🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ مُوَادَعَةِ الْمُشْرِكِينَ وَمَصَالِحَتِهِمْ بِالْمَالِ وَغَيْرِهِ
مشرکوں سے عام صلح کرنے یا مال وغیرہ کے عوض صلح کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5147
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا وَكَانَتِ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ تَعَالَى وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سرزمینِ حجاز سے یہود ونصاری کو جلاوطن کیا، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر پر غالب آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غالب آ گئے تھے تو وہ زمین اللہ تعالی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی ہو گئی تھی، بہرحال جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تو یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مطالبہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو یہیں برقرار رکھیں، وہ نصف پھل کے عوض اس علاقے کی کھیتیوں کا کام کریں گے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہم جب تک چاہیں گے، تم لوگوں کو یہاں برقرار رکھیں گے۔ پس وہ وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تیماء اور اریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5147]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2338، 3152، ومسلم: 1551، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6368»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں سے صلح کرتے ہوئے ان کو خیبر میں رہنے کی اجازت دے دی، شرط یہ تھی کہ وہ ان کھیتوں میں کام کریں گے اور اس کام کے عوض نصف پیداوار ان کو دی جائے گی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں