الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ وَعَدْمِ الْغُدْرِ بِمَنْ عِنْدَهُ امان
معاہدہ پورا کرنے اور امان والے آدمی سے دھوکہ نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5137
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي حُسَيْلٌ فَأَخَذَنَا كُفَّارُ قُرَيْشٍ فَقَالُوا إِنَّكُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا قُلْنَا مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ فَأَخَذُوا مِنَّا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَى الْمَدِينَةِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ فَقَالَ انْصَرِفَا نَفِي بِعَهْدِهِمْ وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے غزوۂ بدر میں شرکت کرنے سے روکنے والی چیز یہ تھی کہ میں اور میرے باپ سیدنا حُسَیل رضی اللہ عنہ نکلے، لیکن کفار ِ قریش نے ہم کو پکڑ لیا اور انھوں نے کہا: بیشک تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جانا چاہتے ہو، ہم نے کہا: ہم تو صرف مدینہ جا رہے ہیں، پھر انھوں نے ہم سے اللہ تعالیٰ کا عہد اور پکا وعدہ لیا کہ ہم واقعی مدینہ جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر قتال نہیں کریں گے، پس جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واقعہ کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم چلے جاؤ، ہم ان سے کیے گئے تمہارے معاہدے کو پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں گے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5137]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1787، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23746»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5138
عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ كَانَ مُعَاوِيَةُ يَسِيرُ بِأَرْضِ الرُّومِ وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ أَمَدٌ فَأَرَادَ أَنْ يَدْنُوَ مِنْهُ فَإِذَا انْقَضَى الْأَمَدُ غَزَاهُ فَإِذَا شَيْخٌ عَلَى دَابَّةٍ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَفَاءٌ لَا غَدْرٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلَا يَحُلَّنَّ عُقْدَةً وَلَا يَشُدَّهَا حَتَّى يَنْقَضِيَ أَمَدُهَا أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَرَجَعَ وَإِذَا الشَّيْخُ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
۔ سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روم کی سرزمین میں چل رہے تھے، جبکہ اُن کے اور اِن کے مابین معاہدہ تھا، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ ان کے قریب ہو جائیں، تاکہ جب عہد کی مدت ختم ہو ان پر حملہ کر دیا جائے،لیکن ایک بزرگ، جو کسی چوپائے پر سوار تھا، نے کہا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، عہد پورا کیجیے، عہد شکنی مت کیجیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی آدمی نے کسی قوم سے کوئی عہد کیا ہو تو وہ نہ عہد شکنی کرے اور نہ اس کو مضبوط کرے، یہاں تک کہ مدت ختم ہو جائے یا (ان سے دھوکے کے ڈر کی وجہ سے) انھیں معاہدہ توڑنے کی خبر دے (تاکہ مد مقابل بھی عہد توڑنے میں) اس کے برابر ہو جائے۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ لوٹ گئے، یہ بزرگ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5138]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بشاھده، أخرجه أبوداود: 2759، والترمذي: 1580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17140»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ حدیث میں عہد و پیمان کی مدت تو پوری ہو چکی تھی، دراصل بات یہ ہے کہ جب رومیوں سے معاہدہ طے ہوا تھا، اس وقت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ملک میں تھے۔ جب اس معاہدے کی مدت ختم ہو گی تو اس وقت بھی ان کو اپنے ملک میں ہی ہونا چاہئے تھا، نہ کہ وہ معاہدے کی مدت میں روم کے قریب پہنچ جائیں اور جونہی مدت ختم ہو تو ان پر چڑھائی کر دی جائے۔ ماحصل یہ ہے کہ جب معاہدے کی مدت ختم ہو تو دونوں فریق اپنے اپنے ممالک میں ہوں، پھر نئی پالیسی پر عمل کیا جائے۔ (ماخوذ از تحفۃ الاحوذی)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5139
عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ بَعَثَتْنِي قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَالَ إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ وَارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَإِنْ كَانَ فِي قَلْبِكَ الَّذِي فِيهِ الْآنَ فَارْجِعْ قَالَ بُكَيْرٌ وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قریشیوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام داخل ہو گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان کی طرف نہیں لوٹوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہ معاہدہ توڑتا ہوں اور نہ قاصدوں کو روکتا ہوں، تو اب ان کی طرف لوٹ جا، اگر تیرے دل میں وہ خیال رہا جو اب ہے تو لوٹ آنا۔ بکیر راوی کہتے ہیں: حسن نے مجھے بتلایا کہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ قبطی تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5139]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 2758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23857)_x000D_
(5139) حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 2758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23857 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24358»
وضاحت: فوائد: … اسلام سے متأثر ہو جانے والے قاصدوں کو نہ روکنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو کفر اور ارتداد کی طرف واپس لوٹا رہے ہیں، بلکہ قاصد کا واپس جانے کے باوجود اسلام پر برقرار رہنا ممکن ہے۔ مسند احمد کی دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ بعد میں واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹ آئے تھے اور اسلام قبول کر لیا تھا، اگر ایسے مقام پر مسلمان ہو جانے والے قاصدوں کو روک لیا جائے تو اس سے پیغام رسانی اور قاصدیت کا نظام متاثر ہو گا اور قاصدوں کے بارے میں کسی سے دھوکہ کرنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5140
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بھی ہم سے خطاب کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا کوئی ایمان نہیں، جو امانت پوری نہیں کرتا اور اس آدمی کا کوئی دین نہیں، جس میں معاہدے کی پاسداری نہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5140]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12595»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5141
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حِلِّهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَجِدَ رِيحَهَا
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بغیر کسی حق کے ذمی کو قتل کر دیا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو اس طرح حرام کر دے گا کہ وہ اس کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5141]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2760، والنسائي: 8/ 25، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20668»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5142
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک خطاب میں فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے اورذمی کو اس کے عہد میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5142]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه أبوداود: 4506، وابن ماجه: 2659، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6690 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6690»
وضاحت: فوائد: … ذمی اس شخص کو کہتے ہیں جس سے معاہدہ کر کے اس کے جان و مال، عزت و آبرو اور مذہب کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5143
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ يَقُولُ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا غَدْرَةَ أَعْظَمُ مِنْ غَدْرَةِ إِمَامِ عَامَّةٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس فرمایا تھا: روزِ قیامت ہر دھوکہ باز کے لیے جھنڈا گاڑھا جائے گا اور عوام کے حکمران کے دھوکے سے بڑا دھوکہ کوئی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5143]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6177، ومسلم: 1735، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5378»
وضاحت: فوائد: … غدر اور دھوکہ مطلق طور پر حرام ہے، بالخصوص اس وقت اس کی حرمت بڑھ جاتی ہے، جب حکمران اس جرم میںملوث ہو جائے، کیونکہ اس کے ضرر سے خلق کثیر متأثر ہو سکتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5144
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5144]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1738، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11351 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11371»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5145
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر دھوکہ باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا، اس کے ذریعے اس کو پہچانا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5145]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3187، ومسلم: 1737، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12443 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12470»
وضاحت: فوائد: … اس جھنڈے کی کیفیت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے، بہرحال ہر جھنڈے سے حشر والوں کو یہ علم ہو جائے کہ وہ فلاں قسم کا دھوکے باز ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5146
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ وَيُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر دھوکے باز کا ایک جھنڈا ہو گا اور ساتھ کہا جائے گا کہ یہ فلاں کا دھوکہ ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَمَانِ وَالصُّلْحِ وَالْمُهَادَنَةِ/حدیث: 5146]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطيالسي: 254، وابوعوانة: 4/ 73، والبيھقي: 9/ 142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3959»
الحكم على الحديث: صحیح