتا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4971
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ الْعَدُوَّ غَدًا وَإِنَّ شِعَارَكُمْ {هُمْ لَا يُنْصَرُونَ}) )
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: بیشک تم کل دشمنوں سے ملنے والے ہو، تمہارا شعار یہ ہو گا: {ھُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ}۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4971]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة لضعف اجلح، أخرجه النسائي في الكبري:10452، وابن ابي شيبة: 12/ 504، والحاكم: 2/ 107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18748»
وضاحت: فوائد: … شعار وہ علامت ہے، جس کے ذریعے شبہ پڑ جانے کی صورت میں مجاہد دورانِ جنگ اپنے لشکر کے
افراد کو پہچان سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4972
عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ شِعَارُنَا لَيْلَةَ بَيَّتْنَا فِي هَوَازِنَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمِتْ أَمِتْ وَقَتَلْتُ بِيَدَيَّ لَيْلَتَئِذٍ سَبْعَةً أَهْلَ أَبْيَاتٍ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے جس رات کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوازن پر حملہ کیا تھا، اس دن ہمارا شعار أَمِتْ أَمِتْ (تو مار دے،، تو مار دے) تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر بنایا تھا اور میں نے اس دن اپنے ہاتھوں سے سات افراد کو قتل کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4972]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه أبوداود: 2596، 2638، وابن ماجه: 2840، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16612»
وضاحت: فوائد: … أَمِتْ أَمِتْ کے الفاظ شعار ہیں، اگر ان کا مخاطَب اللہ تعالیٰ ہو تو یہ دشمنوں کے حق میں بد دعا بھی ہوں گے اور اگر ان کا مخاطَب مجاہد ہو تو ان سے لڑنے کی مزید رغبت پیدا ہو گی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں