الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَاب مَا يَسْتَحِبُّ أَنْ تُعْطَى الْمُرْضِعَةُ عِندَ الفِطَامِ
دودھ چھڑاتے وقت عورت کو کچھ دینے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6983
عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ قَالَ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ
۔ سیدنا حجاج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کونسی چیز ہے، جو دودھ پلانے والی کے حق کو مجھ سے ادا کر سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام یا ایک لونڈی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6983]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابوداود: 2064، والترمذي: 1153، والنسائي: 6/ 108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15825»
وضاحت: فوائد: … اس حق سے مراد اجرت نہیں ہے، اجرت علیحدہ چیز ہے اور دودھ چھڑاتے وقت مرضِعہ کو عطیہ دینا علیحدہ چیز ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدت ِ رضاعت کی تکمیل پر مرضِعہ کو ایک غلام یا لونڈی دے کر اس کے احسان کا جواب دیا جائے، جیسے اس نے بڑی احتیاط سے ایک بچے کو پالا پوسا اور اس کی خدمت کر کے اس کو سہارا دیا اور والدین کی اس مشقت سے مستغنی کیے رکھا، ایسے ہی غلام یا لونڈی کی صورت میں اس کو ایک نفس کا عطیہ دیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح