الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ الرُّحْصَةِ فِي نِكَاحَ الْمُتْعَةِ ثُمَّ نَسْخِهِ
ممنوعہ نکاحوں کا بیان نکاح متعہ کی رخصت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 6984
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْهُ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا بَعْدُ فِي أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} [المائدة 87]
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں مصروف تھے، ہمارے پاس بیویاں نہیں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم خصی نہ ہوجائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور پھر ہمیں یہ اجازت دے دی کہ ہم مقررہ مدت تک کپڑے وغیرہ کے عوض میں عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں، (جس کو متعہ کہتے ہیں)، پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: اے ایمان والو! اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں، ان کو حرام نہ قرار دو اور زیادتی نہ کرو، بیشک اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۂ مائدہ: ۸۷) [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6984]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5075، ومسلم: 1404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3986»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6985
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنَّا فِي غَزَاةٍ فَجَاءَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اسْتَمْتِعُوا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ اور سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں تھے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے ہیں کہ تم لوگ (نکاحِ متعہ کی صورت میں) فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6985]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5117، 5118، ومسلم: 1405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16618»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6986
(وَعَنْهُمَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَا خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنَ لَكُمْ فَاسْتَمْتِعُوا يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَاءِ
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامنادی ہمارے پاس آیا اور اس نے یہ اعلان کیا: بے شک اللہ کے رسول نے تم کو اجازت دی ہے، پس تم فائدہ حاصل کر سکتے ہو، یعنی نکاح متعہ کی صورت میں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6986]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16649»
وضاحت: فوائد: … یہ غزوۂ اوطاس کا واقعہ ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6987
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَسْتَمْتِعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالثَّوْبِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں کپڑے کے عوض نکاح متعہ کر لیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6987]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11182»
وضاحت: فوائد: … اتفاقی طور پر کپڑے کا ذکر کیا گیا ہے، وگرنہ عورت کی رضامندی کے مطابق کوئی چیز بھی دی جا سکتی تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6988
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا نَتَمَتَّعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ حَتَّى نَهَانَا عُمَرُ أَخِيرًا يَعْنِي النِّسَاءَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں اور سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں عورتوں سے نکاح متعہ کیا کرتے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آخر میں ہمیں منع کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6988]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14319»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جن صحابہ نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر d کے ادوارِ خلافت میں نکاحِ متعہ کیا، ان کو ناسخ دلیل کا علم نہیں تھا، بالآخر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کوبھی منع کر دیا۔
الحكم على الحديث: صحیح