یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
52. باب فضل الرمي والحث عليه وذم من علمه ثم نسيه:
باب: تیراندازی کی فضیلت کے بیان میں اور اس شخص کی مذمت کے بیان میں جس نے سیکھ کر بھلا دیا۔
ترقیم عبدالباقی: 1918 ترقیم شاملہ: -- 4948
وحَدَّثَنَاه دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
حارث بن یعقوب نے عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت کی کہ فُقَیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ (تیر چھوڑنے اور جا لگنے کے) ان دو نشانوں کے درمیان چکر لگاتے ہیں جبکہ آپ بوڑھے ہیں اور یہ آپ کے لیے باعث مشقت بھی ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ تکلیف نہ اٹھاتا۔ حارث نے کہا: میں نے ابن شماسہ سے پوچھا: وہ بات کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جس شخص نے تیر اندازی سیکھی، پھر اس کو ترک کر دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ یا (فرمایا:) ”اس نے نافرمانی کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4948]
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4948]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1918
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4948 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4948
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ کی پیش گوئی کے مطابق مسلمانوں کو جلد ہی فتوحات حاصل ہونے والی تھیں اور رومی لوگ بہت بڑے تیر انداز تھے،
اس لیے مسلمانوں کے لیے ضروری تھا،
وہ تیر اندازی میں مہارت پیدا کرتے،
تاکہ رومیوں سے جنگوں میں،
اس سے صحیح فائدہ اٹھا سکتے اور اصل اعتماد اور بھروسہ مسلمان کا اللہ تعالیٰ پر ہو گا،
وہی مسلمانوں کو دشمن کے شر سے محفوظ فرماتا ہے اور تیر اندازی کو لهو (کھیل،
تماشہ)
سے تعبیر کیا گیا ہے تاکہ اس کی طرف میلان میں آسانی پیدا ہو۔
فوائد ومسائل:
آپ کی پیش گوئی کے مطابق مسلمانوں کو جلد ہی فتوحات حاصل ہونے والی تھیں اور رومی لوگ بہت بڑے تیر انداز تھے،
اس لیے مسلمانوں کے لیے ضروری تھا،
وہ تیر اندازی میں مہارت پیدا کرتے،
تاکہ رومیوں سے جنگوں میں،
اس سے صحیح فائدہ اٹھا سکتے اور اصل اعتماد اور بھروسہ مسلمان کا اللہ تعالیٰ پر ہو گا،
وہی مسلمانوں کو دشمن کے شر سے محفوظ فرماتا ہے اور تیر اندازی کو لهو (کھیل،
تماشہ)
سے تعبیر کیا گیا ہے تاکہ اس کی طرف میلان میں آسانی پیدا ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4948]
Sahih Muslim Hadith 4948 in Urdu
ثمامة بن شفي الهمداني ← عقبة بن عامر الجهني