🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. بَابُ التَّسْمِيَةِ وَالسَّسَتْرِ عِنْدَ الْجِمَاعِ وَالْوُضُوءِ عِنْدَ الْعَوْدِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7072
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَإِنْ قُدِّرَ بَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّ ذَلِكَ الْوَلَدَ الشَّيْطَانُ أَبَدًا
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنی بیوی کے پاس آنے سے پہلے یہ دعا پڑھتا ہے: بِسْمِ اللّٰہ اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنِی الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیَطَانَ مَارَزَقْتَنَا (اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے بچا اور اس اولاد کو بھی شیطان سے محفوظ رکھ، جو تو مجھے عطا کرے)۔ اگر میاں بیوی کے اس تعلق میں اولاد کا فیصلہ کر دیا گیا تو شیطان کبھی بھی اس کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7072]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 141، 3271، 5165، ومسلم: 1434، وابوداود!: 2161، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1867»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7073
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ قَالَ احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ قَالَ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَيَنَّهَا قُلْتُ فَإِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا قَالَ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ وَفِي رِوَايَةٍ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَرْجِهِ
۔ سیّدنامعاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنی عورات(یعنی ستروالے مقامات) میں سے کسے دیکھ سکتے ہیں اور کسے نہیں دیکھ سکتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوی اور لونڈی کے علاوہ (باقی سب لوگوں سے) اپنے ستر کی حفاظت کر۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہوں تو؟ آپ نے فرمایا: اگر تجھ میں یہ استطاعت ہے کہ کوئی بھی (تیرے ستر) کو نہ دیکھنے پائے تو وہ ہرگز نہ دیکھے۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جب کوئی آدمی اکیلا ہو تو؟ آپ نے جواب دیا: اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے حیا کیا جائے۔۔ ایک روایت کے مطابق (بات سمجھانے کے لیے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اپنی شرمگاہ پر رکھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7073]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4017، والترمذي: 1920، 2769، وابن ماجه: 1920، والجملة الاخيرة اي ’’فوضعھا علي فرجه‘‘ اسنادھا حسن ايضا و أخرجھا عبد الرزاق: 1106، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 989، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20034، 20035)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20287، 20296»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل روایت سے اپنا پردہ کرنے کا اندازہ ہو جاتا ہے:
سیدنایعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِV رَأٰی رَجُلًا یَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَلِیمٌ حَیِیٌّ سِتِّیرٌیُحِبُّ الْحَیَاء َ وَالسَّتْرَ فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْتَتِرْ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھلی جگہ میں غسل کرتے دیکھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے، اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: بیشک اللہ تعالی بہت بردبار، حیادار اور پردے والا ہے اور حیا اور پردے کو پسند کرتا ہے، لہذا جب تم میں سے کوئی آدمی غسل کرے تو پردے میں کرے۔
(ابوداود: ۴۰۱۲، نسائی: ۴۰۶)
کوئی ہو یا نہ ہو، کسی اوٹ میںیا پردے والے مقامات کا پردہ کر کے غسل کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7074
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ مَا نَظَرْتُ إِلَى فَرْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطُّ أَوْ مَا رَأَيْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطُّ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کبھی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شرمگاہ کو نہیں دیکھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7074]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عائشةC، أخرجه الترمذي في ’’الشمائل‘‘: 52، وابن ابي شيبة: 1/ 106، والطبراني في ’’الصغير‘‘: 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24344 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24848»
وضاحت: فوائد: … میاں بیوی کا عضو ایک دوسرے کے لیے دیکھنا جائز ہے۔ کیونکہ منع کی کوئی دلیل نہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7075
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَى الرَّجُلُ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ الْعَوْدَ تَوَضَّأَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنی بیوی سے صحبت کرے اور پھر وہ دوبارہ آنا چاہے تو وضو کر لے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7075]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11178»
وضاحت: فوائد: … ایک صحیح روایت میں فَاِنَّہ اَنْشَطُ لِلْعَوْدِ (کیونکہ اس طرح دوبارہ آنے میں زیادہ چستی پیدا ہو جائے گی) کے الفاظ ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7076
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتَوَضَّأُ إِذَا جَامَعَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ قَالَ سُفْيَانُ أَبُو سَعِيدٍ أَدْرَكَ الْحَرَّةَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی جماع کرنے لگے تو وضو کرے، اسی طرح جب دوبارہ جماع کرنا چاہے تو پھر وضو کر لے۔ امام سفیان نے کہا: ابو سعید نے حرّہ کو پایا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7076]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11050»
وضاحت: فوائد: … مدینہ کے قریب سیاہ پتھروں والی ایک زمین کو حرہ کہتے ہیںیزید بن معاویہ نے اپنے دور میں ایک لشکر مدینہ والوں سے لڑائی کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ اس کو واقعہ حرۃ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ۶۳ میں پیش آیا اور ابو سعید خدری۶۴یعنی اس واقعہ کے ایک سال بعد فوت ہوئے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں