صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
52. باب فَضْلِ الرَّمْيِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ وَذَمِّ مَنْ عَلِمَهُ ثُمَّ نَسِيَهُ:
باب: تیراندازی کی فضیلت کے بیان میں اور اس شخص کی مذمت کے بیان میں جس نے سیکھ کر بھلا دیا۔
ترقیم عبدالباقی: 1917 ترقیم شاملہ: -- 4946
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِر ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: " وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ سورة الأنفال آية 60، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ".
ثمامہ بن شُفی سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ منبر پر فرما رہے تھے: ”(عربی) تم ان کے مقابلے کے لیے جتنی کر سکو، قوت تیار کرو۔“ (الانفال 60: 8) سن رکھو! قوت تیر اندازی (کا نام) ہے، سن رکھو! قوت تیر اندازی (کا نام) ہے، سن رکھو! قوت تیر اندازی (کا نام) ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4946]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا: ﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ﴾ [سورة الأنفال: 60] ”جہاں تک تمہارے بس میں ہے، ان کے لیے قوت (طاقت، اسلحہ) تیار کرو، خبردار! «أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ» قوت تیر اندازی ہے، خبردار! «أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ» قوت تیر اندازی ہے، خبردار! «أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ» قوت تیر اندازی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4946]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1917
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1918 ترقیم شاملہ: -- 4947
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ أَرَضُونَ وَيَكْفِيكُمُ اللَّهُ، فَلَا يَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ ".
ابن وہب نے کہا: مجھے عمرو بن حارث نے ابوعلی (ثمامہ بن شفی) سے خبر دی، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جلد ہی تمہارے لیے بہت سی زمینوں (پر قبضے) کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور اللہ تمہارے لیے کافی ہو گا، اس لیے تم میں سے کوئی اپنے تیروں کی مشق سے غافل نہ رہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4947]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب تمہارے لیے مختلف علاقے فتح کر دیے جائیں گے اور اللہ تمہارے لیے کافی ہو گا، سو تم میں سے کوئی بھی اپنے تیروں کے ساتھ کھیلنے (یعنی ان کی مشق میں مشغول رہنے) سے عاجز نہ آئے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4947]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1918
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1918 ترقیم شاملہ: -- 4948
وحَدَّثَنَاه دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
حارث بن یعقوب نے عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت کی کہ فُقَیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ (تیر چھوڑنے اور جا لگنے کے) ان دو نشانوں کے درمیان چکر لگاتے ہیں جبکہ آپ بوڑھے ہیں اور یہ آپ کے لیے باعث مشقت بھی ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ تکلیف نہ اٹھاتا۔ حارث نے کہا: میں نے ابن شماسہ سے پوچھا: وہ بات کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جس شخص نے تیر اندازی سیکھی، پھر اس کو ترک کر دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ یا (فرمایا:) ”اس نے نافرمانی کی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4948]
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاذ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4948]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1918
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1919 ترقیم شاملہ: -- 4949
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، أَنَّ فُقَيْمًا اللَّخْمِيَّ، قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: تَخْتَلِفُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْغَرَضَيْنِ وَأَنْتَ كَبِيرٌ يَشُقُّ عَلَيْكَ، قَالَ عُقْبَةُ : لَوْلَا كَلَامٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُعَانِيهِ، قَالَ الْحَارِثُ: فَقُلْتُ لِابْنِ شَمَاسَةَ: وَمَا ذَاكَ؟، قَالَ: إِنَّهُ قَالَ: " مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَى ".
حارث بن یعقوب نے عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت کی کہ فُقَیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ (تیر چھوڑنے اور جا لگنے کے) ان دو نشانوں کے درمیان چکر لگاتے ہیں جبکہ آپ بوڑھے ہیں اور یہ آپ کے لیے باعث مشقت بھی ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ تکلیف نہ اٹھاتا۔ حارث نے کہا: میں نے ابن شماسہ سے پوچھا: وہ بات کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جس شخص نے تیر اندازی سیکھی، پھر اس کو ترک کر دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ یا (فرمایا:) ”اس نے نافرمانی کی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4949]
فقیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ان دو نشانوں کے درمیان آتے جاتے ہیں اور آپ بوڑھے ہیں، آپ کے لیے یہ مشکل (مشقت کا) کام ہے، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ مشقت نہ جھیلتا، حارث کہتے ہیں: میں نے ابن شماسہ سے پوچھا: وہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اسے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے“، یا فرمایا: ”اس نے نافرمانی کی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4949]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1919
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة